فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر362

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر362
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر362

  


کراچی ہی کے فنکار وحید مراد بھی تھے۔ وہ صف اوّل کے تقسیم کار نثار مراد کے اکلوتے صاحب زادے تھے۔ نثار مراد صاحب ایک متّمول اور بااثر آدمی تھے۔ محاورے کے مطابق وحید مراد سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوئے تھے۔ ماں باپ دونوں کی آنکھ کا تارہ اور احباب کے لاڈلے تھے۔ سانولی سلونی شکل‘ ذہانت‘ رکھ رکھاؤ‘ پُرکشش شخصیت۔ زمانۂ طالب علمی میں بھی ایک محبوب اور مقبول شخصیت تھے۔ دنیا کی کون سی نعمت اور آسائش تھی جو انہیں حاصل نہ تھی۔ بہت اچھے نمبروں سے انگریزی لٹریچر میں ایم اے کا امتحان پاس کیا تو باپ نے توّجہ دلائی کہ اب انہیں ان کا بزنس سنبھال لینا چاہیے۔ وحید مراد کے اس بارے میں اپنے ذاتی خیالات تھے۔ ڈسٹری بیوشن سے انہیں زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ وہ فلم سازی کے شعبے کو اپنانا چاہتے تھے۔ اسی لیے پہلے درپن صاحب کو ہیرو کاسٹ کرکے ایک فلم بنائی۔ پھر اداکاروں کے نخروں سے تنگ آئے تو خود اداکار بننے کا فیصلہ کیا۔ بہت ذہین اور سوجھ بوجھ والے تھے اس لیے بذات خود تجربہ کرنے کے بجائے پہلے دوسرے فلم سازوں اور ہدایت کاروں کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دی۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر361 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’دامن‘‘ اور’’ اولاد‘‘ میں کام کیا تو بہت پسند کیے گئے۔ خاص طور پر سنتوش صاحب کی فلم ’’دامن‘‘ میں ان کا ماڈرن اور شوخ کردار بہت مقبول ہوا۔ پرویز ملک ان کے زمانہ طالب علمی کے دوست تھے اور وہ بھی فلموں کے شوقین تھے۔ وہ امریکہ سے فلم تکنیک کی ڈگری لے کر آئے تو وحید مراد نے ان کے ساتھ مل کر فلم سازی کا آغاز کیا۔ پرویز ملک کیمرا وغیرہ اپنے ہمراہ لے کر آئے تھے ’’ہیرا اور پتھر‘‘ ان کی پہلی فلم تھی جس میں وحید مراد کے بالمقابل زیبا نے ہیروئن کا کردار کیا تھا۔ پہلا ہی تجربہ کامیاب رہا۔ اس فلم میں وحید نے گدھا گاڑی چلانے والے غریب نوجوان کا کردار کیا تھا۔ اس فلم میں سہیل رعنا موسیقار تھے اور مسرور انور نغمہ نگار۔ ان چاروں کا ساتھ کافی عرصہ قائم رہا اور انہوں نے ’’ارمان‘‘ کے علاوہ اور بھی کئی معیاری اور کامیاب فلمیں تخلیق کیں۔ مگر رفتہ رفتہ یہ سب بکھر گئے۔ دوسری چیزوں کے علاوہ اس میں وحید مراد کی خالص کاروباری ذہنیت اور موقع پرستی کو بھی دخل تھا۔ وحید مراد کے والد کے پاس بھی پیسہ تھا مگر وحید مراد نے جتنا پیسہ کمایا وہ اس سے بھی کہیں زیادہ تھا۔ شہرت‘ دولت‘ مقبولیت وحید مراد کے گھر کی باندیاں ہوگئیں۔ ان کے پرستاروں کی تعداد لاکھوں کروڑوں میں تھی۔ وہ پاکستان کے واحد اداکار ہیں جن کی پیروی کرکے نوجوان خوش ہوا کرتے تھے۔ ان کے بال‘ ان کی چال۔ ان کا اندازِ گفتگو بے شمار نوجوانوں نے اپنا لیا تھا۔ صنف مخالف میں بھی وہ بے حد مقبول تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ وحید مراد جیسی مقبولیت پاکستان کے کسی اور ہیرو کے حصّے میں نہیں آئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ سُپراسٹار بن گئے۔ فلم سازی کی تو اس میں بھی کامیاب رہے۔ ہدایت کاری پہ بھی ہاتھ صاف کیا مگر یہ تجربہ زیادہ کامیاب نہ رہا۔

گانوں کی پکچرائزیشن‘ رومانی مکالموں کی ادائیگی اور رقص ان کی منفرد خوبیاں تھیں مگر پھر جب دورِ زوال شروع ہوا تو زوال کا یہ سفر کسی طرح رُکنے میں نہ آیا۔ وحید مراد نے بہتیرے ہاتھ مارے مگر اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل نہ کرسکے۔ ان کے پاس دولت‘ شہرت‘ صلاحیت‘ تجربہ‘ خوداعتمادی‘ تعلیم‘ صحت‘ شکل و صورت سبھی کچھ تھا مگر ناکامی کو انہوں نے اپنے ذہن اور اعصاب پر سوار کرلیا تھا۔ یہ مایوسی اور محرومی روز بروز بڑھتی جارہی تھی۔ انہوں نے منشّیات کا سہارا لیا مگر ناکام رہے۔ الٹی صحت تباہ کر بیٹھے۔ سماجی زندگی ختم ہوگئی۔ ساکھ مٹی میں مل گئی۔ انہوں نے بہت کوشش کی مگر خود کو اس گنبد سے باہر لانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ آخری سالوں میں ان کی حالت دیکھ کر دُکھ بھی ہوتا تھا اور عبرت بھی۔ صحت نے جواب دے دیا تھا۔ خود فراموشی کے عالم میں لاہور میں نہروالی سڑک پر ایک حادثہ کر بیٹھے تھے جس کے نقوش ان کے چہرے پر دیکھتے جاسکتے تھے۔ اس حادثے کی اطلاع ہم کو بھی اتفاقاً ہی ہوگئی تھی۔ اس زمانے میں ان کے گھر والے امریکہ گئے ہوئے تھے اور نوکروں کے سوا گھر میں کوئی نہ تھا۔ وہ کار لے کر نکلے اور حادثہ کر بیٹھے۔ کافی دیر کے بعد کسی نے اطلاع دی تو انہیں بے ہوشی کے عالم میں سروسز ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ ان کی حالت اور حلیہ دیکھ کر کوئی بھی نہ پہچان سکا کہ وہ اپنے زمانے کے مقبول ترین ہیرو وحید مراد ہیں۔ ان کے ایک مداح کی نظر پڑی تو اس نے انہیں پہچان کر فلم کے لوگوں کو اطلاع دی۔ ہدایت کار جاوید فاضل ہسپتال پہنچنے والی پہلی فلمی شخصیت تھے۔ انہوں ہمیں مطلّع کیا۔ ہسپتال پہنچے تو وحید کو دیکھ کر رونگھٹے کھڑے ہوگئے۔ وہ جنرل وارڈ کے ایک بیڈ پر میلے سے کمبل میں لپٹے ہوئے زخمی اور بے ہوش پڑے ہوئے تھے۔ کسی نے ان کی خبرگیری کرنے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی تھی۔ جاوید نے ہسپتال کے ایم ایس سے بات کرکے وحید کو پرائیویٹ کمرے میں منتقل کردیا اور فلم انڈسٹری کے لوگوں کو ان کے بارے میں اطلاع دی۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر363 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ


loading...