ایم سی بی بینک کا 2017کے مالیاتی نتائج کا اعلان

ایم سی بی بینک کا 2017کے مالیاتی نتائج کا اعلان

لاہور( پ ر)ایم سی بی بینک لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس 31 دسمبر، 2017 کو اختتام پذیر ہونے والے سال کے دوران بینک کی کارکاردگی کا جائزہ لینے اور مالیاتی گوشواروں کی منظوری کے سلسلے میں میاں محمد منشاء کی زیر صدارت منعقد ہوا۔سال 2017 میں بینک نے این آئی بی بینک لمیٹڈ کے ایم سی بی بینک لمیٹڈ میں انضمام کو مکمل کیا۔ انضمام سے ہم آہنگی کی بناء پر این پی ایل کی وصولیوں اور ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے مالیاتی اعدادوشمار پر اثر انداز ہوئے۔مالیاتی کارکردگی کی جانب، ایم سی بی بینک لمیٹڈ کا منافع قبل از ٹیکس 31.01 ارب روپے اور منافع بعد از ٹیکس 22.46 ارب روپے رپورٹ کیا گیا۔ پچھلے سال کے مقابلے قبل از ٹیکس منافع میں 14.03 فیصد کی کمی آئی ہے جبکہ بعد از ٹیکس منافع میں پیشگی ٹیکس سال کے اخراجات کی واپسی کی بناء پر 2.59 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بینک کی نیٹ مارک اپ آمدن 42.41 ارب روپے رہی جو کہ گذشتہ سال کی مماثل مدت کے مقابلے میں زیادہ پیداواری بانڈز کی میچورٹی اور شرح سود میں کمی کے ماحول کی وجہ سے 3.21 فیصد کم رہی ہے۔ گراس مارک اپ آمدن کی جانب سے بینک نے 6.69 ارب روپے کا اضافہ رپورٹ کیا ہے جبکہ سود کے اخراجات کی جانب بینک نے پچھلے سال کے مقابلے میں 8.09 ارب روپے کا اضافہ رپورٹ کیا گیا۔

اپنے نیٹ انٹرسٹ مارجن کو پورا کرنے کے لیے بینک اپنے کم لاگت کے ڈپازٹ کی بنیاد کو بڑھانے اور زیادہ پیداواری اثاثوں میں قسمت آزمائی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

نان مارک اپ آمدن کے محاذ پر بینک نے پچھلے نصف سال کے بعد کیپٹل مارکیٹ میں معنی خیز اتار چڑھاؤ کے باوجود مقابلتاً 11 فیصد کہ بہتری کے ساتھ 17.96 ارب روپے کی بنیاد رپورٹ کی ہے۔ نان مارک اپ آمدن میں بہتری میں اہم حصہ عملی نوعیت کا فیس اور کمیشن میں اضافے (+22.44%YoY) اور زرِمبادلہ میں لین دین سے آمدن (+42.93%YoY) کا ہے۔

بینک کے ایڈمنسٹریٹو اخراجات کی مد میں (ماسوائے پینشن فنڈ ریورسل) گذشتہ سال سے 23.62 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ این آئی بی بینک لمیٹڈ کے ایم سی بی بینک لمیٹڈ میں انضمام ہے۔ بہم رسائی میں، ایڈوانسیز کی مد میں بہم رسائی میں بینک نے وصولیوں کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے اور 2.90 ارب روپے کی واپسی دیکھنے میں آئی ہے۔ایکوئیٹی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر، ایکوئیٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری سے کل نقصان 3.57 ارب روپے کا دیکھا گیا۔

ایم سی بی بینک کے کل اثاثے کی بنیاد منفرد بنیادوں پر 1.33 کھرب روپے ہے جس میں دسمبر 2016کے مقابلے میں 26.19 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مرکب اثاثہ جات کے تجزیہ کرتے ہوئے دسمبر 2016 سے کل سرمایہ کاری میں 101.04 ارب روپے (+18.17%) کا اضافہ ہوا اور مجموعی زرِ پیشگی میں +34.83 فیصد اضافے کے ساتھ 121.24 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ بینک کی کوریج کی شرح اور انفیکشن ریشو (Infection Ratio) بالترتیب 93.74فیصد اور 9.47 فیصد رہی۔

