کالے دھن کا ہوں میں مالک  اِک آنکھ کا تارا

17 فروری 2018 (11:59)

ڈاکٹر شاہد صدیق

میری قسمت کی چابی میرے پاس ہے اس لئے میں دولت مند بھی ہوں اور سرکارکی آنکھ کا تارا بھی- کالا دھن جس پہ میں نہ ٹیکس دوں اور نہ ہی سزا پاؤں- حکومت ہے کہ گاہے بگاہے ایک ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کرتی رہتی ہے کہ جس میں ہم سب مل کے ہاتھ دھوتے ہیں اور مال بناتے ہیں   ،ضرورت کے مطابق کالا دھن سفید کرتے ہیں اور پَوتر ہوئے جاتے ہیں-

 ایک غریب جو بلا واسطہ یا بالواسطہ  ٹیکس ادا کرتا ہے اور اگر معاملہ فہم بھی ہے  تو وہ ایک  نحیف سی آواز اٹھاتا ہے   لیکن نگار خانے میں طوطی کی کون سنتا ہے -ہم امراء کے لئے تو یہ ہماری اپنی بنائی  ہوئی  ایک اسکیم ہے سو ہم سے تو کوئی مخالفت کرنے سے رہا  بس  اگر یہ ہمارے مفاد میں ہے تو پھر اسے منظور ہی منظور سمجھو  - ہم سے  جوشرح وصول کی جائے گی وہ اس ٹیکس سے کہیں کم ہے جو ہم اگر گذرے  برسوں  میں اسی مناسبت سے  اتنی رقم پہ اپنے سفید دھن سے ادا کرتے تو کہیں زیادہ ہوتی- میرے  کاروبار کے لئے پاکستان ایک جنت ہے اور اس ملک کی اشرافیہ وہ  انعام جو  مجھے ہر حال میں سرخرو کرنے کے لئے  مستعد ہے  - اگر یہ نہیں تو میری چلتی فضائی  کمپنیاں دیکھیں، میرے مختلف اقسام کے   ٹرمینلز دیکھیں، کوئی کھاد فیکٹریاں  یا شوگر ملیں دیکھیں اور پھر ان پہ لگتی سرکاری اور غیر سرکاری دیہاڑیاں دیکھیں- میرا پیسہ پھر باہر کیسے جاتا ہے یہ بھی کسی کو کان و کان خبر نہیں ہوتی – دبئی تو تقریبا" آدھا ہم جیسوں کی ہی ملکیت ہے – ہمارے بیرونِ ملک  محلات اور جائیدادیں وہاں کے مستقل مقیم دیکھیں تو منہ میں انگلیاں  ڈالے جاں سے جائیں–

 میری یہ سج دھج پاکستان ہی سے تو ہے – وہ دیکھو سعودی عرب اور ان کے شہزادوں کا حال ان سے ایک سو سات ارب ڈالر  یک جنبش ِ حکم نکال لئے گئے ہیں  - اس سے پہلے  کہ کوئی سر پھرا  میری ایسی دولت کے پیچھے پڑ جائے میں اپنے تحفظ میں کوئی ایسا قانون نہ لاؤ ں تو   آپ ہی بتائیے میں کیا کروں بس کچھ دوں گا اور بہت سارا اینٹھ جاؤں گا پھر نہ رہے  گا بانس اور نہ بجے  گی بانسری- ویسے بھی آج کل میرے دل کے حاکموں پہ بہت سختی کے دن ہیں ایک شنید یہ بھی ہے کہ وہ سعودی عرب  کے قرض کی ادائیگی میں  چند ارب عربی ریال اپنی بساط بھر ڈال آئے ہیں  لیکن شاید خطرہ ابھی بھی باقی ہے تو اس  مال و دولت کو بھی تو کہیں  ٹھکانے لگانا ہے اور اس کے لئے بھی میرا ملکی قانون میرے  احکام کی باندی اور  موم کی ناک ہے جسے جب چاہیں ہم بڑے اسے جس طرف مرضی مروڑ لیں- بھائی احتساب تم غریبوں کا مسئلہ ہے کہ ہر جگہ پِسو بھی اور  جوتے کی نوک پہ رکھے بلبلاتے بھی جاؤ– ہمارا شعار تو ایک ہے کہ پیسہ پھینک تماشا دیکھ-

