ہے” کلین لاہور“ پر یقین

ہے” کلین لاہور“ پر یقین
ہے” کلین لاہور“ پر یقین

  



 ہم میں سے جن افراد کو کبھی بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا ہے وہ اتفاق کریں گے کہ ہمارے ہاں پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا انتہائی تکلیف دہ اور صبر آزما کا م ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ پبلک ٹرانسپورٹ میں صفائی کی انتہائی ابتر اور قابل رحم صورت حال ہے۔ چھوٹے شہروں یا دوردراز علاقوں میں چلنے والی ٹرانسپورٹ کا ذکر تو درکنار ،جہاں یہ صورت حال بدتری کے عروج پر ہے۔ لاہور جیسے اہم شہر میں چند روٹوں کو نکال کر تقریباً ہر جگہ ٹرانسپورٹ سروس میں صفائی کی حالت خاطر خواہ نہیں ہوتی۔ ہمارے نظام ٹرانسپورٹ میں صفائی کی ابتر حالت کی بہت سی وجوہات ہیں .... لیکن دو نمایاں ہیں۔ اول شہریوں کی اکثریت صفائی کو کوئی خاص اہمیت دینے کو تیا ر نہیں۔ دوران سفر وہ خود بھی گندگی ڈالنے میں اپنا ہر ممکن حصہ ڈالتے ہیں۔ دوسرا ٹرانسپورٹ مالکان بھی سو بسم اللہ کرتے ہوئے اس طرف توجہ دینا ضروری خیال نہیں کرتے۔ نتیجتاً یہ امر پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کے عمل کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کا سبب بنتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں شعبہ ٹرانسپورٹ کی بہتری کے لئے کسی قدر کاوشیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ بہت اطمینان بخش امر ہے کہ شہر لاہور کے مکینوں کو سفر کی بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لئے ترکی کے تعاون سے حکومت پنجاب کی جانب سے جدید بس سروس کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اطمینان کی بات یہ ہے کہ اس بین الاقوامی معیار کی ٹرانسپورٹ سروس میں شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لئے اس کی صفائی کی ذمہ داری کلین لاہور کے نام سے نیک نامی کمانے والی لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو سونپی جارہی ہے۔ ایل ڈبلیو ایم سی نے مارچ 2012ءسے اب تک مختصر عرصے میں شہر میں صفائی کی صورت حال کو بہتر کرنے میں خاطر خواہ کردار ادا کیا ہے، اور کسی حد تک عوامی پزیرائی بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

میٹروبس ٹرانزٹ سروس کے ساتھ 7 سالہ معاہدے کے مطابق ایل ڈبلیو ایم سی گجو متہ سے شاہدرہ تک27 کلومیٹر طویل ٹریک کے54 پلیٹ فارموں پر چوبیس گھنٹے صفائی کے معمولات کی دیکھ بھال کے لئے یونیفارم میں ملبوس 500 سے زائد مستعد عملہ مامور کرے گی۔پیشہ ورانہ اعتبار سے تربیت یافتہ اور صفائی کے جدید آلات و مشینری مثلاًمکینیکل سویپرز و واشرز، ڈسٹ سکرز، سکربرز اور وائیپرزسے لیس یہ عملہ تین برابر شفٹوں میں کام کرے گا۔ صفائی کے عمومی امور کی طرح خصوصی طور پر میٹرو ٹرانزٹ بس کے کوریڈور، سٹیشنوں، پیدل گزر گاہوں و پلوں کی صفائی و دھلائی کے علاوہ برقی تنصیبات و آلات کی ڈسٹنگ کا اہتمام بھی کیا جائے گی ۔شہریوں کی سہولت کے لئے ٹریک کی صفائی رات 11بجے سے صبح 6 بجے کے درمیان انجام پائے گی۔بین الاقوامی معیار کی صفائی سروس یقینی بنانے کے لئے ترکی سے آلات و مشینری درآمد کی جارہی ہے۔ میٹرو بس ٹرانزٹ سروس کی انتظامیہ ایل ڈبلیو ایم سی کو اس مد میں تقریباًدوکروڑ روپے ماہانہ ادا کرے گی۔ معاہدے کے تحت ایل ڈبلیو ایم سی کو صفائی کے لئے دو منٹ کا ریسپانس ٹائم دیا گیا ہے۔ میٹرو بس ٹرانزٹ سروس کے ٹریک، سٹیشنوں اور بسوں کی حدود میں ذیادہ وقت تک گندگی کی صورت میں ایل ڈبلیو ایم سی پر جرمانہ عائد کیا جا سکے گا ۔

میٹرو بس سروس کے آغاز سے شہر میں ٹرانسپورٹ کی سہولتوںمیں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے اور ایل ڈبلیو ایم سی کو صفائی کی ذمہ داری دینابھی انتظامیہ کی صفائی کے لئے سنجیدہ کوششوں کا ثبوت ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں ایک طرف تو شہر کی عمومی صفائی میں بہتری آئی ہے تو دوسری طرف پہلی بار ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی صفائی کی ضرورت کا اعتراف کرتے ہوئے ٹھوس اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں میٹرو بس ٹرانزٹ سروس کا لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو صفائی ذمہ داری سونپنا رجحان ساز فیصلہ ثابت ہو گا۔ایل ڈبلیو ایم سی نے اس سلسلے میں شہریوں میں دوران سفر صفائی کی عادات اپنانے اور اس کے متعلق شعور بیدار کرنے کے لئے خصوصی آگاہی سرگرمیوں کے انعقاد کا بھی آغاز کردیا ہے، کیونکہ ایل ڈبلیو ایم سی کا منشور ہے کہ شہریوں میں شعور بیدار کئے بغیر اور ان کے ذمہ دارانہ کردار کو شامل کئے بغیر بڑے پیمانے پر صفائی کے مقاصد کو حاصل کرنا ممکن نہیں۔

پنجا ب حکومت کی عوام کی سہولتوں کے لےے اب تک کی گئی کاوشوں اور لاہور ویسٹ مینجمنٹ کی صفائی کے شعبے میں تسلی بخش کارکردگی سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ عوام کو میٹرو بس ٹرانزٹ سروس کی شکل میں نہ صرف سفر کی معیاری سہولت میسر آئے گی، بلکہ ماضی کے برعکس دوران سفر صاف ستھرا ماحول بھی میسر آئے گا ۔ دیگر ٹرانسپورٹ کے ذرائع میں بھی صفائی کی صورت حال کی جانب توجہ دینے سے یقیناً عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کا اذیت ناک اور صبر آزما نہیں لگے گا۔

مزید : کالم