ایس ایس پی مفخر عدیل کیس میں بڑی پیش رفت، گرفتار اسد بھٹی کا سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل شہبازتتلہ کے قتل کا دعویٰ ، پولیس کا موقف بھی آگیا

ایس ایس پی مفخر عدیل کیس میں بڑی پیش رفت، گرفتار اسد بھٹی کا سابق ڈپٹی ...
ایس ایس پی مفخر عدیل کیس میں بڑی پیش رفت، گرفتار اسد بھٹی کا سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل شہبازتتلہ کے قتل کا دعویٰ ، پولیس کا موقف بھی آگیا

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایس ایس پی مفخر عدیل کیس کی تحقیقات میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں غائب افراد کے مشترکہ دوست اور  گرفتار اسد بھٹی نے دوران تفتیش دعویٰ کیا ہے کہ سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل شہبازتتلہ کو قتل کردیا گیا ہے اوراس میں اس کا کوئی قصور نہیں، ذمہ دار مفخر عدیل ہیں تاہم پولیس ان کے اس دعوے کو تاحال ماننے کو تیار ہیں، فارنزک ٹیموں نے بھی دوبارہ فلیٹ کا معائنہ کیا اور متعلقہ پولیس ذرائع کا خیال ہے کہ وہاں موجود شواہد قتل کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہیں ۔

نجی ٹی وی چینل 92 نیوز کے مطابق مفخر عدیل اورسابق ڈپٹی اٹارنی جنرل شہباز تتلہ کےمشترکہ دوست اسد بھٹی بھی غائب ہوگئے تھے تاہم ہفتےکو انہیں بھٹہ چوک کے علاقے سے حراست میں لیا جاچکا ہے اور انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ  مفخر عدیل کے ہاتھوں گمشدہ ڈپٹی اٹارنی شہباز تتلہ قتل ہوچکا ہے ،  مفخر عدیل نےقتل کے بعد لاش کے ٹکڑے کرکے جلا دیا تاہم محلے داروں کی جانب سے گھر سے بو آنے کی شکایت کے بعد ایس ایس پی مفخر عدیل نے واسا کا ٹینکر بلوا کر پورا گھر دھلوایا ۔

اسد بھٹی کے دعوے کے بعد قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی تفتیشی ٹیموں نےجائے وقوعہ کا دوبارہ معائنہ کیا اور وہاں سے ملنے والے ڈرم کا بھی فارنزک کرایاگیا ۔

ادھر پولیس ذرائع کے مطابق شواہد مٹانے کے الزام میں چند پولیس اہلکاروں کو بھی معطل کیا جاچکا ہے جبکہ ایس ایس پی مفخر عدیل بلوچستان کے راستے افغانستان فرار ہونے کی کوشش میں ہے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ  پنجاب پولیس نے ایس ایس پی مفخر عدیل کو عہدے سے معطل کرکے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سمری وزارت داخلہ کو بھیج دی۔

اس سے قبل روزنامہ پاکستان میں یونس باٹھ نے لکھا کہ ’’انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق 11اور12فروری کو ایڈووکیٹ شہبازاحمدتتلہ ایک”م“نامی ایم پی اے کے ساتھ اسی کی گاڑی پر موٹروے کے راستے اسلام آباد سے لاہور پہنچا، موٹروے سے واپسی پر شہباز احمدتتلہ نے ایس ایس پی مفخر عدیل سے موبائل فون پر بات کی کہ وہ انکے آفس کلمہ چوک میں پہنچیں، شہبازاحمدتتلہ”م“ نامی ایم پی اے کی رہائش گاہ ای ایم ای سوسائٹی گئے جہاں ایم پی اے اپنے گھر اتر گئے جبکہ شہباز احمدتتلہ ایم پی اے کی گاڑی پر ڈرائیور کے ساتھ اپنے آفس کلمہ چوک پہنچ گئے جہاں ایس ایس پی مفخر عدیل بھی پہنچ گئے۔

ایڈووکیٹ شہبازاحمدتتلہ اپنا موبائل فون اور پرس آفس میں چھوڑ کر مفخر عدیل کے ساتھ نکل گئے اور گاڑی میں بیٹھ کر مفخرعدیل سے ”گولی“ دینے کا کہا جس پر دونوں گاڑی میں بیٹھ کر فیصل ٹاو¿ن میں لئے کرائے کے گھر پہنچ گئے۔ مفخرعدیل نے لاپتہ ہونے سے قبل اپنے ایک اور دوست کو میسج کیا کہ وہ ایک مشن پر جا رہا ہے جس کی تفصیل وہ کسی کو نہیں بتا سکتا۔ 

دونوں اسلام آباد اور لاہور میں مختلف ”پارٹیاں“ کثرت سے اکٹھے اٹینڈ کرتے تھے۔ فیصل ٹائون گھر میں دونوں نے اکٹھے آخری پارٹی اٹینڈ کی جہاں منشیات کی مقدار کثرت سے استعمال کرنے کے بعد کوئی افسوسناک واقعہ رونما ہوگیا ،پولیس کی جانب سے دونوں کے موبائل فونز کی کال ہسٹری بھی حاصل کر لی گئی ہے مگر کوئی کامیابی نہ مل سکی جبکہ متعدد افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کئے گئے ہیں جبکہ حساس ادارے کی ٹیمیں بھی دونوں کا سراغ لگانے میں مصروف عمل ہیں‘‘۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے اس کیس میں کئی فارم ہاو سز اور پارٹیاں کرنیوالوں کو بھی حراست میں لے رکھا ہے، اس کیس میں جو بھی واردات رونما ہوئی ہے وہ فیصل ٹاو¿ن والے کرائے کے مکان میں ہوئی لیکن پولیس نے حراست میں ایسے افراد کو بھی لے رکھا ہےجن کا صرف ایس ایس پی مفخر عدیل اور شہباز تتلہ سمیت ان کے دیگر دوستوں کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ تھا اور بعض کو دونوں افراد سے ملے کافی عرصہ ہو چکا ہے لیکن پولیس ان کو حراست میں لئے ہوئے ہے ۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد بھٹی نے دوران تفتیش فیصل ٹاون والے گھر میں ہونیوالی پارٹی کے متعلق تمام حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ جو بھی واردات رونما ہوئی ہے اس میں وہ بے قصور ہے۔

مزید : جرم و انصاف