واٹرکمیشن کااجلاس،فیکٹریوں میں جوڈیشل مجسٹریٹ کو دورے کی اجازت نہ دینے پر امیرہانی مسلم کی براہمی

واٹرکمیشن کااجلاس،فیکٹریوں میں جوڈیشل مجسٹریٹ کو دورے کی اجازت نہ دینے پر ...

کراچی (این این آئی) سپریم کورٹ کے احکامات پر قائم واٹر کمیشن نے آراو پلانٹس چلانے کے لیے حکومت سندھ اور پاک اوسس کے درمیان ہونے والے معاہدے کی تفصیلات ایک ہفتے میں طلب کرلی ہیں ۔کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر)امیر ہانی مسلم نے فیکٹریوں میں جوڈیشل مجسٹریٹ کو دورے کی اجازت نہ دینے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ فیکٹریوں کے باہر پرائیویٹ اسلحہ بردار لوگ موجود ہیں ،حکومت سندھ کی رٹ کہاں ہے ۔کمیشن نے جوڈیشل مجسٹریٹ اور سیپا حکام کو فیکٹریز میں داخلے کی اجازت نہ دینے والے77فیکٹری مالکان کو نوٹس جاری کردئیے ہیں۔کمیشن نے میئر کراچی کو ہدایت کی کہ وہ تمام شہری اداروں کے ساتھ مل کرورک پلان تیار کریں ۔صوبے میں صاف پانی فراہمی کے لیے سپریم کورٹ کے احکامات پر قائم واٹرکمیشن نے جسٹس (ر)امیر ہانی کی سربراہی میں سماعت کی ۔ جوڈیشل مجسٹریٹ غربی نے کمیشن میں ضلع غربی کی فیکٹریوں کے دورے کے حوالے سے رپورٹ پیش کی ۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 77سے زائد فیکٹریوں میں جوڈیشل مجسٹریٹ کو داخل ہونے نہیں دیا گیا ۔انڈسٹری کے باہر پرائیویٹ اسلحہ بردار لوگ موجود تھے ۔کمیشن کے سربراہ جسٹس امیر ہانی مسلم نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ کہا ں ہے حکومت سندھ کی ر ٹ جو انڈسٹری والے مجسٹریٹ کو داخل ہونے نہیں دیتے ان کے اندر کا کیا حال ہوگا۔ چیف سیکرٹری سندھ نے کہا کہ یہ افسوسناک بات ہے کہ مجسٹریٹ صاحبان کو فیکٹریز میں داخلے کی اجازات نہیں دی گئی۔ جن فیکٹری مالکان نے مجسٹریٹس کوداخلے کی اجازت نہیں دی انکے خلاف پولیس فورس استعمال کریں گے۔کمیشن نے فور ی طور پر ڈی آئی جی اور ایس ایس پی غربی کو طلب کرلیا ۔ڈی آئی جی ویسٹ ذوالفقار لاڑک کے پیش ہونے پر کمیشن نے استفسار کیا کہ 77 فیکٹریز نے مجسٹریٹ اور سیپا کو اندر کیوں داخل نہیں ہونے دیا گیا کیا یہ ممنوع ایریا ہے کیا انڈسٹریز پر پاکستان کا قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ڈی آئی جی ویسٹ نے کہا کہ ہمیں اس دورے کی اطلاع نہیں دی گئی تھی ۔کمیشن نے ریمارکس دیئے کہ جوڈیشل مجسٹریٹس کی بے عزتی کی گئی ایس ایس پی ویسٹ آپ کو پتہ ہی نہیں۔سیپا حکام نے کمیشن کو بتایا کہ پولیس ہمارے ساتھ تھی پھر بھی فیکٹریز میں داخلہ کی اجازات نہیں دی گئی ۔ایس ایس پی ویسٹ نے بتایا کہ مجسٹریٹس اور سیپا حکام کو پولیس فورس فراہم کی گئی تھی ۔ڈی آئی جی ویسٹ نے کہا کہ ہم ایس ایچ او کے خلاف کاروائی کریں گے ۔کمیشن کی جانب سے فیکٹریز میں داخلے کی اجازات نہ دینے والی فیکٹریوں کی فہرست ڈی آئی جی ویسٹ کو فراہم کردی گئی۔