ہمارے ملک میں پیسے موجودہوں بھی تومنصوبے مکمل نہیں ہوتے ،سپریم کورٹ کے جے آئی ڈی سی سیس کیس میں ریمارکس

ہمارے ملک میں پیسے موجودہوں بھی تومنصوبے مکمل نہیں ہوتے ،سپریم کورٹ کے جے ...
ہمارے ملک میں پیسے موجودہوں بھی تومنصوبے مکمل نہیں ہوتے ،سپریم کورٹ کے جے آئی ڈی سی سیس کیس میں ریمارکس

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے جے آئی ڈی سی سیس کیس میں فنانس اوجی ڈی سی ایل سے اعلیٰ حکام کو کل طلب کرلیا،عدالت نے کہاکہ ایسے افسرآئیں جوعدالتی سوالوں کے جوابات دے سکیں ۔جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں پیسے موجودہوں بھی تومنصوبے مکمل نہیں ہوتے ،ایران ترکمانستان اپنے حصہ کے منصوبے مکمل کرسکتے ہیں توہم کیوں نہیں ؟۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جے آئی ڈی سی سیس کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس مشیر عالمی کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،سپریم کورٹ حکومتی افسروںکی جانب سے بغیرتیاری سے آنے پر برہم ہو گئی۔جسٹس مشیر عالم نے کہاکہ افسردفتر میں چائے پینے کے بجائے سپریم کورٹ کیوں نہیں آتے ،ڈپٹی سیکرٹری کے بجائے ایڈیشنل سیکرٹری لیول کے افسر کو توآناچاہئے ۔

سی ای او انٹرسٹیٹ گیس نے کہاکہ 295 ارب روپے کسی بھی منصوبے کو مکمل کرنے کیلئے ناکافی ہیں ،جسٹس مشیر عالم نے کہاکہ اس سیس کا انڈسٹری کو کیا فائدہ ہوگا؟انڈسٹری کو بلاتعطل 25 سال تک گیس ملے گی ،جسٹس منصورعلی شاہ نے کہاکہ کیاحکومت نے ماضی میں کسی منصوبے کیلئے سیس لگا کر پیسہ اکٹھا کیا؟،جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ گیس توانڈسٹری کو پہلے بھی مل رہی ہے ۔

سیس کی مد میں آنے والی رقم کی تفصیلات سپریم کورٹ کو فراہم کردی گئیں ،اکاﺅنٹنٹ جنرل نے کہاکہ منصوبوں کیلئے فنڈز طلب کرنے پر فراہم کردیئے جائیں گے،جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ ہمارے ملک میں پیسے موجودہوں بھی تومنصوبے مکمل نہیں ہوتے ،ایران ترکمانستان اپنے حصہ کے منصوبے مکمل کرسکتے ہیں توہم کیوں نہیں ؟۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ سیس کی مد میں آنیوالی رقم سے تنخواہیں دی جارہی ہیں ،جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ دوسرے ایشین ممالک جوکام کرسکتے ہیں وہ ہم کیوں نہیں کرسکتے؟،سپریم کورٹ نے فنانس اوجی ڈی سی ایل سے اعلیٰ حکام کو کل طلب کرلیا،عدالت نے کہاکہ ایسے افسرآئیں جوعدالتی سوالوں کے جوابات دے سکیں ۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد