عدلیہ سے انصاف قانون اور دلیل کے ذریعے لیا جاتا ہے‘ محمد علی درانی

عدلیہ سے انصاف قانون اور دلیل کے ذریعے لیا جاتا ہے‘ محمد علی درانی

اسلام آباد (پ ر) سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا ہے کہ عدلیہ سے ٹکرا کر مسلم لیگ (ن) پرویز مشرف والی غلطی دہرارہی ہے۔ 2018ء میں نوازشریف

(بقیہ نمبر8صفحہ12پر )

صاحب عدلیہ پر1997ء سے بڑا حملہ کرچکے ہیں۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی قائد ایوان کا فرض ادا کرتے ہوئے ریاستی آئینی ستون اعلیٰ عدلیہ کا تحفظ کریں۔جمعہ کو میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آئینی بحران خودحکومت نے پیداکیااورپانامہ کا مسئلہ پارلیمان میں لیجانے کی بجا ئے عدالت میں لے گئی۔ پاناما پر چیف جسٹس کو اپریل2016 ء میں خود میاں صاحب کی ہد ایت پر حکومت نے خط لکھ کر فیصلہ کا اختیار خودعدلیہ کو سونپا۔ ٹی اوآرز بھی خود بنوائے۔ فیصلہ خلاف آنے کی صورت میں گھر چلے جانے کا اعلان قوم سے خطاب میں خودمیا ں نو از شریف نے ہی کیاتھا۔لہذا احتجاج انہیں اپنے اقدامات کے خلاف کرنا چاہئے۔ حکمران جماعت آئینی اداروں کے سر سے چادر کھینچتے ہوئے اوران کی بنیادیں اکھاڑکراپنے قائد کو واپس نہیں لاسکتی۔ محمد علی درانی نے کہاکہ 1997ء میں سپریم کورٹ پر حملے سے آمریت کا دروازہ کھلاتھا ۔اس کے برعکس2009ء میں میا ں نوازشریف کی عدلیہ بحالی لانگ مارچ سے جمہوریت مستحکم ہوئی اور منتخب حکومت نے نہ صرف پانچ سال مکمل کئے بلکہ قوم نے نوازشریف کوآئندہ انتخابات میں دوتہائی اکثریت بھی دی۔ آج میاں صاحب جمہوری استحکام اور حکومتی انتظام کی آئینی مدت کی تکمیل وتسلسل کی خاطر عدلیہ کا احترام کریں۔ ایک سوال پر سابق وزیراطلاعات نے کہاکہ قانون اور دلیل کے ذریعے عدلیہ سے انصاف لیاجاتا ہے۔ عوامی طاقت کے غلط استعمال اور دھمکیوں سے مرضی کا فیصلہ نہیں لیاجاسکتا۔ اعلیٰ عدالت کے فیصلوں کے خلاف عوامی یا فوجی عدالت لگانے کی دھمکی دینا آئین شکنی ہے۔ پارٹی سربراہ اور وزراء کے اقدامات کا نوٹس لیتے ہوئے پارلیمان عدلیہ کے تحفظ، جمہوریت کے استحکام کے لئے کردارادا کرے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...