کمیشن نے ہدایت کی کہ ایس ایس پی ویسٹ جوڈیشل مجسٹریٹ اور سیپا حکام کو فیکٹریز میں داخلے کے حوالے سے پولیس فورس فراہم کریں اور آئندہ ایس ایس پی ویسٹ خود دورے میں ساتھ جائیں ۔اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر بھی کمیشن میں پیش ہوئے ۔کمیشن کے سربراہ نے کراچی پولیس چیف سے استفسار کیا کہ مہر صاحب کمیشن نے جوڈیشل مجسٹریٹس اور سیپا کو فیکٹریز کے معائنے کا حکم دیا تھا انہیں کیوں اندر نہیں جانے دیا گیا ، مشتاق مہر نے کہا کہ ہم فیکٹریز کے خلاف ایکشن لیں گے جس پر کمیشن نے کہا کہ آپ کیا ایکشن لیں گے اس پر ہم خود ایکشن لیں گے ۔ درخواست گذار شہاب اوستو نے کہا کہ حکومت سندھ پاک اوسس کے علاوہ پانچ سے چھ ارب روپے کا ٹھیکہ دوسری کمپنیز کو دے چکی ہے ۔ان میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی کمپنی بھی ہے، اس کی تحقیقات کرائی جائے۔واٹرکمیشن نے ریمارکس دیئے کہ پورے سندھ میں پاک اوسس کو ٹھیکے دیے گئے ہیں ۔ماشاء اللہ فلٹر پلانٹس کا ہر ٹھیکہ پاک اوسس کے پاس ہے ۔اس کمپنی کی کارکردگی کیا ہے اس کا ہمیں علم ہے ۔یہ قوم کا پیسہ ہے اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ۔اربوں روپے فلٹر پلانٹس پر لگائے گئے مگر پلانٹس خراب ہو چکے ہیں ۔جس افسر کے خلاف چار مقدمات چل رہے ہیں, اسے منصوبہ کا سربراہ بنا یا گیا ہے ۔تین تین مقدمات میں ضمانتوں والے افسروں کو منصوبوں کا چارج دے رکھا ہے۔چیئرمین پلاننگ کمیشن وسیم احمد نے بتایا کہ جن افسروں کو اضافی چارج دیا گیا ہے وہ فوری واپس لے لیا جائے گا۔کمیشن نے استفسار کیا کہ سرکاری افسروں کو تین تین چارجز کیوں دے رکھے ہیں۔وسیم احمد نے کہا کہ افسروں کو ترقیاں دے کر چارج دے رہے ہیں ۔ایک ہفتے کے اندر اضافی چارجز واپس لے لیں گے ۔کمیشن نے کہا کہ جو ایماندار لوگ ہیں انہیں کیوں پوسٹ نہیں کرتے ۔ایماندار لوگوں کو آج ہے تعینات کریں ۔جن ایماندار لوگوں کو ذاتی وجوہات کی بنا پر گھر بٹھایا گیا کے انہیں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں پوسٹنگ دی جائے اور کوئی ایڈیشنل چارج نہ دیا جائے ۔کمیشن نے نواب میں نصب آر او پلانٹ کے ان اور آؤٹ فلو پر میٹر لگانے کا حکم دیتے ہوئے آراو پلانٹس چلانے کے لیے حکومت سندھ ،کوئلہ اتھارٹی اور پاک اوسس کے درمیان ہونے والے معاہدے کی تفصیلات ایک ہفتے میں طلب کرلی ہیں ۔ درخواست گذار نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ فیلکن کمپلیکس محمود آباد اور دادا بھائی ٹاون کے علاقے میں فیکٹریوں کا ممنوعہ فضلہ جلایا جارہا ہے ۔محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے یہ زہریلا مواد جلایا جارہا ہے ۔کمیشن نے سات فیکٹریوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ان فیکٹریوں کو ایس ایچ او کے ذریعے نوٹس بھیجے جائیں ۔واٹرکمیشن کی سماعت کے موقع پر منوڑا کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا ۔کمیشن نے چیف انجینئر کے پی ٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہ آپ کی مہربانیوں سے میرین لائف ختم ہوگئی ہے ۔کے پی ٹی کا جو اوریجنل چینل تھا وہاں ہاوسنگ سوسائٹی بنادی ہے۔ اوریجنل گہرائی 18 فٹ تھی اب 15 کیوں ہوگئی ہے۔کیا آپ اس کی اصل شکل بحال کرسکتے ہیں ۔کمیشن کو کنٹونمنٹ بورڈز کے حکام کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ تین سو ٹن کلفٹن کا روزانہ کا کچرا ہے جو کنٹریکٹ پر دیا ہوا ہے ۔فیصل کنٹونمنٹ کا کچرا اٹھانے کا بھی ٹھیکہ دیا گیا ہے۔سیوریج سے ہمارا تعلق نہیں ۔کراچی کنٹونمنٹ میں کچرا اکٹھاکرکے سرجانی ٹاون جام چا کرو میں ڈالا جاتا ہے ۔میئر کراچی نے بتایا کہ کنٹونمنٹ کا فضلہ سمندر میں جارہا ہے۔نہر خیام میں گندا فضلہ آلودہ پانی چھوڑا جارہا ہے۔ساحل سمندر پر ریسٹورنٹ کا سارا فضلہ سمندر میں جارہا ہے ۔کراچی میں کل 30نالے ہیں ۔نہر خیام اوررہائشی علاقوں سے مجھے شکایت موصول ہوئی ہیں ۔نہر خیام پر ایک غیر قانونی بلڈنگ بنی ہوئی ہے ۔اس غیر قانونی بلڈ نگ کو گرانا چاہتا ہوں لیکن اس پر بتیس سال سے حکم امتناع چل رہا ہے۔کے ایم سی نے 3کروڑ روپے خرچ کرکے نالے صاف کرائے ہیں ۔یہ لوگ سمجھ ہیں کہ میں قبضہ کر رہا ہوں ۔گند میں نرسری بنا رہے ہیں ۔کمیشن کے سربراہ نے ریمارکس دیئے کہ وسیم صاحب آپ صبر کریں یہ لوگ خود کہیں گے کہ آپ ہی اس مسئلہ کو حل کریں ۔واٹربورڈ اور دیگر محکموں نے مجھے کام کرنے سے روک دیا ہے ۔آپ ایم ڈی واٹربورڈ سے خود پوچھ لیں ۔ایم ڈی واٹربورڈ نے کہا کہ مئیر صاحب جو کام کرنا چاہتے ہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔سیکرٹری بلدیات نے کہا کہ میئر کراچی حکومت سے اجازت لئے بغیر کام کر رہے تھے ،نالوں میں پائپ لائن ڈالنے سے معاملہ خراب ہوگا ،جس پر میئر کراچی نے کہا کہ یہ لوگ کام نہیں کرنا چاہتے ۔ایم ڈی واٹربورڈ ہاشم رضا زیدی نے بتایا اس حوالے سے مکمل پریزنٹیشن دیں گے ،جس پر واٹرکمیشن نے کہا کہ آپ پریزنٹیشن چھوڑ دیں مجھے کام چائیے ۔چھ ماہ میں مجھے آگے جواب دینا ہے ۔جسٹس ( ر)امیر ہانی مسلم نے کہا کہ ہر کوئی اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہا ہے۔ واٹرکمیشن کے سربراہ نے حکم دیا کہ سیوریج کے پانی کو نہر خیام میں بالکل نہ آنے دیا جائے اور مسائل کے حل کے لیے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ،میئر کراچی، سندھ حکومت ،چیئرمین ٹاسک فورس اور دیگر مل کر اجلاس کریں اور ورک پلان کمیشن کو پیش کیا جائے ۔کمیشن کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وسیم اختر نے کہا کہ حکومت سندھ انہیں کام کرنے نہیں دے رہی، واٹر بورڈ اور دیگر اداروں کو ان کے احکامات نہ ماننے ہدایت کی گئی ہے۔شہر کا آلودہ پانی سمندر میں چھوڑا جارہا ہے ۔سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سپریم کورٹ نے ختم کر دیا لیکن حکومت سندھ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کو تیار نہیں ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...