پاکستان میں اس ایمنسٹی کا کھیل 1990ء سے ایک وقفے سے جاری  ہے- جب سے میرے  دل کے حاکم  مسند ِاقتدار پہ  براجمان ہیں ایسی اسکمیں آتی رہتی ہیں  کوئی جتنا مرضی مال بیگوں بوریوں میں بھرے، بس لاتا جائے اور سفید کرتا جائے ۔ایف بی آر پھر کیسے پوچھ پرتیت کر سکتا ہے- بس ہنڈی کے ذریعے رقم باہر اور بینکوں سے واپس- پھر کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ  ایسی اسکیموں کا فائدہ وہی مخصوص لوگ اٹھاتے ہیں جو پہلے خون نچوڑ کے اربوں بناتے ہیں اور  سیاسی قیادت کی آڑ میں امیر سے امیر ہوئے جاتے ہیں-

 پاکستان میں تقریبا" اکسٹھ ہزار سے زائد نجی  کمپنیوں میں سے صرف دس ہزار کوئی ٹیکس دیتی ہیں- ان میں سے  صرف ایک سو کمپنیاں  چار سو اکتیس ارب روپے ٹیکس دیتی ہیں اور پاکستان کے کل  ٹیکس نیٹ کو دیکھ لیں کہ باقی کیا دیتی ہیں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ یہ اسکیم کس کے مفاد میں ہے –

ٹیکس  نادہندگان کو ٹیکس کی نکیل ڈالنے کی بجائے گھی شکر کے مربے دے کر پالنا کہاں کی دانشمندی ہے- پاکستان کی معیشیت کو ایسے ٹیکے لگانا کہاں کی مسیحائی ہے کہ  ایف بی آر جیسے ملکی ادارے بے بس کر دیئے جائیں – قانون اور اگر قانون کی بات ہو تو ایسا قانون چاہیئے کہ جو  رقم کی یہاں وہاں منتقلی کی بجائے وہ چور رستے بند کرے جن کی مدد  سے  بیرونِ ملک منتقل ہوتی رقم پاکستان کی ترقی پہ لگے اور محنت کشوں کے گھروں میں دیے جلائے-

 ٹیکس کے ان چوروں نے ہمارے موجودہ قانون کا مذاق اڑایا ہے اور اپنے مفاد کے لئے یہ کیسے اکٹھے ہوتے ہیں اس کا عملی مظاہرہ کیا کسی ماڈل نے اپنی شوخ اداؤں سے  ہمیں نہیں دکھایا- جرم کا ارتکاب کرنے والے اگر ایسے چھوڑ دیے جائیں گے تو کیا پیغام ملے گا انہیں  جو باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں- کیا پاکستان میں ٹیکس چوری ، سرمائے کی غیر قانونی منتقلی  اور دیگر امور پہ ایسے قوانین نہیں ہیں کہ جن کو بالائے طاق رکھتے  ہوئے ہم اپنی ذمہ داریوں سے  کترا رہے ہیں- کیا ہم نے  او ای ڈی سی  کے معاہدے پہ دستخط نہیں کئے جس کے مطابق  ایسے پاکستانی کہ جنہوں نے بیرون ملک  چوری کے پیسے چھپائے ہیں وہ خود ہی منظر عام پہ  لائے جائیں گے تو  وہ لوگ کیسے بچ پائیں گے کہ جنہیں یہ سہولت دی جا رہی ہے یا یہ صرف ان امراء کی ایک اعانت ہے کہ  اس سے پہلے کہ سختی ہو اپنا دھن  اونے پونے سفید کر کے  پاکبازوں میں شامل ہو جاؤ- اس معاہدے کے ثمرات  ہماری رسائی  دو ہزار اٹھارہ کے آخر اور دو ہزار انیس کے اوائل سے ان اکاؤنٹس  تک  مہیا کر دے گی کہ جن میں کالا دھن اور لوٹ کا مال محفوظ ہے جس کی بدولت اب  کالے دھن والے پھنستے جائیں گے-  برٹش ورجن آئی لینڈ، آئل آف مینز، لیتھووینیا ،برطانیہ اور  غالبا" جرمنی سے ہماری  پہنچ ان  کالے دھن کی جنتوں  سے انیس سو سترہ سے  ہی شروع ہو چکی ہے پھر یہ تیتر تیزی کس کو بچانے کی ایک آخری کوشش ہے اس کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے – مجھے یقین ہے کہ اگر یہ معلومات ایک عام آدی تک پہچائی جائیں گی تو وہ بھی اس اسکیم کی مخالفت میں نظر آئے گا- ہم نے پچھلی دہائیوں میں تنزلی اور نشیب کے فریب ہی دیکھے ہیں اب ہمیں  ہر ان امور پہ اپنی آواز اٹھانا ہے جن کا تعلق عام انسان سے ہے  تاکہ  کالے دھن کے مالک اور حکومتی آنکھ کے تارے  اب ویسے کھل کھیل نہ سکیں گے جیسا کہ وہ کھیلتے آئے ہیں-                                                                                            

 ۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں