دستور پاکستان کے بعد متفقہ دستاویز ’’پیغام پاکستان‘‘ ہے‘ پرویز محمد ضیاء الحق

دستور پاکستان کے بعد متفقہ دستاویز ’’پیغام پاکستان‘‘ ہے‘ پرویز محمد ضیاء ...

ملتان(جنرل رپورٹر)دستور پاکستان کے بعد متفقہ دستاویز ’’پیغام پاکستان‘‘ ہے جسے ملک بھر کے تمام مسالک کے علمائے کرام اور جامعات کے سینیئر اساتذہ کرام نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے . اس کا بنیادی مقصد تکفیر کے خطرناک رجحان کو ختم کرنا اور عدم برداشت کو رواداری کو فروغ دینا ہے . ان خیالا ت کا اظہار بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحقیقات اسلامی پرفیسر (بقیہ نمبر39صفحہ7پر )

ڈاکٹر محمد ضیاء الحق نے پیغام پاکستان کے حوالے سے شعبہ علوم اسلامیہ ، اسلامک ریسر چ سنٹر بہاء الدین زکریایونیورسٹی ملتان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن ، وزارت دفاع، وزارت مذہبی امور ، اور برگد یوتھ آرگنائزیشن کے تعاون سے دو روزہ ٹریننگ سیمینار بعنوان ’’ بین المسالک ہم آہنگی ‘‘ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا.انہوں نے یہ بات بھی واضح کی کہ ہم جمود پسند ہونے کی وجہ سے پچھلے ۲۰ سال سے ایک ہی بیانیہ کو لے کر چل تھے ضرورت اس بات کی تھی کہ ایسے بیانیے کو بدلا جاتا ہم آہنگی کے نمائندہ سید مشاہد حسین خالد نے کہاکہ قراّن و سنت میں سے کچھ چیزیں لے کر سیاق و سباق کاٹ کر محض اپنے نقطہ نظر کو درست ثابت کرنے کے لیے اپنی صوابدید پیش کرنے کی بجائے پوری وضاحت سے کسی بھی نظریہ کو قرآن و سنت میں دیکھا جائے.سیمینار سے چیئرمین شعبہ علوم اسلامیہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدوس صہیب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم رواداری کے رجحان کی روک تھام کے لیے ایسے سیمینار ز کی اشد ضرورت ہے. ہمیں ایسے لوگوں کی سوچوں کو روکنا ہوگا ورنہ یہ معاشرے کو تباہی کے دھانے پر لے جائیں گے ڈاکٹر مقرب اکبر ، ڈاکٹر کامران اشفاق ، ڈاکٹر رئیس نعمان ، ڈاکٹر رضیہ شبانہ نے بھی خطاب کیااس موقعہ پر رجسٹرار ڈاکٹر محمد عمر چوہدری ، ڈاکٹر الطاف حسین لنگڑیال اور شعبہ کے اساتذہ و طلباو طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی.

ضیاء الحق

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...