دوہرے، تہرے نظام تعلیم کے باعث طبقاتی تقسیم خوفناک حد تک بڑھ گئی، تعلیمی اداروں کو ہر قسم کی انتہا پسندی اور منفی سیاست سے پاک کرنا ہو گا:ڈاکٹر حسین محی الدین

دوہرے، تہرے نظام تعلیم کے باعث طبقاتی تقسیم خوفناک حد تک بڑھ گئی، تعلیمی ...
دوہرے، تہرے نظام تعلیم کے باعث طبقاتی تقسیم خوفناک حد تک بڑھ گئی، تعلیمی اداروں کو ہر قسم کی انتہا پسندی اور منفی سیاست سے پاک کرنا ہو گا:ڈاکٹر حسین محی الدین

  


لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن)تحریک منہاج القرآن کے صدر ڈاکٹر حسین محی الدین القادری نے کہا ہے کہ دوہرے، تہرے نظام تعلیم کے باعث طبقاتی تقسیم بڑھ گئی اور پاکستان کے اندر دو پاکستان قائم ہو چکے ، ایک پاکستان میں انگلش میڈیم سکول حاکم تیار کررہے ہیں اوربقیہ بنیادی سہولتوں سے محروم تعلیمی ادارے ناخواندہ اورمحکوم پیدا کررہے ہیں،آئی ٹی کے انقلاب کی اس صدی میں پاکستان کو طبقاتی نظام تعلیم کے ذریعے زمانہ غار کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔

ذرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے طلبہ کے 60 رکنی وفد سے  ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حسین محی الدین نے کہا کہ سوسائٹی میں امن اور اعتدال لانے کیلئے یونیورسٹیز کے طلبہ، اساتذہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ہر قسم کی انتہا پسندی اور منفی سیاست سے پاک کرنا ہو گا، سوسائٹی کو انتہا پسندی اور عدم برداشت سے پاک کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، اساتذہ اور طلبہ کو مل کر طبقاتی نظام تعلیم کو ختم کرنا ہوگا، ایک نصاب ہی ہمیں اعتدال کے راستے پر ڈال سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت تین قسم کے تعلیمی انسٹیٹیوشن تعلیم دے رہے ہیں جن میں پبلک سیکٹر کے عوامی تعلیمی ادارے ہیں جو بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور یہاں استاد بن کر تعلیم دینے والے معاشی، تنگ دستی کی وجہ سے باامر مجبوری استاد بنے، دوسرا نظام تعلیم پرائیویٹ انگلش میڈیم سکولوں پر مشتمل ہے جو منہ مانگی فیسیں لے کر غیر ملکی نصاب اور تہذیب کو پروان چڑھارہا ہے، تیسرے نمبر پر مذہبی مدارس ہیں جہاں پر مسلک پڑھایا جارہا ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ کیلئے مارکیٹ میں کوئی جابز نہیں ہوتیں اور اس طرح یہ تینوں نظام تعلیم قوم کو خانوں میں تقسیم کررہے ہیں اور ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں جس کی سزا بطور قوم اور بطور ریاست مل رہی ہے، اسی تقسیم کا نتیجہ ہے کہ ہم انتہا پسندی اور دہشتگردی کی دلدل میں دھنس چکے ہیں۔

ڈاکٹر حسین محی الدین نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ان کی اہلیت اور صلاحیت کے مطابق روزگار کے مواقع نہیں مل رہے، پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی 60فیصد آبادی 24سال سے کم عمر کی ہے، اگر نوجوانوں کیلئے مربوط پالیسی اور حکمت عملی نہ آئی تو پھر یہی طاقت تباہی کیلئے بھی استعمال ہو سکتی ہے، پڑھے لکھے نوجوان پاکستان کا مستقبل اور امید ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ ایک دوسرے پر تنقید کر کے وقت گزارنے کی بجائے سوسائٹی کا ہر طبقہ اسلام کے اخوت ،اتحاد اور رواداری پر مبنی پیغام اور تعلیم کو اختیار کرے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...