بھنبھوٹ بھنے گا جادن کوں!

بھنبھوٹ بھنے گا جادن کوں!
بھنبھوٹ بھنے گا جادن کوں!

  


کسی شہر میں ایک ’’مہا فراڈیا‘‘ آیا، ایک صراف کی دکان پر گیا اور سونے کے چند پرانے سکّے دکھا کر کہنے لگا، ان کی قیمت کیا ہوگی؟۔۔۔ صراف نے حلیہ دیکھا، دیہاتی اور معصوم نظر آ رہا تھا، چہرے پر بھولپن ہی بھولپن دکھائی دے رہا تھا، صراف نے سوچا، کہیں سے پرانے سکّے ہاتھ لگ گئے ہوں گے، اس کو کیا معلوم ان کی قدر و قیمت کیا ہے؟ اس کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دوں، کہنے لگا۔ ’’بیٹھو، ابھی پرکھ کرکے بتاتا ہوں۔‘‘ الٹنے پلٹنے میں تھوڑی دیر لگائی، ’’ماہرانہ رویہ‘‘ اختیار کرتے ہوئے اور اپنائیت کا احساس دلا کر کہنے لگا ’’آپ کو دیکھ کر مجھے اپنے مرحوم چچا یاد آ گئے ہیں، میں آپ کو بازار سے زیادہ دام دوں گا‘‘ اور معمولی قیمت لگا کر رقم حوالے کر دی۔‘‘

فراڈئیے نے خاموشی سے وہی معمولی رقم پکڑی، صراف کا شکریہ ادا کیا اور چلا گیا، دو دن بعد پھر بازار آیا، اسی صراف کے پاس گیا اور سونے کے چند اور سکّے اس کے سامنے رکھ دیئے، اُس نے پہلے کی طرح، میٹھی میٹھی اور چکنی چپڑی باتیں کیں اور وہی معمولی قیمت ادا کرکے، چائے پانی کا پوچھا مگر ’’دیہاتی‘‘ نے رقم پکڑی، شکریہ ادا کیا اور چلا گیا، چند روز بعد پھر بازار آیا اور چند اور سکّے، اسی صراف کے حوالے کئے، صراف نے اسی اپنائیت بھرے میٹھے لہجے میں کہا ’’بھائی جان! یہ سکّے آپ کے ہاتھ کیسے لگے، اس نے کہا ’’آپ چونکہ مجھے اپنا سمجھتے ہیں، اس لئے بتا دوں کہ مجھے کہیں سے ایک مٹکا ملا ہے جس میں سونا ہی سونا ہے، مجھے جیسے جیسے ضرورت پڑتی ہے، ویسے ویسے تھوڑا سا سونا لاکر بیچتا ہوں اور اپنی ضروریات پوری کر لیتا ہوں۔‘‘

صراف نے کہا ’’آپ ایک ہی بار مجھے بیچ دیں، میں اس سے زیادہ بھی قیمت ادا کرنے کو تیار ہوں۔‘‘

دیہاتی نے اگلے روز آنے کی حامی بھری اور ساتھ ہی کہا ’’ڈرتا ہوں کسی کو پتہ چل گیا تو لُٹ نہ جاؤں۔‘‘

صراف نے کہا ’’کسی کو خبر نہ ہوگی، آپ مجھے لا کر دیں، میں اچھی رقم دوں گا۔‘‘ ’’بھولا بھالا دیہاتی‘‘ چلا گیا اور اگلے روز ایک بھاری بھرکم تھیلے کے ساتھ آ ٹپکا۔ تھیلے سے دو بڑے بڑے بھنبھوٹ (گولے) نکال کر صراف کے سامنے رکھ دیئے، صراف نے اتنا زیادہ سونا دیکھا تو مزید لالچ میں آ گیا، سوچنے لگا ’’اس کے پاس اور بھی سونا ہوگا، وہ بھی ہتھیایا جائے اور اس کی یہی صورت ہے کہ پہلے سے زیادہ رقم دوں اور دوسرے بازار کے کسی اور صراف کو پتہ نہ لگنے دوں۔ اس نے فوراً اندازہ لگا کر وزن کیا اور وزن کے مطابق بھاری بھرکم قیمت ادا کی، جس سے تھیلا پھر بھر گیا۔

صراف نے کہا ’’بھائی آپ رہتے کہاں ہیں؟ آپ کا خاندان کون سا ہے؟ مٹکا ملا تھا یا کوئی خزانہ؟۔۔۔ باقی سونا کتنا ہے؟ وہ کب لاؤ گے؟ اس ’’بھولے بھالے دیہاتی‘‘ نے صراف کے سارے سوالوں کو سُنا، جانے کے لئے اٹھ گیا اور جاتے جاتے کہنے لگا:

