ہم دھوکا دینے اور دھوکا کھانے والے عوام ہیں

ہم دھوکا دینے اور دھوکا کھانے والے عوام ہیں
ہم دھوکا دینے اور دھوکا کھانے والے عوام ہیں

  


اس مضمون کا محرک دو، تین ایسے واقعات اُوپر تلے ہوئے کہ میَں نے اس موضوع پر اپنا قلم اُٹھایا ہے ۔ میَں اپنی کار خود چلاتا ہوں تو کسی نہ کسی جاننے والے کو اپنے ساتھ والی اگلی سیٹ پر بٹھا لیتا ہوں۔ ایک روز میَں نے اپنے ایک واقف کا رکو لفٹ دینے کی آفر کی وہ صاحب فربہ زیادہ ہی تھے۔

بیٹھ گئے گاڑی میں، چونکہ اگلی سیٹ والے کو بھی seat belt لگانی لازمی ہوتی ہے ، اُن صاحب نے سیٹ بیلٹ تو نہیں باندھی، بلکہ اپنی جیب سے ایک Bulkle نکالاجو بالکل سِیٹ کے بکل کے سائز کا تھا، وہ اکیلا بکل بیلٹ کی جگہ پر لگا دیا، تاکہ گاڑی کا الارم ٹوں ٹوں کی آواز نہ نکالے۔

میَں نے ماجرا پوچھا تو کہنے لگے یہ "Device" تو اَب عام ملتی ہے۔ جو فرنٹ سیٹ پر بیلٹ نہ لگانا چاہے وہ یہ بکل سیٹ والے حصے میں ٹھوس دے۔ ٹوں ٹوں کی آواز بند ۔ میَں نے پوچھا اس دھوکا دہی کے لئے اِتنا تردّد کرنے کی ضرورت کیوں؟ جواب آیا بیلٹ باندھنے سے اُلجھن ہوتی ہے۔

ایک اِشارے پر میری کار رُکی تو میَں نے ایک موٹر سائیکل والے کو دیکھا کہ اُس نے اپنی ہیلمٹ ہاتھ کی کُہنی میں لٹکائی ہوئی ہے، سرپر نہیں پہنی۔ میَں نے کار کا شیشہ نیچے کر کے پوچھا یہ ہیلمٹ ہاتھ میں کیوں لٹکایا ہوا ہے۔ جواب آیا پولیس کو دکھانے کے لئے ۔ میَں نے کہا لیکن یہ ہیلمٹ تو تمھاری حفاظت کے لئے ہے۔ کہتا ہے کہ اسے پہن کر اُلجھن ہوتی ہے۔

پیٹرول پمپ والوں نے فالتو ہیلمٹ اپنے پاس رکھی ہوتی ہے۔ جب بھی کوئی بغیر ہیلمٹ والا موٹر سائیلکلسٹ پیٹرول ڈلوانے آتا ہے ، قانون کا تقاضہ پورا کرنے کے لئے ہیلمٹ موٹر سائیکل والے کے سرپر رکھ دیتے ہیں اور پھر پیٹرول ڈالتے ہیں۔ پیٹرول ڈالنے کے بعد ہیلمٹ سر سے اُتار کر پیٹرول پمپ کے ملازم نے دوسرے گاہک کے سر پر رکھ دی۔ اس کی ویڈیو بھی وائرل ہو چکی ہے۔

میَں نے سوچا کہ ہماری قوم بے ضرر سی Cheating سے لے کر بڑی بڑی دھوکے بازیوں کا شکار بھی ہوتی ہے اور اپنے ہی ہم وطنوں کو دھوکے دینے سے بھی نہیں چُوکتی۔

دھوکا دھی جُرم تو ہے، لیکن یہ ایک نفسیاتی کیفیت یا بیماری بھی ہے۔ دھوکا دھی کے بنیادی عناصر جھوٹ ، لالچ اور خودغرضی ہوتے ہیں۔ دھوکا کھانا بھی ایک اور قسم کی نفسیاتی کیفیت ہوتی ہے،چونکہ ترقی یافتہ ملکوں کی طرح ہماری حکومتیں ہماری معاشی ، سماجی ، طبّی اور معاشرتی ضروریات پورا کرنے سے قاصر ہیں اس لئے ہمارے عوام غیر قانونی یا غیر روائتی طریقوں سے اپنی زیست کا سامان اپنی حیثیت کے مطابق کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے عوام کی اکثریت کو نا اُمیدی کی T-B کا مرض لاحق ہے۔ اسی لئے وہ حیلے ڈھونڈتے ہیں اپنی نفساتی T-B کے علاج کے۔

