سیاستدان کا بیٹا سیاست نہیں کرے گا تو اورکیا کرے گا بھائی

سیاستدان کا بیٹا سیاست نہیں کرے گا تو اورکیا کرے گا بھائی
سیاستدان کا بیٹا سیاست نہیں کرے گا تو اورکیا کرے گا بھائی

  



لودھراں الیکشن میں علی ترین کی شکست کے بعد بعض حلقوں کی طرف سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جہانگیر ترین کے جا نشین کو شکست دے کر موروثیت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے مگر یہ نہیں بتایا جا رہا کہ جیتنے والے اقبال شاہ کا خاندان بھی غیر سیاسی نہیں۔ان کے خاندان میں بھی پارلیمانی ارکان موجود ہیں ۔ پاکستان کی سیاست میں موروثییت نئی چیز نہیں ہے ۔پورے پورے خاندان اور انکی تین تین نسلیں الیکشن لڑتے رہے ہیں۔ اگر اہلیت اور قابلیت ہے تو موروثی سیاست دان بننے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر ڈاکٹر کا بیٹا ڈاکٹر اور فوجی کا بیٹا فوجی ہو سکتا ہے تو ایک سیاست کرنے والے کی اولاد یا بہن بھائی سیاستدان کیوں نہیں ہو سکتے۔

بنیادی المیہ وہی ہے کہ کیا یہ سب ہمارے یہاں میرٹ پر ہوتا ہے ۔الا ماشاء اللہ چند ایک کو چھوڑ کر آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے ۔محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی سیاست زرداری صاحب یا انکی اولاد کر سکتی ہے ۔یقیناً اسکا جواب نفی میں آئے گا۔ بلاول بھٹو کو بی بی شہید کا متبادل بنانے کی بہت کوشش کی گئیں ،ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا۔ نتیجہ صفررہا۔ صرف محترمہ کے انداز میں تقریر کرنے سے وہ کمال یا وژن حاصل نہیں ہو سکتا جو بے نظیر بھٹو شہید کو حاصل تھا ۔اسی طرح میاں نواز شریف یا شہباز شریف کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر انکی اولاد بھی وہ صلاحیتیں نہیں دکھا پا رہی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ سندھ کا جتوئی خاندان ہو یا شاہ اور ارباب خاندان ۔ پنجاب کے رجوانے ہوں یا ٹوانے ،جھنگ کی بیگم عابدہ حسین ہوں یافخر امام یا انکی صاحبزادی صغریٰ امام۔ لغاری خاندان ہو۔ نواب آف کالا باغ کی فیملی ہو یا خیبر پختونخوا سے بلور خاندان ،ولی فیملی ہو، بلوچستان کے بگتی۔ مینگل۔ کیتھران یا رند قبائلی کے سیاسی خاندان ہوں۔۔۔سوال اک ہی بنتا ہے کیا لیڈر کا بیٹا لیڈر بنے گا؟ کیا انتخاب میں ایم این اے اورایم پی اے کے ٹکٹس انکی اولادوں اور بہن بھائیوں کو ہی ملیں گے ؟ کیا ووٹر کی اولاد سدا ووٹر رہے گی؟ کیا ہماری پارلیمانی سیاست اسی اشرافیہ پر مشتمل رہے گی؟ اگر ایسا ہی ہے تو سمجھ لیں آپکی آئیندہ نسلوں کے حکمران بھی بھٹوز۔ شریف۔ اور یہی روایتی خاندان ہونگے۔

تم کو گماں ہے رستہ کٹ رہا ہے

مجھے یقیں ہے منزل کھو رہے ہو

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...