عالمی طاقتوں کے غیر منصفانہ رویے نے عدم برداشت کو فروغ دیا‘ الیاس گھمن

عالمی طاقتوں کے غیر منصفانہ رویے نے عدم برداشت کو فروغ دیا‘ الیاس گھمن

خانیوال (بیورو نیوز )مدارس دینیہ اور اسلام پر اعتراضات کرنے والے بتائیں کہ امریکی ہائی اسکول میں فائرنگ کرنے والے نوجوان نے عسکری تربیت کس دینی مدرسے سے حاصل کی پوری (بقیہ نمبر20صفحہ7پر )

دنیا میں دہشتگردی کے واقعات کے ذمہ داران کا تعلق کسی دینی ادارے سے ثابت نہیں کیاجاسکا عالمی طاقتوں کے غیرمنصفانہ رویے نے عدم برداشت کو فروغ دیا مذاہب امن کا درس دیتے ہیں اسلام امن وسلامتی کا علمبردار ہے پاکستان کا اسلامی تشخص مجروح کرنے کے لئے منظم سازشوں کا سلسلہ جاری ہے قیام امن کے لئے علماء ومشائخ کا کردار اہم ہے دینی مدارس کی خدمات کا زمانہ معترف ہے افواج پاکستان ملکی سلامتی کے لئے مصروف کار ہیں ان خیالات کا اظہار عالمی اتحاد اہلسنت والجماعت کے مرکزی امیر مولانا محمد الیاس گھمن نے تحفظ نظریہ پاکستان فورم کے مرکزی چئیرمین مفتی خالد محمود ازہر کی رہائش گاہ پر علماء سے خطاب اور بعدازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد فرقہ واریت کے خاتمے اور قیام امن کیلئے ہے عالم کفر مسلمانوں کے خلاف چومکھی جنگ شروع کرچکا ہے ایک طرف مغرب کی ثقافتی یلغارایمانیات پر حملے تجدد پسند طبقات کی طرف سے تشکیک پیدا کرنے اور خون مسلم کو پانی کی طرح بہانے کا سلسلہ جاری ہے کشمیر فلسطین برما شام عراق افغانستان میں مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے کفریہ طاقتوں نے اپنے جدید ہتھیاروں کو جانچنے کے لئے مسلمانوں کو تختہ مشق بنایا ہؤا ہے ظلم وستم کا ہر حربہ مظلوم مسلمانوں پر استعمال کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ بدعات اور خرافات کو فروغ دیا جارہا ہے جبکہ اسلام کے بنیادی عقائد پرحملے اور مسلمانوں کو سیکولر اور لبرل بنانے کا سلسلہ عروج پر ہے ان حالات میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کرنے مساجد مدارس اور خانقاہوں کے ساتھ عوام کے تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے اس موقع پر جامعہ احسن العلوم کے مہتمم مفتی محمد زاہد پاکستان علماء کونسل کے ضلعی صدر مفتی عمر فاروق جامعہ حذیفہ کے مہتمم مولانا اکرام اللہ خان جمعیت علماء اہلسنت کے جنرل سیکرٹری مولانا سیف اللہ شبان ختم نبوت کے ضلعی صدر مفتی سمیع اللہ معاویہ مولانا حفیظ اللہ قاری عبدالستار نقشبندی مولانا عبدالشکور مولانا عبدالغفور عمر ودیگر علماء کرام بھی موجود تھے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...