اپنی موت کے بعد سعودی کفیل نے اپنے سابقہ غیر ملکی ملازم کے لئے وہ کام کر ڈالا جو کوئی اپنوں کے لئے بھی نہیں کرتا، نئی مثال قائم کردی

اپنی موت کے بعد سعودی کفیل نے اپنے سابقہ غیر ملکی ملازم کے لئے وہ کام کر ڈالا ...
اپنی موت کے بعد سعودی کفیل نے اپنے سابقہ غیر ملکی ملازم کے لئے وہ کام کر ڈالا جو کوئی اپنوں کے لئے بھی نہیں کرتا، نئی مثال قائم کردی

  


ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں کفیلوں کے ہاتھوں غیرملکی ورکرز کے استحصال کی خبریں تو گاہے آتی رہتی ہیں لیکن اب ایک کفیل نے اپنی موت کے بعد انسانی ہمدردی کی ایسی مثال قائم کر دی ہے کہ سن کر ہر کوئی داد دینے پر مجبور ہو گیا۔عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق شکر سویلیم الشمیری نامی اس کفیل کے پاس ایک سری لنکن شہری 22سال قبل بطور ڈرائیور نوکری کرتا تھا۔ اس نے 1996ء میں نوکری چھوڑ دی اور واپس سری لنکا چلا گیا۔ گزشتہ دنوں یہ کفیل جب بیمار پڑا تو اس نے وصیت میں اپنے لواحقین کو ہدایت کی کہ ’’محمد زیزان حمید نامی اس ڈرائیور کو ’اینڈآف سروس بینیفٹس‘ کے طور پر 11ہزار ریال (تقریباً 3لاکھ 24ہزار روپے)ادا کیے جائیں۔اگر وہ زندہ نہ ہو تو اس کے خاندان کو یہ رقم ادا کی جائے۔‘‘

کفیل کی موت کے بعد اس کے پوتے عبداللہ نے یہ رقم سری لنکن سفارتخانے کے حوالے کر دی ہے۔ اس نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے رقم ادا کرنے کی رسید بھی دکھائی اور کہا کہ ’’میرے دادا نے مرنے سے پہلے یہ وصیت کی تھی جو میں نے پوری کر دی۔‘‘ سعودی عرب میں تعینات سری لنکن سفیر انڈیکا تھیلاکارتنے کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے رقم سری لنکا کی بیورو آف فارن ایمپلائمنٹ کو ارسال کر دی ہے جو زیزان کو تلاش کرکے اسے ادا کر دے گی۔‘‘

مزید : عرب دنیا


loading...