جے آئی ڈی سی سیس کیس ،انٹراسٹیٹ گیس منصوبوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

جے آئی ڈی سی سیس کیس ،انٹراسٹیٹ گیس منصوبوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش
جے آئی ڈی سی سیس کیس ،انٹراسٹیٹ گیس منصوبوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں جے آئی ڈی سی سیس کیس میں انٹراسٹیٹ گیس منصوبوں کی رپورٹ پیش کردی گئی،جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ 2011 سے عوام کے اربوں روپے پڑے ہوئے ہیں لیکن عملی کام نہیں ہوا ،یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جے آئی ڈی سی سیس کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،عدالت میں دوران سماعت انٹراسٹیٹ گیس منصوبوں کی رپورٹ پیش کی گئی،جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ 2011 سے عوام کے اربوں روپے پڑے ہوئے ہیں لیکن عملی کام نہیں ہوا ،یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے۔

جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ سارے حکومتی منصوبے سست روی کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں ؟،بیوروکریسی حکومتی منصوبوں میں تاخیر کرتی ہے ،جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ یہ بیوروکریسی کیاکررہی ہے؟ان کی سستی سے منصوبوں کی لاگت بڑھتی ہے۔

سی ای او نے کہا کہ پاک ایران گیس منصوبے پر پاکستان نے 271 ارب خرچ کرنے ہیں ،مصوبے کو ایران مکمل کرچکا ہے پابندیا ختم ہوتے ہی پاکستان تیزی سے مکمل کرے گا،ٹاپی منصوبے پر ترکمانستان گیس لائن مکمل ہوچکی، افغانستان میں کام شروع ہوگا۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہاکہ 2011 سے حکومت پیسے لے رہی ہے اور منصوبہ ابتک کاغذوں سے باہر نہیں آیا،جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں آنے پر کام شروع کیاگیا ہے ،جسٹس منصورعلی شاہ نے کہاکہ نئے منصوبے ایسے شروع کئے جاتے ہیں جیسے پہلے سارے مکمل ہو گئے ۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد