لودھراں نے ثابت کر دیا کہ فیصلے امپائر کی انگلی سے نہیں عوام کے انگوٹھے سے ہوتے ہیں، لاڈلے کو اب قوم سبق سکھائے گی: نواز شریف

لودھراں نے ثابت کر دیا کہ فیصلے امپائر کی انگلی سے نہیں عوام کے انگوٹھے سے ...
لودھراں نے ثابت کر دیا کہ فیصلے امپائر کی انگلی سے نہیں عوام کے انگوٹھے سے ہوتے ہیں، لاڈلے کو اب قوم سبق سکھائے گی: نواز شریف

  


لودھراں (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیراعظم نواز شریف نے لودھراں ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دینے پر لودھراں کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے ووٹ کا تقدس اور احترام بحال کیا ہے اور ثابت کر دیا کہ فیصلے امپائر کی انگلی سے نہیں عوام کے انگوٹھے سے ہوتے ہیں۔

2018ءمیں انتخابات میں پاکستان کا ہر حلقہ لودھراں بن جائے گا اور ضمنی انتخاب سے سبق سیکھنے کا کہنے والے لاڈلے کو اب قوم سب سکھائے گی۔ یقین دلاتا ہوں کہ سب کو ان کی دہلیز پر انصاف ملے گا، اپنا مکان ہو گا، سر پر چھت ہو گی اور ہر کوئی باعزت روزگار حاصل کرے گا۔

لودھراں میں مسلم لیگ (ن) کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے کہا کہ شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز شریف کو ساتھ لے کر ذاتی طور پر مبارکباد پش کرنے آیا ہوں۔ حمزہ شہباز شریف اور مریم نواز شریف دوبارہ لودھراں آئیں گے اور آپ سے بات کریں گے۔

مجھے کتنی خوشی ہوئی، آپ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے ، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں لودھراں کے عوام کو کیسے مبارکباد دوں۔ اقبال شاہ جیسے نیک دل اور فرشتہ صفت انسان کو ووٹ دے کر آپ نے نواز شریف اور شہباز شریف کا مان بڑھایا ہے۔ آپ نے ثابت کیا ہے کہ فیصلے امپائر کی انگلی نہیں، عوام کے انگوٹھے کرتے ہیں۔

لودھراں کا فیصلہ پنجاب میں نہیں، پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں گونج رہا ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے 2018ءکے انتخابات میں پاکستان کا ہر حلقہ لودھراں بن جائے گا۔ میں نے شہباز شریف سے بات کی اور کہا کہ لودھراں چلنا ہے، میں نے حمزہ سے بات کی، عبدالرحمان سے بات کی تو ان کا خیال تھا کہ کچھ دنوں بعد جائیں تاکہ عوام کو باخبر کریں کہ ہم لودھراں جا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ دیر سے گئے تو کیا گئے جانا تو اب ہی چاہئے اور آج ہی جانا ہے۔

میں نے عبدالرحمان نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹینٹ اور قناتیں لگانے کی ضرورت نہیں، کسی بڑے سے میدان میں کنونشن کر لیا ہوتا تو پورا لودھراں موجود ہوتا لیکن میں اس بات پر قائل ہو گیا ہوں کہ آپ نے نبض پر ہا تھ رکھا اور کہا کہ یہاں پر اس قسم کی سیاست نہیں چلے گی، یہاں ووٹ کا تقدس بحال ہو کر رہے گا، آپ نے ووٹ کے احترام کو بحال کیا۔

آپ نے ان لوگوں کو رد کیا جنہوں نے پچھلے پانچ سال سوائے جھوٹ بولنے، بہتان تراشی اور الزام تراشی کے کچھ نہیں کیا۔ آج لاڈلا کہتا ہے کہ ہم نے لودھراں سے سبق سیکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پانچ سال بعد تمہیں لودھراں کا اور سبق سیکھنے کا خیال آ گیا ہے، میں کہتا ہوں کہ اب تم سبق نہیں سیکھو گے بلکہ قوم تمہیں سبق سکھائے گی، اب خلق خدا تمہیں سبق سکھائے گی۔ ہم نے بجلی سستی کی اور کھاد بھی سستی ہوئی ہے، کہاں 2200 روپے کھاد تھی اور آج 1300 روپے میں مل رہی ہے۔

لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں شہباز شریف کا بہت بڑا ہاتھ ہے جنہوں نے 20,20 مہینوں میں بڑے بڑے منصوبے لگائے اور تیزی سے بجلی کی پیداوار ہوئی۔ ہم نے دہشت گردی کو ختم کیا اور کراچی کا امن واپس لائے، وہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور اسے کراچی ٹھیک کرنا چاہئے تھا لیکن ہم نے کیا۔ وہاں روز ہڑتالیں اور مظاہرے ہوتے تھے، چھینا جھپٹی ہوتی تھی، چوریاں ڈکیتیاں ہوتی تھیں لیکن اب سب کچھ ختم ہو گیا ہے اور کراچی پرامن بن گیا ہے۔

