بھارتی گھریلو جھگڑوں پر مشتمل ڈراموں کا اثر ، طلاق کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ

بھارتی گھریلو جھگڑوں پر مشتمل ڈراموں کا اثر ، طلاق کی شرح میں خطرناک حد تک ...

لاہور(دیبا مرزا سے) معاشرے میں عدم برداشت کی فضاء یا پھر بڑھتے ہوئے سوشل میڈیا اور ہمسایہ ممالک بھارت کے گھریلو جھگڑوں پر مشتمل ڈراموں کا اثر صوبائی دارلحکومت لاہور کی مختلف یونین کونسلوں میں نواجوان لڑکیوں کی طلاق کی شرح میں خطرناک حد ک اضافہ ہونے لگا یونین کونسلوں کے چیئرمینوں نے ہر جمعرات کے دن کو طلاق اور خلع لینے والی ان خواتین کی درجنوں درخواستوں کو نمٹانے کے لئے وقف کردیا ہے اور اس دن وہ دونوں فریقین کو بلا کر اور انہیں آمنے سامنے بیٹھاکر ان کے درمیان صلح صفائی کروانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس دوران لڑکیوں اور ان کے والدین کی طرف سے کسی بھی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا بلکہ وہ بضد ہوتے ہیں کہ ان کی بیٹی کو جلد سے جلد طلاق دلوادی جائے ۔تفصیلات کے مطابق یونین کونسلوں کے نظام کو عملی طور پر فعال ہونے کی وجہ سے اب طلاق اور خلع کے کیسز چونکہ ان یونین کونسلوں کے چیئرمینوں کے پاس آتے ہین اور ان کیسز میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور جن وجوہات کو بنیاد بنا کر طلاق یا پھر خلع کے لئے رجوع کیا جاتا ہے وہ وجوہات بڑی عجیب و غیر یب سی ہیں جن میں کسی کو اس بات پر اعتراض ہے کہ ان کی بہو کو صحیح طرح سے کھانا نہیں بنانا آتا وہ کھانے میں ٹماٹر یا پیاز یا پھر کوکنگ آئل زیادہ ڈال دیتی ہے کسی کو یہ اعتراض ہے کہ ان کی بہو جو ہے اپنے ساتھ جو گاڑی جہیز میں لیکر آئی ہے اس کو لکیریں کیوں ڈالتی ہے اور کسی کو یہ اعتراض ہے کہ فلاح کا شوہر اس کو فلاں جگہ پر لیکر جاتا ہے اور فلاں جگہ سے کپڑے اور شاپنگ کرواتا ہے لہذا مجھے بھی وہی سٹیٹس مہیا کیا جائے جس کی وجہ سے ان جوڑوں کے درمیان لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں اور پھر نوبت طلاق اور خلع تک پہنچ جاتی ہے اور اسی وجہ سے ان کیسز میں روز مرہ کے لحاظ سے اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ۔اس حوالے سے مختلف یونین کونسلوں کے چیئرمینوں کا کہنا تھا کہ ہماری تو یہی کوشش ہوتی ہے کہ طلاق یا خلع کی بجائے صلح صفائی کروادی جائے لیکن اگر لڑکی اور اس کے والدین ہی اگر لچک کا مظاہرہ نہیں دکھائیں گے تو پھر اکیلا چیئرمین کیا کرے گا ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ کبھی والدین کے لئے طلاق جیسی چیز ایک لعنت اور خطرناک بات تصور کی جاتی تھی لیکن اب والدین ہی اپنی بچیوں کو سمجھانے کی بجائے الٹا انہیں شہ دے رہے ہوتے ہیں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...