’’میں کالا جوتا اس لئے نہیں پہنتا کیونکہ ۔۔۔‘‘خانہ کعبہ میں رہنے والے اللہ کے ایک ولی نے شرعا جائز رنگ کو خود پر حرام کیوں کیا؟ آپ بھی جانئے

’’میں کالا جوتا اس لئے نہیں پہنتا کیونکہ ۔۔۔‘‘خانہ کعبہ میں رہنے والے اللہ ...
’’میں کالا جوتا اس لئے نہیں پہنتا کیونکہ ۔۔۔‘‘خانہ کعبہ میں رہنے والے اللہ کے ایک ولی نے شرعا جائز رنگ کو خود پر حرام کیوں کیا؟ آپ بھی جانئے

  


اہل طریقت مقام ادب میں اپنی جانوں اور نفس پر بے حد سختی کیا کرتے ہیں۔عام دنیا جن اشیاء کو ضرورت کے تحت استعمال کرتی ہے،وہ سوئے ادب کی وجہ سے اس سے بھی احترازکرتے ہیں ۔

جماعت دیوبند کے شیخ طریقت حضرت حاجی امداد اللہؒ اکابر اولیاء میں سے ہیں۔ 1857ء میں انہوں نے جہاد کیا ہے پھر انہوں نے مکہ معظمہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ وہیں ان کی وفات ہوئی۔ مکہ معظمہ میں پہنچ کر پوری عمر کبھی سیاہ جوتا نہیں پہنا۔ لوگوں نے شروع شروع میں تو اتفاقی بات سمجھا مگر جب لوگ کالے رنگ کا جوتا لاتے تو ان سے فرماتے کہ دوسرے رنگ کا لاؤ یا سفید لاؤ یہ جوتا نہیں پہنوں گا۔ جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ حضرت کا طریقہ ہے تو پوچھا کہ حضرت سیاہ جوتے میں کیا حرج ہے، فرمایا کہ بیت اللہ شریف کا غلاف سیاہ ہے ، ادب مانع ہوتا ہے کہ وہ رنگ میں اپنے پیروں میں استعمال کروں حالانکہ سیاہ جوتا پہننا شرعاً جائز ہے ۔کوئی قباحت و نقصان نہیں ہے مگر چونکہ جب ادب کا غلبہ ہوتا ہے تو آدمی بعض جائز چیزوں کو بھی ترک کردیتا ہے کیونکہ اس جائز چیز کے استعمال کرنے میں ادب مانع ہوتا ہے۔ جیسے حضرت نے فرمایا کہ مجھے حیا آتی ہے کہ وہ رنگ جو بیت اللہ کے غلاف کا ہے، اس کو پاؤں میں ڈالوں تو ظاہر بات ہے کہ یہاں جائز و ناجائز کی بحث نہیں یہ تو محبت کا غلبہ ہے چونکہ محبت خداوندی اتنی غالب تھی، اسی کے مطابق محبت کعبہ بھی اس قدر غالب تھی کہ اس رنگ کو پاؤں میں لانا گوارہ نہ کیا، کیا ادب کی انتہا تھی۔

مزید : روشن کرنیں


loading...