فیس میں اضافہ کیخلاف احتجاج پر سائنس سکولز انتظامیہ نے طالبعلم کو نکال دیا

فیس میں اضافہ کیخلاف احتجاج پر سائنس سکولز انتظامیہ نے طالبعلم کو نکال دیا

ملتان ( جنرل رپورٹر ) سائنس سکولز کی انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر فیسیں بڑھا دیں۔ احتجاج پر ایک طالب علم کو سکول سے نکال دیا ۔متاثرہ والدین نے ایجوکیشن اتھارٹی کو (بقیہ نمبر15صفحہ12پر )

درخواستیں دے دیں۔ سی ای او نے کارروائی کا حکم دے دیا ۔ بتایاگیا ہے کہ سائنس سکولز انتظامیہ کی طرف سے غیر قانونی طور پر فیسیں بڑھانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ حکومتی رولز کے مطابق پرائیویٹ تعلیمی ادارے ایک سال کے بعد 5فیصد تک فیس بڑھا سکتے ہیں ۔ اس سے زائد فیس بڑھانے کے لئے انہیں ایجوکیشن اتھارٹی کی منظوری لینا ہو گی مگرسائنس سکولز کی انتظامیہ کی طرف سے شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے ہی بار بار فیس بڑھا رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں جلیل آباد کالونی کے رہائشی غلام مصطفی نے بھی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کو درخواست دی ہے کہ اس نے ایچ این سکول عظمت واسطی روڈ میں اپنے بچے داخل کرائے۔ ایڈمشن فیس کے علاوہ ایڈوانس رقم بھی جمع کرا دی مگر سکول انتظامیہ نے پہلے ماہ ایک ہزار روپے ‘ دوسرے ماہ 1250روپے اور تیسرے ماہ 1550 روپے کا چالان فارم دے دیا ۔ انہوں نے سکول جا کر خاتون پرنسپل سے بات کی کہ یہ حکومتی رولز کی خلاف ورزی ہے تو پرنسپل نہ کہا کہ ’’ یہاں پر ہماری مرضی چلتی ہے ‘‘احتجاج کرنے پر ان کے بیٹے طالب علم عاصم احمد کو سکول سے ہی نکال دیاکہ 1550 روپے لاؤ گے تو سکول میں داخل ہونے دیں گے ۔ غلام مصطفی نے سی ای او تعلیم سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔اس سلسلے میں سی ای او تعلیم نے کارروائی کا حکم دے دیا ہے ۔ سی ای او تعلیم کا کہنا ہے کہ انکوائری کی جائے گی ۔ رولز کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر کارروائی کی جائے گی ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...