سینیٹ قومی اسمبلی ، فوج سعودی عرب بھجوانے کا معاملہ ، حکومت سے جواب طلب

سینیٹ قومی اسمبلی ، فوج سعودی عرب بھجوانے کا معاملہ ، حکومت سے جواب طلب

اسلام آباد(نیوزایجنسیاں) پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں میں اسلامی عسکری اتحادکے ضابطہ کار پاکستان کی ذمہ داریوں اور فوجی دستے بھجوانے کے معاملات پر چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی نے وزیر دفاع خرم دستگیر اور وزیرخارجہ خواجہ آصف کو پالیسی بیانات دینے کی ہدایت کر دی ۔ پارلیمینٹ میں یہ معاملات تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی طر ف سے اٹھائے گئے ۔قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی رکن ڈاکٹر شیریں مزاری نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ پاکستان کی سعودی عرب میں عسکری اتحاد میں شمولیت کے معاملے پر نئی اطلاعات آرہی ہیں پاکستان کے فیصلوں سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اتحاد میں پاک فوج کی ذمہ داریاں اور حدود و قیود کیا ہیں تمام تفصیلات پارلیمنٹ کو بتانی چاہیں ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ کہا گیا تھا کہ ہم ہمیں جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ کوئی دفاعی تعاون کا فیصلہ ہوا ہے تو پارلیمان کو معلوم ہونا چاہئے۔ وزارت خارجہ نے لیبیا میں کشتی الٹنے میں جاں بحق پاکستانیوں کے حوالے سے تفصیلات بھی نہیں دیں۔ وہ لوگ لیبیا کیسے پہنچے اور انسانی سمگلنگ کے سدباب کے اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں سپیکر سردارایازصادق نے ان معاملات پر وزیرخارجہ سے جواب طلب کرلیا ہے وزارت خارجہ کو اس بارے میں خط لکھنے کی ہدایت کردی گئی ہے ۔چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے بھی حکومت کو پاک فوج کے دستے سعودی عرب بھجوانے کے بارے میں پارلیمان کو اعتمادمیں لینے کی ہدایت کردی ہے ۔اراکین کی مخالفت پرچیئرمین سینیٹ نے ایوان میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2018ء کو پیش کرنے کی اجازت نہیں دی یہ صدارتی آرڈیننس24دنوں کی تاخیر سے لایا گیا تھا،12 ارکان نے آرڈیننس پیش کرنے جبکہ 17 نے آرڈیننس پیش نہ کرنے کی رائے دی جس پر یہ آرڈیننس پیش نہ کیا جا سکے۔چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے حکومت کو پاک فوج کے دستے سعودی عرب بھجوانے کے وجوہ سے پارلیمان کو اعتمادمیں لینے کی ہدایت کردی ہے وزیر دفاع پالیسی بیان دیں گے ۔چیئرمین سینیٹ نے انھیں ہدایت کی ہے کہ وہ پیر کو پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کے لئے فوجی دستے بھجوانے کے اعلان پر ایوان کو اعتماد میں لیں۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے عوامی اہمیت کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنے ٹروپس سعودی عرب بھجوانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پارلیمان کی مشترکہ قرارداد کی نفی ہے۔وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر فرحت اﷲ بابر کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اﷲ احسان کا معاملہ قانون کے مطابق نمٹایا جائیگا ۔متعلقہ ادارہ اس حوالے سے فیصلہ کر چکا ہے تاہم اس حوالے سے وزارت دفاع ہی بہتر جواب دے سکتی ہے۔ اس ایوان کا حق ہے کہ اسے درست معلومات فراہم کی جائیں ۔صوبوں کے محکمہ جات برائے داخلہ سے مقدمہ اور سفارشات موصول ہونے پر احسان اﷲ احسان کا مقدمہ وزارت داخلہ کی تشکیل کردہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائیگا ٗ مذکورہ کمیٹی کی منظوری ملنے کی صورت میں مقدمہ فوجی عدالتوں کے سپرد کیا جائے گا۔سینیٹر فرحت اﷲ بابر کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں ڈیری فارمز مالکان اضافی دودھ نکالنے کے لئے جو بوسٹن اور سومائیک ممنوعہ انجیکشن لگاتے تھے ان پر حکومت کی طرف سے پابندی عائد کر دی گئی ہے اور یہ مارکیٹ میں دستیاب نہیں ٗ سپریم کورٹ نے بھی اس حوالے سے فیصلہ دیا تھا ٗ جانوروں کو جو مضر صحت انجیکشن لگائے جاتے ہیں ان کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے۔انہوں نے مزیدکہااجلاس کے دور ان وفاقی وزیر برائے ریاستیں و سرحدی علاقہ جات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے بتایا کہ سال 2013-14ء میں فاٹا میں گزشتہ چار سالوں کے دوران 709 افراد دہشت گردی کے حملوں میں جان سے گئے۔ 1144 زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء کو فاٹا میں تین لاکھ اور خیبر پختونخوا میں 5 لاکھ روپے دیئے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے فاٹا کو خیبر پختونخوا کے برابر لانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ سینیٹر سراج الحق کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جن گھرانوں کے تمام مرد دہشت گرد حملوں میں جاں بحق ہو گئے ان کا مسئلہ بہت اہم ہے۔ ایسے گھرانوں کی کفالت اور فلاح و بہبود کے لئے ریاست اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔ اگر ایسے کوئی کیسز ہیں تو حکومت کے علم میں لائے جائیں۔وفاقی وزیر ریاستیں و سرحدی امور لیفٹیننٹ جنرل عبدالقادر نے بتایا کہ فاٹا میں تباہ شدہ گھر کے لئے چار لاکھ روپے اور جزوی تباہ گھر کے لئے ایک لاکھ 60 ہزار روپے دیئے جاتے ہیں۔ تباہ شدہ گھروں کی تعمیر اور بحالی کے لئے کوئی ادارہ بنانے کے لئے غور اور مشاورت کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تباہ شدہ املاک اور ان کے مالکان کو ادائیگی کے لئے 13341 ملین روپے کی رقم دی گئی تھی اس میں سے 12350 ملین روپے پولیٹیکل انتظامیہ کو جاری کئے گئے تھے جس میں سے 10708 ملین روپے ایک سروے کے بعد حقداروں میں بانٹ دیئے گئے۔ فاٹا کئی لحاظ سے ملک کے دیگر حصوں سے پسماندہ ہے۔ فاٹا میں 10 سال تک 100 ارب روپے سالانہ خرچ کئے جائیں گے تاکہ فاٹا کو دوسرے صوبوں کے برابر لایا جا سکے۔بعد ازاں سینٹ کا اجلاس پیر کی سہ پہر تین بجے تک ملتو ی کر دیا گیا ۔

سینیٹ ،قومی اسمبلی

مزید : صفحہ اول


loading...