مزدوری کا کھانسہ دے کر نوجوان کا گردہ نکال لیا گیا

مزدوری کا کھانسہ دے کر نوجوان کا گردہ نکال لیا گیا
مزدوری کا کھانسہ دے کر نوجوان کا گردہ نکال لیا گیا

  


پاکپتن (ویب ڈیسک) چک تھری ای بی کے رہائشی 22 سالہ نوجوان کا لاہور میں نامعلوم مقام پر گردہ نکال لیا گیا، مظلوم نوجوان اور اس کے والد اور قریبی عزیزوں کی وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف سے نوٹس لینے اور گروہ کو گرفتار کرنے کی اپیل کردی۔ 

روزنامہ ایکسپریس کے مطابق چک تھری ای بی کے رہائشی نوجوان نادر علی نے بتایا کہ دس روز قبل اس کے ہم زلف شہباز ولد جلال دین اسے اپنے ساتھ لیا اور کہا کہ ہم لاہور میں مزدوری کے لئے جاتے ہیں جب ٹھوکر نیاز بیگ بائی پاس پر گاڑی سے اترے وہاں ایک کار کھڑی تھی اور اس میں تین نامعلوم افرادبیٹھے ہوئے تھے۔

شہباز نے مجھے کہا کہ تم چلو یہ میرے دوست ہیں، میں کچھ دیر بعد آتا ہوں، کار میں بیٹھنے کے کچھ دیر بعد میں بے ہوش ہوگیا اور تیسرے دن بعد ہوش آئی  تو میری کمر کے قریب پٹی لگی ہوئی تھی اور میری حالت بہت زیادہ خراب تھی، وہاں شہباز آیا تو مجھے چائے پلائی اور کہا ہمیں یہاں کام نہیں ملا ،واپس چک تھری ای بی پاکپتن چلتے ہیں اور یہاں آکر بتایا کہ تمہارا گردہ فروخت کردیا ہے، کوئی کارروائی نہ کرنا، تین لاکھ روپے دے دوں گا۔

نوجوان نادر علی نے بتایا کہ اس کی حالت بہت خراب ہے، چلنا پھرنا بھی بہت مشکل ہے۔ نادر علی کے والد نذیر احمد نے بتایا کہ میں نے اپنے بیٹی کی شادی چک 13 کے بی میں تین سال قبل نیاز اححمد کی بیٹی سے کی تھی، میرا بیٹا ان دنوں چک 13 کے بی میں سسرال کے پاس ہی رہائش پذیر تھا اور وہاں سے ہی اس کا ہم زلف شہباز جو نادر علی کو چکر دے کر مزدوری کے بہانے لاہور لے گیا اور وہاں بڑی رقم لے کر نادر علی کا گردہ فروخت کردیا اور حالت غیر ہونے پر گھر چھوڑ گیا۔

نزید احمد اور اس کے دیگر رشتہ داروں محمد رفیق اور طارق نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے اپیل کی ہے کہ شہباز کو گرفتار کرکے ملزمان کا پتہ لگایا جائے جو لاہور میں نامعلوم مقام پر بیٹھ کر سادہ لوح لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر دولت کمارہے ہیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /پاکپتن


loading...