کسٹم نے3ارب روپے مالیت کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنادی

کسٹم نے3ارب روپے مالیت کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنادی

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر) محکمہ کسٹم نے مختلف کارروائیوں میں 3ماہ کے دوران3ارب27 کروڑ مالیت کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنائی، سب سے بڑی کارروائی میں 301 کلو منشیات اور اسمگلنگ کی اشیا کی برآمدگی شامل ہے۔پاکستان کسٹمز اپنے محدود وسائل کے باوجود اسمگلرز کے خلاف مربو ط کارروائیاں کررہی ہے۔اسمگلنگ میں ملوث زیادہ ترملزمان معاملے کو سیاسی رنگ دے دیتے ہیں۔وزیراعظم نے کسٹمز کو انسداد اسمگلنگ کے حوالے سے لیڈ ایجنسی کا درجہ دیا ہے۔یہ بات کلکٹرکسٹمز پریونٹو کراچی محمد ثاقب سعید نے ہفتہ کو کسٹم کلب کیماڑی میں پریس کانفرنس خطاب کرتے ہوئے بتائی۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کسٹمز نے اسمگلنگ کے خلاف اپنی کارروائیوں کو تیز کردیا ہے اور گزشتہ تین ماہ کے دوران سائٹ ایریا،جامع کلاتھ، سٹی ریلوے اسٹیشن، ریگل چوک، طارق روڈ،جوڑیا بازار اور دیگر علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 3ارب 50کروڑ روپے سے زائد کا اسمگل شدہ سامان برآمد کرکے متعدد ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سب سے بڑی کارروائی میں 301 کلو منشیات اور اسمگلنگ کی اشیا برآمد کی گئیں۔ ایک اور کارراوئی میں شراب خانے سے شراب کی 5لاکھ مالیت کی 96 بوتلیں ضبط کی گئیں، اس کے علاوہ سگریٹ کے15704 ڈبے ضبط کیے گئے جن کی مالیت ایک کروڑ 27 لاکھ روپے ہے۔کسٹم پروینٹو اینٹی اسمگلنگ کی رپورٹ کے مطابق دوسری کارروائی میں 29 لاکھ روپے کے موبائل فون اور الیکٹرانک کیمرے ضبط کیے گئے ہیں، دو کروڑ 16 لاکھ روپے مالیت کا124296 لیٹر آئل ضبط کیا گیا۔گاڑیوں کے 20 لاکھ روپے مالیت کے اسپئیر پارٹس تحویل میں لیے گئے،2کروڑ 32 لاکھ روپے کی دوائیں،14 لاکھ کا 4775 کلو چائنیز سالٹ بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔دو لاکھ43 ہزار کلو کے 14 کروڑ 48 لاکھ کی چھالیہ ضبط کی گئی،22لاکھ 67 ہزار کلو تمبا کو ضبط جس کی مالیت 14 کروڑ 28 لاکھ ہے۔دو ہزار کلو بھارتی گٹکا بھی ضبط کیا گیا جس کی مالیت 9 لاکھ 15 ہزار ہے، 4320اسمگل شدہ ٹائروں کو کسٹم حکام نے تحویل میں لے لیا جس کی مالیت 4 کروڑ 33 لاکھ روپے ہے۔انہوں نے کہا کہ کلکٹریٹ نے مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں ایف بی آر کے مقررہ ہدف سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی ہے۔ماضی میں اسمگلرز اشیا کو مارکیٹ تک محدود رکھتے تھے لیکن اب انہوں نے اپنا دائرہ کار وسیع کردیا ہے۔وہ مارکیٹوں میں لمبے عرصے کے لیے مال ادھار پر دینے لگے ہیں۔محمد ثاقب سعید نے کہا کہ پاکستان کسٹمز کو آج اس غیر قانونی کاروبار کے حوالے سے انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے۔اسمگلرز نے نے گنجان آباد علاقوں میں اپنی دکانیں اور گودام قائم کرلیے ہیں اور وہ انتہائی منظم انداز میں مزاحمت کرتے ہیں۔حالیہ کارروائیوں کے دوران ان عناصر نے سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایااور ہمارے عملے پر فائرنگ بھی کی گئی۔کسٹمز کے پاس محدود وسائل ہیں۔ہمارے پاس عملے کی بھی کمی ہے جبکہ ملزمان اپنے وسائل کی بنیاد پر وکیل کرلیتے ہیں اور معاملے کو سیاسی رنگ بنادیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر کسٹمز کو انسداد اسمگنگ کے حوالے سے لیڈ ایجنسی کا درجہ دیاگیا ہے اور اس سلسلے میں صوبائی اور ڈویژنل سطح پر کمیٹیوں کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے،جس میں تمام متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نمائندگی شامل ہے تاکہ حکومت مربوط انداز میں اس گھناؤ نے عمل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائے اور اسمگلنگ سے متاثر معیشت اور صنعت کو سنبھالا دیاجاسکے۔انہوں نے کہا کہ کسٹمز کی جانب سے اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔انسداد اسمگلنگ کی اس جنگ میں عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور انہیں چاہیے کہ وہ اپنے درمیان موجود اسمگلروں کی نشاندہی کریں۔عوام کو اسمگل شدہ مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔

مزید : صفحہ اول