جنگلات کی حفاظت صرف حکومت نہیں پوری قوم کی ذمہ داری ہے : وزیر اعظم آزاد کشمیر

جنگلات کی حفاظت صرف حکومت نہیں پوری قوم کی ذمہ داری ہے : وزیر اعظم آزاد کشمیر

مظفرآباد( بیورورپورٹ)وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمدفاروق حیدخان نے کہا ہے کہ اس وقت پوری دنیا بالخصوص ترقی پذیر ممالک خطرناک ماحولیاتی اورموسمیاتی تبدیلوں سے دو چار ہیں ۔ یہ ماحولیاتی اور موسمیاتی خطرات کسی ایک ملک کیلئے نہیں بلکہ پورے کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔ تغیر پذیر سماجی اور معاشی حالات وعوامل کے پیش نظر وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بحیثیت قوم جنگلات کے تحفظ اور افزائش کیلئے سرگرم عمل ہوں جس کے لیے قومی سطح پر فکر و عمل کی ضرورت ہے ۔ حکومتی اقدامات اسی وقت بار آور ثابت ہونگے جب ہر مکتبہ فکر کا عملی تعاون حاصل ہوگا ۔ شجرکاری و شجرپروری اور جنگلات کی حفاظت کرنا صرف حکومت اور محکمہ جنگلات کی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے، جب تک ہم سب ملک کر اس ذمہ داری کو نہیں نبھائیں گے کامیابی کا حصول ناممکن ہوگا ۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث آئندہ 20 سے30 سالوں تک عالمی سطح پر درجہ حرارت میں1.5 سے5 ڈگری سنٹی گریڈ کا اضافہ متوقع ہے ۔بدقسمتی سے پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو اس سے بری طرح متاثر ہو نگے اور خطہ میں پورا ماحولیاتی نظام غیر متوازن ہو جانے کا اندیشہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمدفاروق حیدرخان نے قومی شجر کاری مہم موسم بہار 2018 ؁ء کے حوالہ سے اپنے خصوصی پیغام میں کیا۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے صدیوں پرانے گلیشیرز کے پگل رہے ہیں جس کی وجہ سے سیلاب ، خشک سالی اور پانی کے ذخائر میں کمی، خوراک کی کمی، سطح سمند ر میں اضافہ کے باعث ساحلی شہروں اور سمندر میں واقع جزیروں کے ڈوبنے کا خطرہ ہے ۔ پوری دنیا ان ماحولیاتی مسائل و مصائب سے نبرد آزما ہونے کیلئے اکھٹی ہے اور حفاظتی اور مدافعتی تدابیر پر غور وخوص کیا جارہا ہے۔ اسی سلسلہ میں دو سال قبل پیرس میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے منعقدہ عالمی کانفرنس میں پاکستان کا دوٹوک موقف سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جاندار انداز میں پیش کیا۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کا اس منفی ماحولیاتی تبدیلی میں تقریباً 80 سے90 فیصد حصہ ہے ۔ لیکن اس منفی ماحولیاتی تبدیلی کا شکار جملہ ممالک یکساں طور پر ہو رہے ہیں ۔ اس ماحولیاتی وموسمیاتی بگاڑ کے نتیجہ میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کے علاوہ گلیشیر ز کا پگھلاؤ، سطح سمندری کی بلندی ، غیر متوقع بارشیں ، غیر متوقع گرمی وسردی ، آبی حیات و حیاتیاتی تنوع میں کمی آبی وسائل کی شدید قلت اور قحط سالی کے علاوہ خطرناک بیماریوں جیسے مسائل ومصائب کا شدید خطرہ ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ پوری دنیا کے سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ کرہ ارض پر نباتاتی آبادی میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کیا جائے تاکہ کاربن ڈائی اکسائیڈ جو کرہ ارض پر درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے جذب ہو سکے اور عالمی درجہ حرارت کو موجود ہ سطح پر قابو کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کی 88 فیصد آبادی دیہات پر مشتمل ہے اور اس میں1947 سے اب تک تقریباً06 گناسے زائد اضافہ ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں جنگلات کے کٹاؤ ، زرعی اراضی کیلئے نوتوڑ کا رجحان تعمیراتی لکڑی ، چارہ اور ایندھن وغیرہ کیلئے سارے کا سارا دباؤ ریاست کے ان ہی جنگلات پر پڑتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت آزادکشمیر اورمحکمہ جنگلات اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے ہر سال دو مرتبہ شجرکاری مہم کو کامیابی کیساتھ ہمکنار کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن آزادکشمیر کی زمینی ساخت ،قدرتی آفات ، عوامی دباؤ اور عوامی لاپرواہی کے باعث جنگلات کی ہزاروں ایکڑ اراضی بردگی، آگ اورغیر قانونی کٹاؤ کا شکار ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ لوگ دانستہ طور پر جنگلات کو آگ لگاتے ہیں ۔ جس کے باعث ریاست اپنے اس قیمتی اثاثے اور قدرتی حسن وجمال سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ اگر ہمارے جنگلات اسی رفتار سے معدوم ہوتے رہے تو نہ صرف اس خطہ کی خوبصورتی جو دنیا بھر میں جنت نظیر کے نام سے مشہور ومقبول ہے ختم ہو کر رہ جائیگی بلکہ انسانی زندگی کے علاوہ سیاحت ، جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع بھی بری طرح متاثر ہو گا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کسی بھی ملک کے جنگلات قدرتی ماحولیاتی نظام کی بقاء ، دھرتی کے حسن میں اضافہ ، پائیدارملکی ترقی اور خوشحالی ، آبی وبرقی وسائل کی مسلسل فراہمی، اس کی زرعی وصنعتی معیشت کے استحکام اور موجودہ و آئندہ نسلوں کے محفوظ و درخشاں مستقبل کے ضامن ہوتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جنگلات ہمیں وراثت میں ایک امانت کے طور پر ملے ہیں جو اچھی حالت میں آنے والی نسلوں کے حوالہ کرنا ہمارا فرض ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...