خیبرپختونخواہ میں جس کی حکومت ہے آپ اسے بھی جانتے ہیں، اسی کا نمائندہ علی ترین بھی یہاں الیکشن لڑ رہا تھا جو کہتا تھا کہ الیکشن تو ہم جیت چکے ہیں بلکہ لیڈ میں اضافہ کرنا ہے۔ کہتا تھا کہ پچھلی مرتبہ 40 ہزار ووٹوں سے الیکشن جیتا تھا اب 50 ہزار سے اوپر کی بات کرو، لیڈ بڑھانا تو دور کی بات 27 ہزار سے ہار گئے ہو، اتنی رعونت اور تکبر اچھا نہیں ہوتا، اللہ سے ڈرو۔ آگے الیکشن آ رہا ہے اور میں پورے ملک میں بڑی اچھی فضاءدیکھ رہا ہوں،

یہاں سے کامیاب ہونے والے اقبال شاہ کا کہنا ہے کہ ہمارے علاقے میں گیس کا خیال رکھئے گا جس پر میں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) جیتے گی تو سب سے پہلے ضلع لودھراں میں گیس آئے گی۔ آج میں وزیراعظم نہیں ہوں اور مجھے نکال دیا گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ نواز شریف نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، اس لئے چھٹی کرو، گھر جاﺅ۔ وزیراعظم کو فارغ کر دیا گیا حالانکہ کوئی ایک روپے کی رشوت کا الزام ہے اور نہ ہی کسی کک بیک یا کمیشن کا الزام ہے۔ لیکن جب کچھ نہیں ملا تو یہ کہہ کر نواز شریف کو نکال دیا کہ تم نے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی۔

آنے والے انتخابات میں آپ نے کچھ بڑے فیصلے کرنے ہیں اور وعدہ کریں کہ جو کچھ اس ملک میں 70 سالوں سے ہو رہا ہے، اس کو ختم کریں گے۔ کیا وہی کچھ ہوتا رہے گا یا بدل جائے گا؟ کیا آپ کے ووٹ کی حرمت کو اسی طرح پاﺅں کے نیچے روندا جائے گا؟ اپنے ووٹ کے تقدس کی حفاظت کرو گے؟ آپ کا وزیراعظم اسی طرح سے رسوا اور ذلیل ہوتا رہے گا؟ کیا جسے آپ وزیراعظم منتخب کرتے ہیں، کیا اس کو اسی طرح سے نااہل کیا جائے گا؟ یہ فیصلہ آپ نے اور پوری قوم نے کرنا ہے اور انشاءاللہ میں اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) جیتے گی اور جتنے بھی غریب لوگ ہیں ان کو دروازے کی دہلیز پر انصاف ملے گا۔

ہم نے ہیلتھ کارڈ شروع کئے ہیں اور شہباز شریف جگہ جگہ جا کر ہیلتھ کارڈ دے رہے ہیں تاکہ غریب لوگوں کو علاج کی سہولیات مل سکیں لیکن اب ہم ایسا پروگرام مرتب کر رہے ہیں کہ جتنے بھی لوگ یہاں پر بغیر مکان اور چھت کے ہیں اور ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ ایک کمرہ بھی تعمیر کر سکیں، سب کو مکان فراہم کیا جائے گا اور گھر دئیے جائیں گے اور یہ آپ جانتے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے جب بھی کوئی وعدہ کیا ہے اسے پورا کیا ہے۔

خیبرپختونخواہ حکومت نے کبھی اپنا کوئی وعدہ پورا نہ کیا اور پانچ سال کوئی کام کیا نہ کسی چیز پر توجہ دی۔ آج وہاں میٹرو بس بنا رہے ہیں لیکن وہ ابھی تک نہیں بنی، پہلے اسے جنگلہ بس کہتے رہے اور آج پشاور میں وہی جنگلہ بس بنا رہے ہیں۔ گزشتہ پانچ سال یہ سب کہاں تھے۔ ان کی کارکردگی صفر ہے اور اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ انہوں نے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا لیکن پنجاب میں ملتان، راولپنڈی اور لاہور میں میٹرو بس چل رہی ہے۔

لودھراں سے سپیڈو بس بھی چل رہی ہے جس کی تعداد میں مزید اضافہ کریں گے۔ ابھی تو آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ لاہور سے ملتان موٹروے مکمل ہو رہی ہے، اگلے ایک سے دو مہینے میں موٹر وے سے لاہور جا سکیں گے، موٹروے سے آگے یہاں سکھر جا سکیں گے، اور وہ دن دور نہیں جب آپ موٹروے سے ملتان اور پھر کراچی جا سکیں گے، یہ سب زیر تعمیر ہے، ہم سب کچھ بنا رہے ہیں۔

مزید : قومی /علاقائی /پنجاب /لودھراں /اہم خبریں


loading...