فاروق ستار نے بہادر آباد مرکز کو سنیٹ امید وار نامزدکرنے کا اختیار دیدیا

فاروق ستار نے بہادر آباد مرکز کو سنیٹ امید وار نامزدکرنے کا اختیار دیدیا

کراچی (اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر فاروق ستار اپنے نامزد سینیٹ امیدواروں سے دستبردار ہوگئے ،انہوں نے بہادرآباد مرکز کو امیدوار نامزد کرنے کا اختیار دینے کا اعلان کردیا۔جمعہ کو پی آئی بی کالونی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ سینیٹ کے ٹکٹوں کا جھگڑا ختم ہوگیا مگر سربراہ اور فیصلہ سازی میں اس کے حتمی اختیارات کا مسئلہ تاحال موجود ہے ،میری کوئی انا نہیں ،بس عزت نفس کا مسئلہ ہے،میں ڈیمانڈ کرنا نہیں چاہتا ،پارٹی کمانڈ کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن کی چار نشستوں کے لئے تحلیل شدہ رابطہ کمیٹی کے اراکین سے کہتا ہوں کہ اپنی مرضی کے 4نام دے دیں،وہی میرے امیدوار ہوں گے ،میں ان کے ناموں کا اعلان کردوں گا۔فاروق ستار نے کہا کہ سینیٹ نشستوں کے اراکین کی نامزدگی کا اختیار بہادر آباد گروپ کو دینے کا اقدام بڑے پن کے مظاہرے کے تحت کیا ، آپ کو شاید یہ فیصلہ بڑا نہ لگے۔ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ نے کہ یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ سینیٹ نشستیں یا کوئی فرد ہمارے اختلافات کی وجہ ہے،کارکنوں میں یہ بدگمانی نہیں پھیلائی جائے کہ فاروق بھائی اڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اب میری طرف یہ الزام نہیں آنا چاہیے کہ میں سینیٹ نشستوں کے ناموں کے لئے ناراض ہوں،میں تین مرتبہ بہادرآباد جارہا تھا کوئی نہ کوئی ایکشن وہاں ہوا کہ میں نہیں جاسکا۔فاروق ستارنے کہا کہ بہادر آباد والے الیکشن کمیشن گئے تھے ،انٹرا پارٹی الیکشن کو رکوانے کے لئے لیکن انہیں اسٹے نہیں ملا،بہادرآباد گروپ کا اجلاس غیر آئینی ہے،آج اس کا نتیجہ آجائیگا۔انہوں نے کہا کہ بہادرآباد گروپ نے مجھے دو تہائی اکثریت سے ہٹایا تھا،الیکشن کمیشن نے مجھے پارٹی کے کے کنوینیر کے طور پر برقرار رکھا اور میرے ہی نام سے پارٹی کو رجسٹر رکھا،کارکنوں کو مزید گمراہ نہ کیا جائے۔ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ جو بھی وہاں ہے اس سے کہوں گا واپس آجائے،تنظیم عہدے داروں سے نہیں کارکنوں سے ہوتی ہے،23اگست کو پارٹی کو بکھرنے سے بچایا تھا۔انہوں نے کہا کہ تنظیم کے تمام شعبوں سے اکثریت میرے ساتھ ہے۔ کارکنوں میں یہ بدگمانی نہ پھیلائی جائے کہ میں اپنی ضد پر قائم ہوں، میری ان چار ناموں پر کوئی اور رائے اور مرضی نہیں ہے، جو 4 نام دیئے جائیں گے وہ ہی میری طرف سے ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو کہا گیا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی سربراہی کی رجسٹرڈ کسی اور کے نام سے کریں لیکن پارٹی کو میرے ہی نام پر ہی رجسٹرڈ رکھا جبکہ پارٹی اور پتنگ کا نشان بھی میرے پاس ہے، کارکنوں کو گمراہ نہیں کیا جائے۔ کارکن بھی تحیل شدہ رابطہ کمیٹی کے گمراہ کن پروپیگنڈے میں نہ آئیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...