پتہ لگے گا تا دن کوں

بھنبھوت بھنے گا جا دن کوں

یعنی جس دن گولہ توڑا جائے گا، اس دن پتہ چل جائے گا ۔۔۔کہ وہ گولہ درحقیقت لوہے کا تھا اور اس پر سونے کا پتر چڑھایا گیا تھا، اس فراڈ کو موثر کرنے کی خاطر، فراڈیئے نے بھولے بھالے دیہاتی کا روپ بھرا تھا اور پھانسنے کے لئے تھوڑے تھوڑے سونے کے سکّے بیچ کر اپنا اعتبار قائم کر لیا تھا۔ اب لالچی صراف جب گولہ توڑے تو اس کے چاروں طبق روشن ہونے ہی ہونے تھے۔

مندرجہ بالا قصّہ یونہی ذہن میں در آیا تھا تو صفحہء و قرطاس کے حوالے کر دیا ورنہ کسی پارٹی یا کسی سیاست دان کی فریب کاریوں اور فراڈ کی طرف کوئی اشارہ نہیں، نہ ہی یہ باور کرانا مقصود ہے کہ خوش کن نعرے اور دل فریب منشور پیش کرنے والوں نے اپنے اپنے اقتدار و اختیارات کے دوران میں اپنی کہی ہوئی باتوں پر کتنا عمل کیا ہے اور عوام سے کئے ہوئے وعدوں کو کس قدر پورا کیا ہے؟

یعنی وعدوں کا وہ بھنبھوٹ جو گزشتہ الیکشن میں، عوام کو تھمایا گیا تھا وہ حکومتی عرصے کے دوران میں ٹوٹا تو اندر سے کیا نکلا تھا؟

وہ ملمع سازی جو ہمارے بھولے بھالے چہروں والے لیڈروں نے کر رکھی تھی، حکومتی بھٹّی میں پڑتے ہی ختم ہو گئی تھی، پارٹیوں کی قلعی کھل کر رہ گئی تھی اور پتہ چل گیا تھا کہ کون کیا ہے؟ کس کی بڑی بڑی باتیں، کتنی بڑی اور حقیقت میں کتنی بُری تھیں! جو بہروپ بھرے تھے، وہ کھلتے اور بلند آہنگ تقریروں کے بھانڈے، بیچ چوراہے پھوٹتے چلے گئے ہیں۔۔۔

ہاں! یاد آیا، ایک پارٹی ہے، جس نے سیاسی ماحول کو کئی تبدیلیوں سے ہم کنار کیا ہے، روایتیں بھی بدلی ہیں اور رویّے بھی، لہجے بھی بدلے ہیں اور الفاظ کے انتخاب کا چلن بھی بدلا ہے۔ اس نے ایک ایک حلقے میں کئی کئی لوگوں کو، آئندہ انتخابات میں ٹکٹ دینے کے وعدوں سے باندھ دیا ہے۔ پورے ملک کی طرح ہمارے پسرور میں ایک ایک حلقے میں کتنے ہی افراد ہیں جو باقاعدہ انتخابی مہم شروع کر چکے ہیں، ان کا فی الحال مقابلہ کسی دوسری پارٹی کے امیدواروں سے نہیں، اپنی ہی پارٹی کے لوگوں سے ہے۔ قومی اسمبلی کی ایک نشست کے لئے چھ افراد اور صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کے لئے گیارہ افراد، دن رات گھوم رہے اور اپنی ہی پارٹی کے دیگر افراد کو بُرا بھلا کہتے پھر رہے ہیں۔ ان کی اس بے مثال پارٹی نے ان کے ہاتھوں میں ’’ٹکٹ کا بھنبھوٹ‘‘ تھما دیا ہے۔ ایک نشست کے لئے ٹکٹ تو ایک ہی فرد کو ملے گا، گیارہ کے گیارہ کو نہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف عوامی مہم چلانے والے اور الزامات لگانے والے یہ بیچارے اپنا اپنا بھنبھوٹ تھامے، خوش فہمیوں کی دَل دَل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ گیارہ میں سے کس کو ٹکٹ ملے گا، کوئی نہیں جانتا، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی بارہویں کھلاڑی کی ادا کردہ قیمت، قسمت کی دیوی کو مہربان کر دے۔ کس کی قسمت جاگے گی، کون ٹھہرے گا خوش نصیب؟

پتہ لگے گا تا دن کوں

بھنبھوت بھنے گا جا دن کوں

مزید : رائے /کالم


loading...