ادائیگیوں کی طرف، بینک کے ڈیپازٹ کی بنیاد نے دسمبر 2016 سے 187.05ارب روپے (+23.94 فیصد) کا شاندار اضافہ بشمول سابقہ این آئی بی بینک لمیٹڈ کے 61 ارب روپے کا حصہ، دیکھنے میں آیا۔ ڈپازٹس میں نمایاں اضافے کے نتیجے میں ایم سی بی نے بہترین ڈپازٹس کی بنیاد پر 968 ارب روپے کے ڈپازٹس حاصل کیے مجموعی طور پر ڈپازٹس سے ایک کھرب روپے کے نشان کو عبور کیا۔ ایم سی بی بینک لمیٹڈ نے دسمبر 2016 کے بعد بینکاری کی صنعت میں 92.86 فیصد، کرنٹ ڈیپازٹس میں 27 فیصد اور بچت ڈپازٹس میں 19 فیصد اضافے کے ساتھ کے سب سے اعلیٰ کاسا مرکب (CASA mix) میں بہتری کے عمل کو جاری رکھا۔ کرنٹ اکاؤنٹ کو توجہ کا مرکز بنانے کی حکمتِ عملی سے مجموعی ڈپازٹ کی بنیاد پر 38.94 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ فی حصص آمدنی 19.56 روپے ظاہر کی گئی جو کہ 2016 میں 19.67 روپے تھی۔ اثاثہ جات پر منافع اور کمپنی کے عمومی حصص پر منافع بالترتیب 1.89 فیصد اور 17.65 فیصد بیان کیا گیا جبکہ بُک ویلیو فی حصص 115.18 روپے پر رہی۔

بینک سرمایہ کی بنیاد پر قائم ضوابط کی پابندی اور مضبوط سرمائے کی بدولت ایک اچھا سرمایہ کار ادارہ رہا۔ ریگولیٹری سرمایہ کی ضروریات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بینک نے اس صنعت میں سب سے زیادہ فی حصص نقد منافع منقسمہ باقاعدگی سے عبوری منافع کی مد میں ادا کیا اور سب سے اعلیٰ مارکیٹ سرمایہ کاری کی بدولت مالیاتی اداروں کی کیٹگری میں 31 دسمبر، 2017 کو پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں ایک پرائم سٹاک کی حیثیت رہا ہے۔ بینک کی کل سرمایہ کی مناسبت کی شرح 16.44 فیصد رہی جس کے مقابلے میں ضروریات 11.275 فیصد (بشمول سرمائے کی تبدیلی پر اثرانداز 1.275فیصد) رہی۔سرمائے کا معیار بینک کی کامن ایکوٹی ٹائر۔1 (CET1) سے واضح ہے جس میں کل رسک ویٹڈ اثاثہ جات کی شرح طلب 6.00 فیصد کے مقابلے میں 14.42 فیصد رہی ہے۔ بینک کی بہتر سرمائے کی فراہمی کے نتیجے میں لیوریج کی شرح 7.67 فیصد رہی جو کہ ریگولیٹری حد 3.0 فیصد سے کافی زائد ہے۔ بینک نے بالترتیب 90 فیصد اور 100 فیصد کے مقابلے میں لیکوئڈیٹی کوریج ریشو (LCR) 194.13 فیصد اور نیٹ سٹیبل فنڈنگ ریشو (NSFR) 128.80 فیصد بیان کی ہے۔

پاکستان کریڈٹ ڑیٹنگ ایجنسی (PACRA) کے نوٹیفیکیشن بتاریخ 19جون، 2017 کی بنیاد پر بینک لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم کریڈٹ ریٹنگ بالترتیب AAA/A1+ کے ساتھ بینک مقامی کریڈٹ ریٹنگ میں سب سے بہترین رہا ہے۔ مزید برآں، PACRA کے بتاریخ 6 اکتوبر، 2017 کے نوٹیفیکیشن کی بنیاد پر ایم سی بی بینک (سابقہ این آئی بی ) کی ٹی ایف سی ریٹنگ A+ سے AAA پر ترقی کرگئی ہے۔

بینک نے اپنی 90 برانچوں کی ایم سی بی بینک سے علیحدگی اور اپنے کلی مکیتی ادارے ایم سی بی اسلامک بینک لمیٹڈ میں انضمام کے لیے معزز لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 31 دسمبر، 2017 کو اختتام پذیر ہونے والے سال کے لیے 4.0 روپے حتمی نقد منافع منقسمہ جو کہ حصص یافتگان کو پہلے سے ادا کردہ 12 روپے کے عبوری منافع منقسمہ کے علاوہ دیئے جانے کی منظوری دی۔

مزید : کامرس


loading...