سعودی ولی عہد کا دورۂ پاکستان

سعودی ولی عہد کا دورۂ پاکستان
سعودی ولی عہد کا دورۂ پاکستان

  

سعودی ولی عہد 17 فروری سے پاکستان کے دو روزہ دورے پر آ رہے ہیں، ان کا سیکیورٹی عملہ پہلے ہی پاکستان پہنچ چکا ہے، جبکہ انتظامات بھی شروع کر دیئے گئے ہیں۔ سعودی ولی عہد کی آمد کے موقع پر امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ پاکستان میں 20 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کا اعلان کریں گے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے موقع پر اربوں ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کئے جائیں گے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے علاقائی جیو پولیٹیکل چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔

سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں سب سے اہم گوادر پورٹ پر تیل کی ریفائنری اور آئل کمپلیکس میں10ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہے۔اس دورے کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے کئی معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

سعودی عرب میں توانائی کے وزیر الخالد الفالح نے جنوری میں گوادر پورٹ کے دورے کے موقع پر تیل کی ریفائنری اور پیٹروکیمیکلز کمپلیکس کے لئے 10ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔سعودی عرب تیل کی دیگر سپلائرز کی طرح دُنیا بھر میں ریفائنری اور پیٹروکیمیکلز کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گوادر سے چین تک پائپ لائن کی تعمیر سے سپلائی کی مدت40 روز سے کم ہو کر صرف 7 روزتک ہو جائے گی۔

چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے تعمیر کردہ گوادر پورٹ مستقبل میں ایک انڈسٹریل حب ہو گا، جس سے وسطی ایشیا، افغانستان، مشرق وسطی اور افریقا تک رسائی آسانی سے ہو گی۔ البونین کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ ساتھ پاکستان سرمایہ کاری کے لئے ایک تیسرے امیر پارٹنر کی شمولیت کا بھی خواہاں ہے،جو اس کی رقوم کی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہو، لیکن سنگاپور کے راجرتنام سکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے سینئر رکن جیمز ایم ڈورزے کا کہنا ہے کہ تاحال چین اقتصادی راہداری تک دیگر شراکت داروں کی شمولیت کی مخالفت کر رہا ہے، جن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گوادر میں سعودی عرب کی طرف سے کسی بھی قسم کی سرمایہ کاری کے جیو پولیٹکل اثرات ہوں گے۔ایران نے گزشتہ برس چاہ بہار بندرگاہ کا افتتاح کیا تھا جو خشکی میں گرے افغانستان کے لئے سپلائی کی خاطر اہم روٹ ہو گا اور بھارت کو افغانستان جانے کے لئے اپنے سخت حریف پاکستان کا سہارا نہیں لینا پڑے گا۔ بھارت، افغانستان تک اپنی سپلائی وسطی ایشیا اور افریقہ تک اپنی تجارت قائم کرنے کے لئے اہم سمجھتا ہے۔

تاہم ریاض کسی بھی قسم کی انڈیا پاکستان دشمنی میں شامل نہیں ہو نا چاہتا۔سعودی عرب نے بھارت کے ساتھ سٹرٹیجک اہمیت کے حامل توانائی کے معاہدے کر رکھے ہیں،جہاں تیل کی طلب تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔ اسی طرح سعودی عرب مغربی بھارت میں بھی بڑی ریفائنری اور پیٹروکیمیکلز کمپلیکس کی تعمیر کے لئے 44 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -