یہ وقت بھی گزر جائے گا

یہ وقت بھی گزر جائے گا
یہ وقت بھی گزر جائے گا

  


جوڈیشل ایکٹوازم یعنی عدالتی فعالیت نے قانون کی بالادستی کے لئے ہرمعاشرے کی بہتری میں اہم کردارادا کیا ہے لہٰذا اگر ہمارے معزز جج سمجھتے ہیں کہ وہ نظام کی بہتری اور عوام کی فلاح کے لئے کردارادا کر سکتے ہیں تو اس میں کچھ عجیب نہیں ہے۔ میں عوامی اور سیاسی تبصروں کو بوجوہ اہمیت نہیں دینا چاہتا حالانکہ یہی تبصرے اصل میں تاریخ رقم کرتے ہیں مگر عدالتی فعالیت پر قانونی ماہرین کے قومی اور بین الاقوامی سطح کے تبصرے اور آرا بہرحال نظر انداز نہیں ہونے چاہئیں۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ عالمی سطح پر قانون بنانے، سکھانے اور پڑھانے والے ادارے ہماری عدالتوں کے فیصلوں کو کس معیار کا سمجھتے ہیں، کیاہمارے ماہرین اپنی عدلیہ کے حالیہ فیصلوں کوبھی نظیر بناتے ہیں یا نہیں، ہمارے پاس ایسے فیصلوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جنہیں صرف یہ پڑھانے کے لئے نصاب میں رکھا جاتا ہے کہ قانون کے طالب علموں کو بتایا جا سکے کہ ایسے فیصلے کبھی نہیں کرنے۔

عدالتی فعالیت کا عمومی مطلب یہ لیاجاتا ہے کہ اس کے ذریعے انتظامیہ کے منہ زور اختیارات کو نکیل ڈالی جائے مگر ہماری تشریحات میں یہ نکیل انتظامیہ تک محدود نہیں رہتی جو ایک منتخب پارلیمنٹ سے جنم لیتی ہے بلکہ اداروں کی ماں کہلانے والی پارلیمنٹ بھی اس جکڑبند میں آجاتی ہے۔ یہ امرہرگز قابل تعریف نہیں ہے کہ عدالتوں نے ہمیشہ جمہوری ادوار میں ہی ایکٹوازم کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ آمرانہ ادوار کے لئے اس کے برعکس اصطلاح استعمال کی جاسکتی ہے۔ میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ جب ایک فعال صحافی کسی ادارے یا جماعت کی رپورٹنگ کرتا ہے تو رفتہ رفتہ وہ ان کے ساتھ جڑنے لگتا ہے۔ وہ ان کے موقف کو سمجھتا ہے، ایک تعلق پیدا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں وہ ان کی کمزوریوں کوجواز دیتا ہے مگر میں ایک طویل عرصے سے دیکھ رہا ہوں کہ ہماری عدالتوں کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی یہ تعلق پیدا نہیں کر پا رہے۔ وہ ہم جیسے کسی حد تک عام ، سطحی یا سیکنڈ ہینڈ انفارمیشن رکھنے والے صحافیوں سے کہیں زیادہ جارحانہ روّیوں کا اظہار کر رہے ہیں۔ جب میں نجی محفلوں اور سوشل میڈیا پر ان کو دیکھتا اور سنتا ہوں تواندازہ لگاتا ہوں کہ ہمارے وہ صحافی بھی ہماری عدالتوں کے روّیوں اور فیصلوں پر مطمئن نہیں ہیں جو ان کے بہت قریب ہیں اور معاملات کی کہیں زیادہ سمجھ رکھتے ہیں۔

عدالتی فعالیت نے پیپلزپارٹی کے دور میں اس وقت سر اٹھایا جب ایک چیف جسٹس نے سیاسی جماعتوں کی مدد سے ایک آمر کے ہاتھوں برطرف ہونے کے بعد اپنا عہدہ دوبارہ حاصل کیا۔ عمومی طور پر یہی خیال کیا جا رہا تھا کہ ہمارا یہ ادارہ سیاسی اور جمہوری قوتوں کا ممنون رہے گا اوراس کے نتیجے میں آئین ، قانون اور جمہوریت کی پاسداری کو استحکام ملے گا ۔میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ عدلیہ کو کسی بھی ادارے اور شخص کا ممنون احسان ہونے کی ضرورت نہیں ہے مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ جن اداروں اور افراد نے آپ پر احسان کیا ہو وہ آپ کے ٹارگٹ ہوں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک لائیوپروگرام کے دوران بریک آنے پرافتخار محمد چودھری کے مخالف ایک ماہر قانون نے مجھے کہا کہ میں کیا آئین، جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کی بین بجا رہا ہوں، یہ سب کتابی باتیں ہیں، یہ دنیا طاقت کی دنیا ہے، یہاں بالادست ہونے والا ہر گروہ اپنے مخالفین کو تہہ تیغ کر دیتا ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب افتخار محمد چودھری کی قیادت میں ماضی کے اقدامات پر فیصلے ہو رہے تھے اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو فارغ کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک گروہ طاقت ور تھا تو اس نے دوسرے کو باہر نکال دیا اور اب دوسرے کے ہاتھ میں طاقت آئی ہے تو وہ اس کا استعمال کر رہا ہے۔

