بھارتی سپریم کورٹ نے 100سال پرانا پرانے تنازعہ کا فیصلہ سنا دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے 100سال پرانا پرانے تنازعہ کا فیصلہ سنا دیا
بھارتی سپریم کورٹ نے 100سال پرانا پرانے تنازعہ کا فیصلہ سنا دیا

  


نئی دہلی(این این آئی)بھارتی سپریم کورٹ نے تقریبا ایک صدی پرانے پانی کے تنازعے سے متعلق فیصلہ سنا دیا ہے، یہ فیصلہ بھارت کے بڑے دریاؤں میں سے ایک دریائے کاویری سے متعلق ہے۔

بھارتی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ کے اس بینچ کی سربراہی چیف جسٹس دیپک مِشرا خود کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں کرناٹک ریاست کو ملنے والے دریائی پانی میں اضافہ جبکہ تامل ناڈو ریاست کے لیے پانی کا مخصوص کوٹہ کم کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ دریائے کاویری بھارت کے بڑے دریاؤں میں سے ایک ہے اور اسے کرناٹک اور تامل ناڈو کی ریاستوں کے لیے انتہائی اہم خیال کیا جاتا ہے، یہ دریا کرناٹک ریاست سے بہتا ہوا نیچے کی طرف ریاست تامل ناڈو کی طرف جاتا ہے اور پھر خلیج بنگال سے بحرہند میں جا گرتا ہے۔سپریم کورٹ کے حکم نامے کے مطابق ریاست کرناٹک اب تقریبا 177بلین کیوبک فٹ پانی تامل ناڈو کو دیا کرے گی،یہ اس کوٹے سے ایک 192بلین کیوبک فٹ کم ہے جو پہلے تامل ناڈو کو فراہم کیا جاتا تھا۔ قبل ازیں تامل ناڈو کے لیے پانی کا یہ کوٹہ2007میں بننے والے کاویری واٹر ٹریبیونل نے مختص کیا تھا۔

کرناٹک حکومت کے مشیر موہن وی کٹرکی کا عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھاکہ اس فیصلے کے دور رس نتائج ثابت ہوں گے اور یہ امن کے ساتھ ساتھ تلخیوں کے خاتمے کا موجب بھی بنے گا، یہ ایک متوازن فیصلہ ہے۔دریائے کاویری ایک طویل عرصے سے دونوں ریاستوں کے درمیان تنازعے کا باعث بنا ہوا ہے۔ دونوں ریاستوں کا موقف ہے کہ ان کے کسانوں کو اپنی فصلوں کے لیے زیادہ پانی کی ضرورت ہے۔ دونوں ریاستوں کے مابین یہ تنازعہ ماضی میں کیے جانے والے2 معاہدوں کے بعد شروع ہوا تھا۔ ان میں سے ایک معاہدہ 1892جبکہ دوسرا 1924 میں طے پایا تھا۔اس عدالتی فیصلے کے سیاسی نتائج بھی ثابت ہوں گے کیوں کہ چند ماہ بعد ہی کرناٹک ریاست میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ 

لائیو ٹی وی دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مزید : بین الاقوامی


loading...