وہ 3 وجوہات جن کی وجہ سے آپ کا یو اے ای کا ورک پرمٹ منسوخ کیا جاسکتا ہے

وہ 3 وجوہات جن کی وجہ سے آپ کا یو اے ای کا ورک پرمٹ منسوخ کیا جاسکتا ہے
وہ 3 وجوہات جن کی وجہ سے آپ کا یو اے ای کا ورک پرمٹ منسوخ کیا جاسکتا ہے

  



دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) متحدہ عرب امارات میں دنیا بھر سے لاکھوں لوگ روزگار کیلئے موجود ہیں جن میں بڑی تعداد میں پاکستانی بھی شامل ہیں، ان غیر ملکی افراد کو بعض اوقات ایسی وجوہات کی بنا پر اپنے ورک پرمٹ سے محروم ہونا پڑ جاتا ہے جس سے انہیں واقفیت ہی نہیں ہوتی۔ متحدہ عرب امارات کی منسٹری آف ہیومن ریسورسز اینڈ اماراٹائزیشن (ایم او ایچ آر ای) عمومی طور پر تین وجوہات کی بنا پر ورک پرمٹ منسوخ کرتی ہے۔

گلف نیوز کے مطابق اگر کوئی شخص مسلسل 3 ماہ سے بیروزگار ہو تو حکومت اس کا ورک پرمٹ منسوخ کردیتی ہے۔ اسی طرح اگر ورک پرمٹ کی شرائط کی خلاف ورزی کی جائے تو بھی حکومت اسے منسوخ کرسکتی ہے، ان غیر ملکی شہریوں کا ورک پرمٹ بھی منسوخ کیا جاسکتا ہے جن کی جگہ متحدہ عرب امارات کے کسی شہری کو نوکری فراہم کی جاسکتی ہو۔

متحدہ عرب امارات میں مقیم وکیل سنیر کمار کے مطابق مسلسل 3 ماہ تک بیروزگاری کی مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں۔ اگر جس کمپنی نے ورک پرمٹ جاری کروایا ہے لیکن وہ متعلقہ افراد کو نوکری فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی تو ایسے میں پرمٹ منسوخ کردیا جاتا ہے،بعض اوقات اس طرح کے کیسز میں عدالت اس شخص کو کچھ عرصے کا ریلیف فراہم کردیتی ہے تاکہ وہ نوکری ڈھونڈ سکے، ایسی صورتحال میں ایم او ایچ آر ای اسے مختصر مدت کیلئے نوکری ڈھونڈنے کا پرمٹ فراہم کردیتی ہے۔

دوسری صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنیر کمار نے بتایا کہ اگر کوئی شخص کاغذات میں ہیر پھیر کرتا ہے یا اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی اور کام کرتا ہے تو اس کا ورک پرمٹ بھی منسوخ کیا جاسکتا ہے۔

سنیر کمار نے تیسری صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی یہ پالیسی ہے کہ اماراتی شہریوں کو نوکریوں میں ترجیح دی جائے ، اسی لیے اگر ایک ہی نوکری کیلئے مختلف امیدوار موجود ہوں جن میں اماراتی شہری بھی شامل ہو تو اماراتی شہری کو نوکری فراہم کی جائے گی۔

مزید : عرب دنیا