عالمی طاقتیں پاکستان سے اپنی شرائط منوانا چاہتی ہیں: فضل الرحمٰن

عالمی طاقتیں پاکستان سے اپنی شرائط منوانا چاہتی ہیں: فضل الرحمٰن

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے سخت عالمی دباؤ میں ہے لگتا ہے یہ قوتیں پاکستان اور ہمارے دفاعی اداروں کو دباؤ میں لا کر اپنی مرضی کی شرائط منوانا چاہتی ہیں ۔ پا کستا ن کو ہر صورت قومی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے وقت نے ثابت کر دیا ہے مسئلہ کشمیر سمیت خطے میں تنازعات کا حل جنگ میں نہیں بلکہ کشیدگی معاملات کو بگاڑنے کا سبب بن سکتی ہے ۔جمعہ کو کشمیری حریت لیڈر ظفر اکبر بھٹ کی قیادت میں کشمیری وفد جس میں الطاف بھٹ، ڈ اکٹر ولید رسول اور مشتاق احمد شامل تھے سے ملاقات میں بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے سخت عالمی دباؤ میں ہے کیونکہ امریکہ اور حلیف یورپی ممالک پاکستان کیخلاف اقتصادی پابندیاں لگانے کیلئے کوشاں ہے اور ٹاسک فورس کے ذریعے پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کرنا چاہتے ہیں تاہم پاکستان نے اس قسم کی صورتحال کے تدارک کیلئے اقد ا مات کیے ہیں، کشمیری رہنماؤں کو پاکستان پر اندرونی اور بیرونی دباؤ کا یقیناًادراک ہے ہم چاہتے ہیں تحریک آزادی کشمیر کو بھر پور طریقے سے پر امن طریقے سے جاری رکھا جائے ۔پاکستان شروع دن سے مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتا چلا آ رہا ہے، وفد نے چیئرمین کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمن کو مسئلہ کشمیر کو پاکستان کی طرف سے مزید موثر انداز میں اجاگر کرنے کی تجاویز دیں۔کشمیری رہنماؤں اور کشمیر کمیٹی کے درمیان رابطوں پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا، واضح رہے ظفر اکبر بھٹ نے اسلام آباد میں حال ہی میں ایک سیمینار میں پار لیما نی کشمیر کمیٹی سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے موثر اور متحرک کردار کی توقع ظاہر کی تھی اس تناظر میں حریت رہنماؤں اور چیئرمین کشمیر کے درمیا ن ملاقات ہوئی، جس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے متحدہ عرب امارات اور فلسطین کے حالیہ دوروں، اسرائیلی وزیراعظم کے دورہ بھارت ،بھارت اسرائیلی دفاعی معاہدوں دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان پر بڑھتے ہوئے سخت عالمی دباؤ اور تنازعہ کشمیر پر بات چیت ہوئی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...