مزاروں پر جو پاکھنڈی تعویز گنڈے کے اَڈے کھول کر اپنے دلالوں کے ذریعے دُکھی اور ضرورت مند غریبوں کو اپنے نرغے میں پھنساتے ہیں اور غریب جیسے دھوکا کھانے کے لئے تیار ہوتے ہیں، روزانہ آنکھوں دیکھی مثالیں ہیں۔

رقم لے کر اِستخارہ کرنے کا دھوکا دیتے ہیں۔ حالانکہ اِستخارہ کرنے والا خود ضرورت مند ہو تو وہ ہی اللہ کے سامنے ، استخارے کی عرضی زیادہ عاجزی سے ڈال سکتا ہے۔ یہ تجارتی اِستخارے باز دھوکا دے رہے ہوتے ہیں اوراستخارے کے لئے رقم دینے والے دھوکا کھارہے ہوتے ہیں۔

اَب تک ہم نے کتنے ہی ’’ڈبل شاہ ‘‘گرفتار ہوتے دیکھے ہیں اورابھی بہت سے آزاد ہونگے۔ لالچی عوام لاکھوں کی تعداد میں اِن دھوکے باز ’’ڈبل شاہوں‘‘ کا شکار ہو کر پولیس اور NAB کے دفتروں کے پھیرے لگاتے ہیں۔ اَب تو کم، لیکن 10 سال پہلے کراچی کی دیواریں قسمت کا حال بتانے والوں کی وال چاکنگ سے رنگین ہوتی تھیں۔

نامرادوں کو مرادیں دینے والے نقشبندی ، قادری یا بنگالی بابے چاروں طرف نظر آتے تھے اور اب بھی ہیں،بلکہ اور زیادہ ہو گئے ہیں۔ اطمینان کے متلاشی عوام اِن عاملوں کے دھوکے میں آنے کے لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ مردانگی کی ادویات سے لے کر رنگ گورا کرنے والی کریمیں فروخت کرنے والے بھی اَ ن گنت ہیں اور اِن ادویات کے دھوکے میں آکر اپنا بیڑہ غرق کرنے والے بھی بہت ہیں۔ خوراک میں ملاوٹ کر کے اُسے اصلی بنا کر بیچنا تو بہت عام دھوکا ہے۔ عوام بھی جانتے بوجھتے دھوکے والی اَشیا خرید رہے ہوتے ہیں۔

دودھ، گھی ،چائے، مصالحے ، ادویات، کھانے پینے کی اکثر اَشیا ملاوٹ والی ہوتی ہیں۔کھلم کھّلا دھوکا ۔ اِن چیزوں کو خریدنے والے عوام جانتے بوجھتے ہوئے اس دھوکے میں آتے ہیں۔ ہماری سیاست میں تو دھوکا ہی دھوکا ہے۔ عوام سے جھوٹے وعدے کئے جاتے ہیں اور ہمارے یہ خچر عوام اُن جھوٹے وعدوں کو مان کر جھوٹے لیڈروں کے نام کے نعرے لگاتے ہیں۔

یہ جانتے ہوئے کہ یہ لیڈر کوئی وعدہ پورا نہیں کریں گے ،لیکن پھر بھی دھوکا کھاتے ہیں ،اور تو اور ہمارے مذہبی لیڈر اللہ اور رسول کا نام لے کر عوام کو دھوکا دیتے ہیں اور ہمارے عوام مذہبی عقیدت اور تعصبات کے زیرِ اثر دھوکا کھاتے ہیں۔اکثر پرائیویٹ سکول اِمتحانی مراکز کے ساتھ خصوصی انتظامات کر کے اپنے طالبِ علموں کے لئے نقل کرواتے ہیں ،تاکہ اُن سکولوں کا نتیجہ اعلیٰ آئے اور وہ اِسی دھوکا دھی سے اپنی مزید پبلیسٹی کر سکیں۔

