”بہترین منتظم،بہترین صحافی، بہترین انسان“ جمیل قیصر کا منفرد اعزاز

”بہترین منتظم،بہترین صحافی، بہترین انسان“ جمیل قیصر کا منفرد اعزاز
”بہترین منتظم،بہترین صحافی، بہترین انسان“ جمیل قیصر کا منفرد اعزاز

  

”آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے“

چھوٹے بھائی جمیل قیصر کو اِس دُنیا سے رخصت ہوئے ایک ماہ گزرنے کو ہے، اس کی تدفین فیصل آباد کے علاقہ مدینہ ٹاؤن میں واقع اس قبرستان میں ہوئی جہاں ہمارے والدین، دو بہنیں،بھائی اور دیگر متعدد عزیز و اقارب دفن ہیں۔ قبرستان میں کسی نئی قبر کے لئے جگہ کی شدید کمی کے باعث اسے والد صاحب کی قبر میں سے کچھ حصہ لے کر اُن کے پہلو میں دفن کیاگیا۔ اِس لحاظ سے وہ بڑا ہی خوش قسمت ٹھہرا کہ قدرت نے اُس کی دائمی زندگی میں بھی اپنے والد کے پہلو میں جگہ دے دی، اُس کی ناگہانی موت سے اس کے تینوں بیٹے اویس، شعیب،زوہیب انتہائی شفیق باپ کی شفقت سے،بہنیں ایک بہت ہی ہمدرد اور سعادت مند بھائی کی دلجوئی اور سعادت مندی سے، عزیز و اقارب، دوست احباب،ضرورت مند اپنے ایک مخلص و بے لوث محسن سے، ادارہ پاکستان کے سٹاف ممبران وکارکنان اپنے دُکھ سُکھ کے ایک سانجھی سے اورادارے کی انتظامیہ ایک بااصول، دیانتدار، فرض شناس، معاملہ فہم اور باوقا رفیق ِ کار سے محروم ہو گئی، مَیں تو ایک ایسا بھائی ہوں، جس کی کمر ہی ٹوٹ گئی،مجھے کچھ سجھائی نہیں دے رہا، اکیلے پن کا زہر ہے کہ پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے،

میرے پاس ایسے الفاظ ہی نہیں، جن کے ذریعے مَیں اپنی کیفیت بیان کر سکوں،انتہائی دُکھ، کرب و اذیت میں گزرنے والے اِس ایک ماہ کے دوران اندرون اور بیرون ملک سے جو بے شمار عزیز و اقارب، دوست احباب، جاننے پہچاننے والے ہمیں حوصلہ دینے،ہماری ڈھارس بندھانے، تعزیت کا اظہار کرنے ہمارے پاس آتے رہے، بہت سے احباب اور عزیز و اقارب جنہوں نے فونز،واٹس اپ اور ایس ایم ایس کے ذریعے بھی ہم سے رابطہ کیا، وہ سب بھی جو مرحوم کی مغفرت و بخشش اور بلندی درجات کی دعاؤں میں ہمارے ساتھ شامل ہوئے، جو مرحوم کی نیکیوں، بھلائیوں، اچھائیوں اورحسن ِ سلوک کے تذکروں میں اپنے ہمدردانہ جذبات و احساسات کا اظہار کرتے رہے اور وہ بھی جو ہمیں صبر کا دامن تھامنے کی تلقین کرتے ہوئے ہمارے آنسو پونچھتے رہے، ہم سب اہل ِ خاندان ان کے بے حد شکرگذار ہیں۔ ان کے ممنون ہیں، ہم پاکستان انتظامیہ کے بھی مشکور ہیں کہ اس نے اپنے مرحوم ایڈمنسٹریٹر کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے اس کی ایک یادگار تصویر آفس میں اس کیپشن کے ساتھ آویزاں کر دی ہے ”جمیل قیصر،ایک بہترین منتظم، بہترین صحافی،بہترین انسان“۔ اس قابل ِ، فخر اعزاز اور اس اعزاز کے اس طرح اظہار نے ہمارے خاندان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

جمیل قیصر عمر میں مجھ سے بارہ سال چھوٹا تھا، 42/40سال قبل وہ ضد کرنے لگا کہ قسمت آزمائی کے لئے لاہور جانا چاہتا ہوں،مَیں اسے زمانے کی اُونچ نیچ سے بے خبر خیال کرتے ہوئے اس کے لاہور شفٹ ہونے کے حق میں نہ تھا، مگر وہ بضد تھا، دراصل قسمت اُسے لاہور لے جا کر اس اعزاز کا مستحق قراردینا چاہتی تھی، پھر والدصاحب کی رضا مندی دیکھتے ہوئے مَیں نے بھی ہتھیار ڈال دیئے اور یوں وہ لاہور چلا گیا،جہاں اس کی ملاقات سعید ناز،لطیف تبسم،جیسے دوستوں سے ہوئی اور وہ اس کے ہمراہ ہو لئے، لطیف تبسم نے ”رفیق ِ دیرینہ، جمیل قیصر کا غم“ کے زیر عنوان اپنے کالم میں اس کی رفاقت کے چند واقعات کا ذکر بھی کیا، قسمت ان دونوں کو روزنامہ ”جنگ“ لاہور میں لے گئی، جہاں اُنہیں قدرت اللہ چودھری جیسے بے لوث و مخلص و محترم ساتھی مل گئے، پھروہ تینوں کئی سال تک باری باری جنگ ورکر یونین سی بی اے کے صدر اور سیکرٹری رہے اورکارکنوں کی بہترین نمائندگی کا حق ادا کرتے رہے، پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ جمیل قیصر کو کارکنوں کے حقو ق کے تحفظ کے ”جرم“ میں ملازمت سے برخاست بھی ہونا پڑا، مگروہ نہ جھکا نہ بِکا اور اُس نے اپنا مشن جاری رکھا، اِسی دوران وہ روزنامہ ”صداقت“ میں چلا گیا، جہاں اُسے محترم ظہور عالم شہید جیسے بلند پایہ صحافی کی سرپرستی اور رہنمائی بھی حاصل ہو گئی، جس سے اس کی شخصیت میں مزید نکھار پیدا ہو گیا۔

جب شامی صاحب نے روزنامہ ”پاکستان“ کی ذمے داری سنبھالی تو شعبہ صحافت کی ایک معتبر شخصیت رشید قمر صاحب نے جمیل کا نام شامی صاحب کو دیا۔ جمیل کی وفات کے بعد جب رشید قمر صاحب تعزیت کے لئے آئے تو انہوں نے یہ ذکر کیا کہ ”مَیں نے جمیل قیصر کا ہاتھ شامی صاحب کو تھماتے ہوئے کہا تھا کہ اس ہیرے کو ضائع نہ کرنا“ پھر شامی صاحب نے اپنا وعدہ نبھا دیا اوراس طرح جمیل قیصر کو ”پاکستان“ کے ایڈمنسٹریٹر کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ ”پاکستان“ میں اپنی 22/20 سالہ سروس کے دوران اس نے اپنے قول وفعل سے یہ ثابت کر دیا کہ اپنے بے لوث، غیرجانبدارانہ، دیانتدارانہ، منصفانہ اور مخلصانہ طرز عمل کے ذریعے ورکرز اور مالکان کے مابین ایک پُل کا کردار ادا کر کے دونوں کے جائز و قانونی حقوق کا تحفظ کیا جا سکتا ہے، وہ جہاں ادارے کے مالکان کے ساتھ وفاداری نبھاتا رہا، وہاں معاملہ فہمی کے ذریعے ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لئے بھی ناقابل ِ فراموش و بے مثال کردار ادا کرتا رہا اور اپنے اصولوں پر بھی قائم رہا، جس کی تائید بڑے شامی صاحب (ہم اپنی گفتگو کے دوران جناب مجیب الرحمن شامی کے نام کو بڑے شامی صاحب کہہ کر بات کیا کرتے تھے) نے اپنے اس کالم میں بھی کی،جو جمیل قیصر کی وفات کے بعد ”پاکستان“ اور ”دنیا“ میں بیک وقت شائع ہوا تھا۔اس کا متن پیش خدمت ہے۔ ”میرے رفیق کار جمیل قیصر اللہ کو پیارے ہو گئے،گُردے کی بیماری جان لیوا ثابت ہوئی، کم و بیش ربع صدی سے ان کا ساتھ تھا، ان کا اخلاص اور معاملہ فہمی اپنی مثال آپ تھی، ان پر آنکھ بند کر کے اعتماد کیا جا سکتا تھا۔

مت سہل انہیں جانو،پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

اُنہیں فیصل آباد میں سپرد خاک کیا گیا، لاہور میں بسیرا کرتے تو بھی ان کی نماز جنازہ میں شرکت ممکن نہ ہوتی، نئے دِل پر یہ پہلا داغ ایسا لگا کہ شاید ہی مدھم ہو، اللہ تعالیٰ ان کی خطاؤں سے درگزر فرمائے اور ان کی مغفرت کرے“۔ بڑے شامی صاحب سے قبل جمیل قیصر کے دیانتدارانہ اور وفادارانہ کردار کا ذکر جناب عمر شامی نے اس وقت کیا تھا جب اس کی تدفین ہو رہی تھی، نعیم مصطفےٰ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ”جمیل صاحب کی موت سے ہمارے ادارے کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے“ برادر جمیل قیصر کی ادارے میں کسی کے ساتھ بھی کوئی ذاتی مخاصمت یا عداوت نہ تھی، اس کی اگر کسی سے کوئی رنجش تھی تو صرف ”پاکستان“ کو نقصان پہنچانے کی بنیاد پر ہی تھی اور وہ اس کے آگے ایک ڈھال بن جاتا تھا۔ اس دوران ممکن ہے اس کے کسی رویے یا طرزِ عمل سے کسی کو کوئی دُکھ پہنچا ہو تو آج اس کے جانے کے بعد ہماری یہ گذارش ہے کہ براہِ کرم اس ادارے کے ساتھ وفا کے پیش نظر اُسے معاف کر دیں۔ ہم محترم فیصل شامی،محترم ایثار رانا، محترم چودھری خادم حسین، برادر میاں اشفاق انجم، برادر یونس باٹھ،برادر لطیف تبسم اور برادر محمد سرور جالندھری کے بھی مشکور ہیں کہ انہوں نے اپنے کالموں میں جمیل قیصر کے بارے نیک تمناؤں،اچھے اور فراخدلانہ جذبات کا اظہار کیا۔

4جنوری کو اپنی طرف سے بہترین علاج معالجہ اور دیکھ بھال کے پیش نظر ہم برادر جمیل قیصر کو ڈی ایچ کیو ہسپتال فیصل آباد لے آئے اور یہاں سے میڈیکل ایمرجنسی میں داخل کروا دیا گیا، مگر اس کی حالت بگڑتی، سنورتی اور پھربگڑتی ہی رہی،اس کے معالج اس کی پوزیشن ففٹی ففٹی ہی بتاتے رہے، اس کی موت کا تو ہمیں وہم وگمان بھی نہ تھا، پانچ روز بعد جب اسے سی ٹی سکین اور الٹراساؤنڈ کے لئے لایا گیا تو اس کی حالت زیادہ بگڑنے لگی، معروف ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر انجم مہدی نے سی ٹی سکین کی رپورٹس دیکھ کر تشویش کا اظہار کیا اور اس کے لبلبلہ میں بڑی خرابی کی نشاندہی کی، ایم۔ ایس ڈاکٹر حبیب بُٹر نے فوری طور پر مختلف شعبوں کے ماہر سینئر ڈاکٹرز ڈاکٹرشوکت ناگرہ،ڈاکٹر رحمان گل، ڈاکٹر عمر عثمان،ڈاکٹر مقصود، ڈاکٹر افتخار سے اس کا چیک اپ کرایا، جن کی آراء اور ہدایات کی روشنی میں اسے فوری طور پرآئی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا، ڈاکٹر جب باری باری اس کا چیک اپ کر رہے تھے اور اپنی اپنی رائے دے رہے تھے اس وقت وہ ہوش میں تھا اور بہت ہی پریشان کن نگاہوں سے وہ سارا منظر دیکھ اور محسوس کر رہا تھا، مجھ سے وہ پریشانی برداشت نہ ہو سکی،میں اس کے قریب گیا اوراسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اب اس کے مرض کی صحیح تشخیص ہو گئی ہے اور اس کے مطابق اب علاج شروع ہونے لگا ہے، بڑی ہی بے چارگی اور بے بسی کی کیفیت میں اس نے میری طرف دیکھا اور خاموش نگاہوں سے ڈاکٹرز کی حرکات و سکنات کا جائزہ لیتا رہا،اس کے بعد ڈاکٹر اس کے علاج معالجہ میں مصروف ہو گئے اور مَیں باقی لوگوں کے ساتھ ہی آئی سی یو سے باہر آ گیا۔

میری اس کے ساتھ وہ آخری گفتگو تھی، خرم، اویس، شعیب، زوہیب، معظم، شاہد، طلحہ، عزیر، رانا عمر،اسامہ طاہر سبھی اس کی تیمارداری کا حق ادا کرتے رہے، فیصل آباد شفٹنگ کے بعد لاہور آفس سے روزانہ ہی سینئر اور جونیئر سٹاف ممبران کی فون کالز آ رہی تھیں، میاں اشفاق انجم، منظور ملک، میاں ہارون، نعیم مصطفےٰ،جاوید اقبال،سعید چودھری، غلام سرور، عباس تبسم، بلکہ بستر علالت پر پڑے قدرت اللہ چودھری صاحب بار بار اس کی حالت بارے پوچھ رہے تھے، اس کے کئی دوستوں اور مہربانوں کا زوہیب سے بھی مسلسل رابطہ تھا، اسی دوران جمیل کا منجھلا بیٹا شعیب بھی یو کے سے یہاں پہنچ گیا، وہ اپنے ابو سے ملنے اس کے بیڈ کے قریب گیا تو اتفاقاً جمیل اس وقت کچھ ہوش میں تھا۔ اپنے بیٹے کو دیکھ کر بس ایک بار وہ تھوڑا سا مسکرایا۔ غالباً وہ شعیب کو یہ احساس دلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اسے اس کے آنے کی بہت خوشی ہوئی ہے۔ فیملی کے تمام بچوں بڑوں نے تو ہسپتال میں ہی ڈیرے ڈالے ہوئے تھے کہ اس دوران 16جنوری کی صبح تقریباً پونے چھ بج گئے۔ اس کا ناشتہ لینے کوئی بھی نہ آیا تو میں نے فون پر رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی رابطہ نہ ہو سکا کہ اسی اثناء میں شعیب کی فون کال موصول ہوئی کہ ابو اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں اس کال نے ضبط کے سارے بندھن توڑ دیئے اور اس کی صحت یابی کی ساری دعائیں آہ و بکا میں دب کر رہ گئیں۔

یہ دُکھ، غم، درد یہ اذیت، یہ دعائیں یہ رسوم سب اپنی جگہ، مگر ایک المیہ یہ بھی ہے کہ بعض ڈاکٹرز نے اپنے اپنے ماتحت شعبوں میں اپنی اپنی اجارہ داری اس طرح قائم کر رکھی ہے کہ وہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے،جس روز چار پانچ سینئر ڈاکٹرز کی رائے لینے کے بعد جمیل کو آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا، تو دوسری صبح آئی سی یو کی انچارج ڈاکٹر روبینہ نے ایم ایس ہسپتال کو فون کال کی، اتفاق سے اس وقت بیٹا خرم بھی وہاں موجود تھا، ڈاکٹر صاحبہ اس وقت بہت برہم تھیں اور ایم ایس کو کہہ رہی تھی کہ اس جیسے معمولی نوعیت کے مریضوں کو آپ اپنا پروٹوکول دے کر آئی سی یو میں داخل کروا رہے ہیں ہمیں یہ قبول نہیں۔ اس یونٹ کے لئے ہم نے اپنا کریٹیریا بنایاہوا ہے، جس میں ہمیں کسی کی بھی مداخلت پسند نہیں جس پر ایم ایس یہ کہہ کر اپنا دفاع کر رہے تھے کہ اس مریض کے آئی سی یو میں داخلہ کیلئے چار سینئر ڈاکٹرز نے اپنی رائے دی ہے اسے میرے پروٹوکول میں نہ ڈالیں، مگر وہ اس کے جواب میں اپنے جونیئر ڈاکٹرز کی طرف سے احتجاجی ہڑتال کی دھمکیاں دے رہی تھیں۔کیا وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیر صحت یاسمین راشدکسی سینئر اتھارٹی کے ذریعے آئی سی یو میں داخل ہونے کے کریٹیریا بارے میں انکوائری کر سکیں گے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال اور الائیڈ ہسپتال فیصل آباد کے آئی سی یونٹس میں کسی مریض کو داخل کرنے کا کریٹیریا کس نے بنایا ہے اور کیا بنایا ہے؟ کیا اس مریض کو بھی داخل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو دو تین روز بعد ہی اس ہسپتال سے مردہ حالت میں لے جایا جانے والا ہے اور کیا ایسے مریض کو داخل کرنے سے کسی سینئر ڈاکٹر کی ایگو متاثر ہوتی ہے کوئی اس ملک میں ہے،جو ایسے ڈاکٹرز سے اس سوال کا جواب لے سکے۔

مزید :

رائے -کالم -