دھرنا از خود نوٹس کیس ، ریاست کو مفلوج کر کے مطالبات منوانا کوئی جرم نہیں؟ سپریم کورٹ

دھرنا از خود نوٹس کیس ، ریاست کو مفلوج کر کے مطالبات منوانا کوئی جرم نہیں؟ ...

اسلام آباد (آئی این پی) سپریم کورٹ کے جسٹس شیر عالم نے فیض آباد دھرنا کیس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ بڑا آسان کام ہے چند بندے اکٹھے کرکے ریاست کو مفلوج کرو اور اپنے مطالبات پورے کرالو‘ اس کا مطلب ہے کہ جو حکومت کو مفلوج کرے اس کے ساتھ معاہدہ کرلو‘ کیا پاکستان پینل کوڈ کے تحت کوئی جرم نہیں ہے؟ بتایا جائے کہ دھرنا مظاہرین کے سربراہ کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟ جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ د ھرنے والے لاہو رسے چلے اور فیض آباد آکر قیام کیا کسی نے نہیں اٹھایا کیا حکومت ان کے ساتھ تو نہیں ملی تھی؟ کیا یہ حکومت کی رٹ ہے؟ اگر سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہے تو اس کا سربراہ کیا کچھ بھی کرسکتا ہے؟ سپریم کورٹ میں گزشتہ روز فیض آباد دھرنا کیس از خود نوٹس کی سماعت ہوئی عدالت نے دھرنا مظاہرین کے خلاف کئے گئے اقدامات سے متعلق رپورٹ دو ہفتوں میں طلب کرلی۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ دھرنوں سے نمٹنے کے لئے قانون کا مسودہ تیار کرلیا ہے۔ مسودہ آئندہ منگل کو وفاقی کابینہ میں پیش ہوگا۔

دھرنا از خودنوٹس کیس

مزید : صفحہ اول


loading...