”وزیراعظم کو بھی بلاکر پوچھناپڑے گا“اسلام آبادہائیکورٹ سانحہ تیزگام کی انکوائری رپورٹ پیش نہ کرنے پر برہم

”وزیراعظم کو بھی بلاکر پوچھناپڑے گا“اسلام آبادہائیکورٹ سانحہ تیزگام کی ...
”وزیراعظم کو بھی بلاکر پوچھناپڑے گا“اسلام آبادہائیکورٹ سانحہ تیزگام کی انکوائری رپورٹ پیش نہ کرنے پر برہم

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ سانحہ تیزگام کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر انکوائری رپورٹ پیش نہ کرنے پر وزارت ریلوے اورداخلہ پر برہم ہو گئی،جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم کو بھی بلاکرپوچھناپڑے گا،وزیراعظم سے پوچھناہوگاشہری جل کر مرگئے آپ کی 2 وزارتیں اس قبل نہیں کہ کچھ بتاسکیں ۔جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ کیاوزیراعظم کو بلاکربتایاجائے کہ آپ کی 2 وزارتیں کام نہیں کررہیں؟،دونوں وزارتیں سورہی ہیں ان کے بقول کوئی مراہی نہیں ،اگرآپ کام نہیں کریں گے توہم آرڈردے کرکام کرائیں گے ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں سانحہ تیزگام کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت سانحہ کی انکوائری رپورٹ پیش نہ کرنے پروزارت ریلوے اورداخلہ پر برہم ہو گئی،جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم کو بھی بلاکرپوچھناپڑے گا،وزیراعظم سے پوچھناہوگاشہری جل کر مرگئے آپ کی 2 وزارتیں اس قبل نہیں کہ کچھ بتاسکیں ۔

جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ کیاوزیراعظم کو بلاکربتایاجائے کہ آپ کی 2 وزارتیں کام نہیں کررہیں؟،دونوں وزارتیں سورہی ہیں ان کے بقول کوئی مراہی نہیں ،اگرآپ کام نہیں کریں گے توہم آرڈردے کرکام کرائیں گے ۔

عدالت نے کہاکہ وفاقی حکومت کو ابھی تک پتہ نہیں ایف آئی آر درج ہوئی یا نہیں ،جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ اسلام آبادکی ایک عمارت میں بیٹھ کر لوگوں کےساتھ ظلم کررہے ہیں ،آپ لوگوں نے اسلام آبادکوڈاکخانہ سمجھا ہے،5 ماہ گزرنے کے بعدآپ لوگ رپورٹ کیلئے خط لکھ رہے ہیں ۔وکیل درخواست گزارنے کہاکہ سانحہ کا مقدمہ بھی متعلقہ تھانے میں درج نہیں کرایاگیا توتفتیش کیاہوگی ۔عدالت نے سانحہ تیزگام کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر سماعت24 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر سیکرٹری ریلوے اورسیکرٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیدیا،عدالت نے کہاکہ کیس کے تفتیشی افسربھی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد