سابق چیئرمین متروکہ وقف املاک آصف ہاشمی کا وزیرداخلہ کو خط لیکن اس میں کیا لکھا ہے؟ معروف کالم نویس نے بتادیا

سابق چیئرمین متروکہ وقف املاک آصف ہاشمی کا وزیرداخلہ کو خط لیکن اس میں کیا ...
سابق چیئرمین متروکہ وقف املاک آصف ہاشمی کا وزیرداخلہ کو خط لیکن اس میں کیا لکھا ہے؟ معروف کالم نویس نے بتادیا

  



لاہور(کالم: احمد جواد بٹ) وزیراعظم پاکستان عمران خان کے اقتدار میں آتے ہی ”نیب“ کی ہوا چل پڑی تھی۔ ہر وہ شخص جو میاں نوازشریف سے جڑا تھا،قید و بند کی صعوبتوں سے گزرا۔ خواجہ سعد رفیق، خواجہ سلمان رفیق، سابق وزیراعظم شاہد خاقان

عباسی، محترمہ مریم نوازشریف، عباس شریف اور حمزہ شہباز شریف، میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف سب سے پہلے شکار ہوئے۔ رانا ثناء اللہ کے ”پر“ باندازِ دیگر کاٹے گئے۔ بیورو کریسی میں احد چیمہ اور فواد حسن فواد کو جکڑا اور پکڑا گیا……پھر فواد حسن فواد نے تو اپنی ریٹائرمنٹ کا دن بھی جیل میں گزارا ہے!……پھر یوں ہوا کہ بقول چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال…… ”تبدیلی“ کی ہوائیں چل پڑیں۔ ”تبدیلی؟“ عداوت کہانی کے بعد عدالت سے ایک ایک کرکے رہائی عمل میں آنے لگی۔ عداوت کہانی کاآخری حصہ ہنوز اب بھی باقی ہے!

”نیب“ کے نام پر کیا ہو رہا ہے؟ اس بارے میں سرسری جائزہ لینا ہو تو پاکستان پیپلزپارٹی کے معروف رہنما اور سابق اعزازی چیئرمین متروکہ وقف املاک سید آصف ہاشمی کی کتھا پر ایک نگاہ لازم ہے۔ میری معلومات کے مطابق ہاشمی صاحب بڑے نفیس اور لطیف انسان ہوتے ہیں۔جی دار، عوامی، اصول پرست، متحرک اور عوام دوست!……

سید آصف ہاشمی نے حال ہی میں وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کے نام ایک خط ارسال کیا، جس میں لکھا ہے کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالا جائے۔موصوف سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کے بلانے پر از خود دبئی سے واپس آئے تھے۔ صحیح یا غلط جملہ مقدمات میں ان کی ضمانت ہو چکی ہے اور مجموعی طور پر انہوں نے قانون سے کبھی راہِ فرار اختیار نہیں کی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ان کا شناختی کارڈ بلاک اور پاسپورٹ غیر موثر ہے؟

موصوف اپنے ماضی اور کردار کے حوالے سے منفرد شان کے حامل ہیں۔ جب لوگ ملک سے باہر جا رہے تھے، یہ رضاکارانہ بیرون سے اندرون آئے اور ایک ایک الزام کو قانونی ہتھوڑے سے توڑا۔ کیا حکومت قانون کا سامنا کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتی ہے؟ اگر قانون پسند دلبرداشتہ ہو گئے تو کیا ہو گا؟آصف ہاشمی ہمیشہ عدالتوں میں لڑے ہیں، عدالتوں سے کبھی نہیں۔ ایک اہم اور ذمہ دار آدمی جو قانون کا احترام بھی بجا لاتا ہو، اسے ناکردہ گناہوں کی سزا دینا چہ معنی دارد؟ گناہِ بے گناہی کا یہ عمل اب ختم ہو جانا چاہیے۔عجب ہے کہ یہ محب وطن شخص قانوناً آزاد ہو، مگر اصلاً ”پابند“……

دستاویزات نہ ہونے کی بناء پر کہیں آنا جانا ناممکن! یہ دہشت گرد نہیں، تاہم ان کے ساتھ سلوک دہشت گردانہ ہو رہا ہے۔احتساب کی زد میں گنہگاریا بے گناہ پیپلز پارٹی کے کئی رہنما بھی آئے ہیں۔ ان میں ایک نام آصف ہاشمی کا ہے، عدالت جو فیصلہ کرے گی، سو کرے گی، لیکن ان کا شناختی کارڈ بلاک کیوں؟ پاسپورٹ جاری کرنے میں آخر کیا مسئلہ ہے؟ یہ ”خالص“ امتیازی سلوک ہے، جو ختم ہو جائے تو اچھا ہے۔

۔

 نوٹ:یہ کالم نویس کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور