امریکی سکول میں فائرنگ، 17 بچے ہلاک، یہ کام کیوں کیا؟ حملہ آور کو پکڑا گیا تو اس نے بھی بالکل وہی بات کہہ دی جو زینب کے قاتل عمران نے پکڑے جانے پر کہی تھی

امریکی سکول میں فائرنگ، 17 بچے ہلاک، یہ کام کیوں کیا؟ حملہ آور کو پکڑا گیا تو ...
امریکی سکول میں فائرنگ، 17 بچے ہلاک، یہ کام کیوں کیا؟ حملہ آور کو پکڑا گیا تو اس نے بھی بالکل وہی بات کہہ دی جو زینب کے قاتل عمران نے پکڑے جانے پر کہی تھی

  


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ریاست کیلیفورنیا میں گزشتہ دنوں ایک شخص نے سکول میں فائرنگ کرکے 17بچوں کو قتل کر دیا تھا۔ پولیس نے جب اسے گرفتار کرکے تفتیش کی تو اس نے اپنے اس گھناؤنے جرم کی ایسی وجہ بتا دی کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 19سالہ نکولس کروز نامی اس ملزم نے کہا کہ ’’مجھے شیطانی آوازیں آتی تھیں اور یہ کام کرنے کو کہتی تھیں، ان کے کہنے پر ہی میں نے سکول میں جا کر فائرنگ کی۔‘‘ کیس کی تفتیش کرنے والی لیگل ٹیم کا کہنا ہے کہ ’’ملزم آٹزم اور ڈپریشن سمیت کئی دیگر بڑی نفسیاتی بیماریوں کا شکار تھا۔ 2010ء سے اب تک اس کے گھر میں پولیس نے 39بار فون کالز کیں۔ یہ تمام کالز اس ملزم کے ذہنی معذور ہونے اور اس کے بچوں اور بڑوں کے استحصال کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل پیدا کرنے پر کی گئیں۔‘‘

رپورٹ کے مطابق کروز لے پالک تھا اوراس کی لے پالک ماں گزشتہ سال نومبر میں نمونیا کے باعث انتقال کر گئی تھی جبکہ اس کا باپ کئی سال قبل ہارٹ اٹیک سے جاں بحق ہو چکا تھا۔کروز کو گزشتہ سال سکول سے بھی نکال دیا گیا تھا جس کی وجہ اس کی طلبہ کے ساتھ آئے روز کی لڑائیاں تھیں۔اس نے گزشتہ سال اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھی لکھا تھا کہ ’’میں سکول شوٹر بننے جا رہا ہوں۔‘‘واضح رہے کہ کروز کے خلاف 17بچوں کو قتل کرنے کے الزامت کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس پر اسے فلوریڈا کے قوانین کے مطابق سزائے موت ہو سکتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...