میرا دماغ چونکہ اس وقت آئین، جمہوریت اور اصولوں کے گرد گھوم رہا تھالہذا مجھے واقعاتی شہادتوں کے باوجود میری دانش کے معدے میں یہ بات اس وقت تک ہضم ہی نہیں ہوئی جب تک میں نے تاریخ کے پہیئے کو ایک مرتبہ پھر گھومتے ہوئے نہیں دیکھ لیا۔ مجھے ایک تصویر موصول ہوئی ہے جس میں چار معزز جج پی سی او کے تحت حلف اٹھا رہے ہیں ۔ میں اس تصویر کو دیکھتا ہوں اور موجودہ حالات کا تجزیہ کرتا ہوں تومجھے آئین، قانون اور انصاف ایک طرف دھرے ہوئے لگتے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ ہم سب ایک ایسے گروہی معاشرے کا حصہ ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ برسرپیکار ہے۔ جس کے بازو میں طاقت ہوتی ہے وہ دوسرے کے بازوسے گردن تک جو چاہے مروڑ دیتا ہے۔

میں جانتا ہوں کہ ہمارے اداروں کو آئین کے تحت تحفظ حاصل ہے کہ ہر ایرا غیرانتھو خیرا ان پر تبصرے کرتا نہ پھرے، ان کی عزت اور وقار کا تحفظ ہو اور میں اس قانون کا سب سے بڑا حامی ہوں مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ قانون ان پر بھی لاگو ہوتا ہے جو سب کچھ جانتے اور سمجھتے ہیں۔ جنہیں تاریخ کے دکھوں کا ہی نہیں بلکہ حال کی دھڑے بندیوں اور مستقبل کے خطرا ت کا بھی ادراک ہے۔میں ان لوگوں کی بھی وکالت کرنا چاہتاہوں جو حقیقت میں خرابی کی اصلاح چاہتے ہیں اور یقینی طور پر انہیں توہین کرنے والوں کے زمرے میں شامل کرنا خود اپنی ذات اور ادارے کے ساتھ دشمنی ہوگی۔

ہم یقینی طور پر اپنی اور اپنے جیسے بہت ساروں کی زبان بندی کرسکتے ہیں مگر کیا یہ درست نہیں کہ ہر آمر کے دور میں اس کے حق میں ہونے والے فیصلوں پر ڈونگرے برسانے والے بہت تھے، ذوالفقار علی بھٹو کے فیصلے پر بھی بہت ساری مٹھائیاں تقسیم کی گئی تھیں ، ہم حال میں رہتے ہوئے مفاد پرست بھی ہو سکتے ہیں اوربزدل بھی مگر تاریخ نہ تو مفاد پرست ہوتی ہے اور نہ ہی وہ کسی سے ڈرتی ہے۔میں جانتا ہوں کہ اس وقت بھی کچھ تنقید کرنے والے اس لئے تنقید کررہے ہیں کہ انہیں نقصان کا سامنا ہے مگر دوسری طرف بہت سارے تالیاں بجانے والے صرف اس وجہ سے تالیاں بجا رہے ہیں کہ ایک قومی ادارے کے ذریعے ایک سیاسی گروہ کے مفادات کا تحفظ ہو رہا ہے۔ ہمیں شور مچانے اور تالیاں بجانے والوں سے بالاتر ہو کے یہ دیکھنا ہو گا کہ جب یہ وقت گزر جائے تو اس کے بعد ان فیصلوں کو کس طرح دیکھا جائے گا۔ کیا آنے والا وقت اور مورخ ان وضاحتوں کو تسلیم کر لے گا جنہیں تسلیم کر نے کے لئے ہم خوف یا قانون سمیت کسی بھی وجہ سے مجبور ہیں کیونکہ یہ وقت ان تمام وقتوں کی طرح گزر جائے گا جو اس سے پہلے آئے، ان وقتوں میں کسی وزیراعظم کی زندگی چھینی گئی تو کسی کا عہدہ، کسی آمر کو جائزیت عطا کی گئی تو کسی کو اس کے ساتھ ساتھ آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار۔ میں سوچتا ہوں کہ ایک اور منتخب وزیراعظم کو گھر بھیجنے کے بعد اسے جیل میں بھیجنے کا فیصلہ بھی آسکتا ہے، اس کے وفادار ساتھیوں کو کسی فکری اور قانونی مغالطے کی بنیاد پر بلوچستان کی طرح سینٹ میں بھی باغی ہونے کی راہ دکھائی جا سکتی ہے مگر ایسے وقت تو پہلے بھی آتے اور جاتے رہے ہیں مگر ایک شے مستحکم اور پائیدار ہے اور وہ تاریخ ہے، ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ دوربھی ہماری عدالتی تاریخ کے تسلسل میں ایک سنگ میل کے طور پر ہی یاد رکھا جائے گا، مجھے اس کا جواب اثبات میں مل رہا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...