’جو مرد ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں ان کے نطفے میں یہ تبدیلی آتی ہے کہ۔۔۔‘ سائنسدانوں نے مردوں کے لئے سخت وارننگ جاری کردی

’جو مرد ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں ان کے نطفے میں یہ تبدیلی آتی ہے کہ۔۔۔‘ ...
’جو مرد ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں ان کے نطفے میں یہ تبدیلی آتی ہے کہ۔۔۔‘ سائنسدانوں نے مردوں کے لئے سخت وارننگ جاری کردی

  


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈپریشن اور ذہنی دباؤکے انسان کی صحت پر انتہائی منفی اثرات سے سبھی آگاہ ہیں تاہم اب سائنسدانوں نے جدید تحقیق میں ان کا مردوں کے لیے ایسا نقصان بتا دیا ہے جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی یونیورسٹی آف میری لینڈ کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ’’جو مرد ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں ان کے سپرمز کا ڈی این اے ہی تبدیل ہو جاتا ہے اور ان کے ہاں ڈپریشن اور شدیدنفسیاتی بیماری پی ٹی ایس ڈی کے شکار بچے پیدا ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہو جاتے ہیں۔‘‘

تحقیقاتی نتائج کے مطابق ذہنی دباؤ سے مردوں کے نطفے کے ڈی این اے میں جو منفی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں ان کی وجہ سے ان کے بچے کے دماغ کی نشوونما شدید متاثر ہوتی ہے۔تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ٹریسی بیلے کا کہنا تھا کہ ’’اس تحقیق میں ہم نے چوہوں پر تجربات کیے ہیں جن میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ والد کالائف سٹائل، خوراک، ورزش کی عادت، رویہ اور اس کا ماحول بھی اس کے بچے کی نشوونما پر متاثر ہوتا ہے۔بالخصوص بچے کا دماغ اس سے زیادہ متاثر ہوتا ہے اور بچے میں یہ تمام ذہنی و نفسیاتی بگاڑ اس وقت آتے ہیں جب وہ ماں کے پیٹ میں پرورش پا رہا ہوتا ہے۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...