امریکی عدالت نے 6مسلم ملکوں پر سفری پابندیاں غیر آئینی قرار دے دیں

امریکی عدالت نے 6مسلم ملکوں پر سفری پابندیاں غیر آئینی قرار دے دیں

ورجینیا، واشنگٹن(آئی این پی،)امریکی اپیل کورٹ نے 6 مسلمان ملکوں کے شہریوں پر سفری پابندی کو غیر آئینی قرار دیدیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ کی ایک وفاقی اپیل کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سفری پابندی کا حکم غیر آئینی تھا کیونکہ اس میں مسلمانوں کے خلاف غیر قانونی طور پر امتیاز برتا گیا تھا۔ریاست ورجینیا کے صدر مقام رچمنڈ میں قائم فورتھ سرکٹ فیڈرل کورٹ آف اپیل نے 4 کے مقابلے میں 9 کے فیصلے میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اور وہائٹ ہاس کے دوسرے عہدے داروں کے بیانات کا تجزیہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صدارتی فرمان کی روح اور نیت غیر آئینی طور پر اسلام کے خلاف ہے۔اپیل کورٹ نے سفری پابندی سے متعلق ایک نچلی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ۔ لیکن اس فیصلے کو سپریم کورٹ نے سفر سے متعلق حکم نامے پر اپنے آئندہ غور و خوض تک معطل کر دیا تھا۔دریں اثناامریکی سینیٹ نے امیگریشن نظام میں اصلاحات سے متعلق وہ چاروں بِل مسترد کردیے ہیں جن پر ایوان میں رواں ہفتے بحث ہوتی رہی تھی،چاروں بِلز کا مقصد ان لاکھوں نوجوان تارکینِ وطن کو تحفظ فراہم کرنا تھا جو اپنے والدین کے ہمراہ غیر قانونی طریقے سے امریکہ آئے تھے اور جن کے امریکہ میں قیام کی اجازت پانچ مارچ کو ختم ہورہی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ شب ہونے والی رائے شماری میں ایوان نے جن چار مجوزہ قوانین کو مسترد کیا ہے ان میں سے دو 16 ڈیموکریٹ اور ری پبلکن ارکان نے مشترکہ طور پر پیش کیے تھے۔ان میں سے ایک مجوزہ قانون ان نوجوان تارکینِ وطن کو کئی برسوں پر مشتمل طریقہ کار کے تحت امریکی شہریت دینے سے متعلق تھا جب کہ دوسرے میں صدر ٹرمپ کی جانب سے سے تجویز کردہ سخت بارڈر کنٹرول اور ان شہروں کے خلاف کریک ڈاون کے لیے فنڈ مختص کرنے کی تجاویز شامل تھیں جو غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائی میں وفاقی اداروں کے ساتھ تعاون سے انکار کریں۔ان دونوں بِلز کے حق میں 100 رکنی سینیٹ میں صرف 39 ووٹ آئے جس پر وائٹ ہاوس نے سخت برہمی ظاہر کی ہے۔سینیٹ کے ڈیموکریٹ ارکان نے نوجوان تارکینِ وطن کو شہریت دینے کی پیشکش صرف اس لیے مسترد کردی کیوں کہ مجوزہ قانون میں امریکی سرحدوں کی نگرانی سخت کرنے اور امیگریشن نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی بات بھی کی گئی تھی۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...