نقل کروانے والے اُستاد نقل کرنے والے طالب علم اور اُن کے والدین ایک دوسرے کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں۔ ایسے کام نام نہاد اکیڈیمیاں زیادہ کرتی ہیں۔ کامیاب طلباء کے بڑے بڑے فوٹو اکیڈیمی کی بیرونی دیوار وں پر لگاتے ہیں۔اَخباروں میں الگ تصویریں چھپواتے ہیں۔ یہ سب کچھ دھوکا ہی تو ہے۔ آج سے 40-50 سال پہلے ایسی Cheating نہیں ہوتی تھی۔ حالانکہ اُن دِنوں سرکاری اور غیر سرکاری سکول اچھی تعلیم اور اچھے نتائج دینے کی شہرت رکھتے تھے۔

سنٹرل ماڈل سکول لاہور، کریسنٹ ماڈل سکول اور مسلم ماڈل سکول مشہور تعلیم گاہیں تھیں۔ ہمارا نچلا عدالتی نظام دھوکے بازی سے اَٹا پڑا ہے۔ کسی شخص نے گھناؤنا جرم کیا ہوا ہوتا ہے، لیکن اُس کو وکیل مل جائے گا جو جُرم کی کہانی کو ہی بدل دے گا اور بڑی رقم خود بھی لے گا اور عدالتوں کو بھی کھلائے گا۔

دھوکے اور جھوٹ کا جال بُن کر ، جھوٹے گواہ جو رقم کے بدلے ہر وقت دستیاب رہتے ہیں، کو عدالت میں پیش کر کے مجرم کو بری کر والیتے ہیں۔ اگرچہ وکیل، مجرم اور گواہ اور عدالت دھوکے بازی کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔

ہم مسلمان جہاں معاشرتی ، تجارتی اور اخلاقی طور پر تمام دنیا میں گراوٹ کا شکار ہیں وہاں ہم پاکستانی دھوکا دینے اور دھوکا کھانے میں زیادہ ہی مبتلا ہیں۔ دھوکا دھی کی اصل بنیاد جھوٹ ہے اور جھوٹ بولنے میں ہم یدِطولیٰ رکھتے ہیں۔ کیا حکومت ، کیا سیاستدان، کیا ووٹر، کیا ڈاکٹر، کیا دُکاندار۔ ہر کوئی کسی نہ کسی مقصد کے لئے جھوٹ بول رہا ہوتا ہے۔

حکومت اپنے عوام سے سچ نہیں بولتی اُنہیں دھوکے میں رکھتی ہے، عوام حکومت پر بھروسہ نہ کرتے ہوئے بھی دھوکا کھاتے ہیں۔ ڈاکٹر مریض سے پورا سچ نہیں بولتا، تاکہ وہ اپنے مریض کے مہنگے علاج اورمہنگی ادویات سے مال پانی بناتا رہے۔ اگر دیکھا جائے تو کرپشن بھی دھوکے کی پیداوار ہے۔ میَں رشوت اُن کو بھی دوں گا جو مجھے ناجائز نفع پہنچانے کے قابل ہونگے۔

رشوت لینے والے حکومت کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں۔ کم تر کوالٹی کے سامان کی قیمت اعلیٰ کوالٹی کے مطابق بنا کر کاغذوں میں دھوکا دھی کر کے ، سامان کے سپلائر کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اس دھوکا دھی کی رقم میں وزیر سے لے کر قاصد تک کسی نہ کسی شکل میں حصے دار ہوتے ہیں۔ یہ ہی حال تعمیراتی ٹھیکیداروں کا ہے۔ NAB کے پاس% 90 اِنکواریاں دھوکے بازی کے جرائم سے ہی جُڑی ہوتی ہیں۔

ہمارے عوام نفسیاتی طور پر قائل ہیں کہ پاکستان میں بغیر جھوٹ اور دھوکے بازی کے کوئی جائز کام نہیں ہو سکتا ۔ ہمارے ہاں ہر شعبے میں جعلی ڈگریوں والے مِل جائیں گے۔

یہ لوگ جعلی ڈاکٹر ، وکیل، پائلٹ، اُستاد، پارلیمنٹیرین یہاں تک کہ اعلیٰ اَفسر بھی ہوتے ہیں۔ شرم کی بات یہ ہے کہ اِیسی دھوکا دھی کی سزا بھی کوئی مثالی نہیں ہے۔ لائسنس ضبط ہو جائے گا یا نوکری چھن جائے گی۔ہم نے تو نہیں سُنا کہ جعلی ڈگری پر کسی کو 10 سال کی سزائے قید ملی ہو۔ ہمارے ہاں دھوکا دینا اور دھوکا کھانا زندگی کا چلن بن چکا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...