کرپشن،ہر بیماری کی جڑ ہے

کرپشن،ہر بیماری کی جڑ ہے
کرپشن،ہر بیماری کی جڑ ہے

  



ہمارے ہاں تمام مسائل، مصائب، مشکلات اور بحرانوں کی جڑ کرپشن ہے ۔چھوٹے اہلکار سے بڑے عہدیدار تک اپنی حیثیت، استعداد اور اختیار کے مطابق قومی وسائل پر ناجائز دسترس اور ان کی لوٹ مار میں ملوث ہے ۔کچھ عرصہ قبل ایک وزیر نے کہا تھا کہ کرپشن ہمارا حق ہے ، اس کو قانونی شکل دے دی جائے۔وزیرصاحب کی تجویز کو بظاہر تو کوئی پذیرائی نہ بخشی گئی، البتہ عملاً یہی نظرآتا ہے کہ بااختیار لوگ لوٹ مار کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔اسی سبب لاکھوں، کروڑوں، اربوں اور ریکوڈک کو لے لیں تو کھربوں کی کرپشن ہورہی ہے ۔جیسا کہ چیئرمین نیب فصیح بخاری نے کہا کہ کرپشن کے حمام میں سب ننگے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں انتہائی سطح پر پہنچی کرپشن کی نشاندہی کی اور کرپٹ ممالک میں پاکستان کا درجہ مزید نودرجے بلند ہوگیا۔چیئرمین نیب نے روزانہ سات ارب روپے کی کرپشن کی بات کی تو اس پر چور کی داڑھی میں تنکے کے مترادف حکومتی صفوں میں کہرام کی سی کیفیت نظر آئی۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بڑی گرما گرمی ہوئی۔وزیروں کی مجلس میں، جہاں اربوں روپے یومیہ کی کرپشن سے متعلق نیب کی رپورٹ مسترد کردی گئی،وہیں وزراءنے چیئرمین نیب سے جواب طلب کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔چیئرمین نیب کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے گڈگورننس کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں۔

اجلاس کے دوران چیئرمین نیب کے بیان کا جائزہ لینے کے لئے وزیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ، وفاقی وزیرقانون فاروق ایچ نائیک، وزیر دفاع سید نوید قمر اور وزیراطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ پر مشتمل ایک وزارتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔اجلاس کے بعد وزیراطلاعات بھی اپنے چیئرمین نیب پر کھل کر برسے۔ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے الزامات کے حقائق کا پتہ لگا کر رپورٹ وزیراعظم اور کابینہ کو پیش کی جائے گی۔صرف وفاقی حکومت کرپٹ نہیں، بلکہ ملک میں 5حکومتیں قائم ہیں، ان کی کرپشن کا ڈیٹا کیوں سامنے نہیں آتا؟چیئرمین نیب ہمارے ہی تعینات کردہ ہیں، لیکن اگر وہ حکومت پر ہی اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات لگاتے ہیں تو وہ اس کی تفصیلات دینے کے بھی پابند ہیں۔کمیٹی ان سے پوچھے گی کہ انہوں نے حکومت پر کن وجوہات کی بناءپر الزامات لگائے کہ ملک میں روزانہ 7ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے ۔ملک کا مجموعی بجٹ 32سو ارب روپے ہے ۔یہ کس طرح ممکن ہے کہ 25سو ارب روپے کرپشن کی نذر ہوجائیں۔نوید قمر بھی چیئرمین نیب کے بیان پر میڈیا میں کڑوی کسیلی سنا چکے ہیں۔

اجلاس میں تو ہر وزیر گرم تھا ہی، معاملہ بھی تحقیقات اور چھان بین کے لئے انہی وزرائے کرام کے سامنے رکھ دیا گیا ہے ....وہ کیا رپورٹ دیں گے؟ اس کو سمجھنے کے لئے راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔چیئرمین نیب اپنے موقف پر قائم ہیں۔انہوں نے اپنے اعدادوشمار کو مزید درست کرتے ہوئے روزانہ بارہ سے چودہ ارب روپے کی کرپشن کی بات کی ہے اور وفاقی کابینہ کو مطمئن کرنے کی یہ کہتے ہوئے کوشش بھی کی کہ کرپشن میں صوبائی اور ضلعی حکومتیں بھی ملوث ہیں۔یہ کہہ کر تو مرکزی حکمرانوں کے دل کی بات کردی کہ کرپشن کی 65فیصد ذمہ داری پنجاب ہے ۔اس پر حکومت اور اس کے وزراءخوش ہوگئے اور چیئرمین نیب کا سب کہا سنا معاف کردیا۔پاکستان میں ہونے والی کرپشن کی نشاندہی نہ صرف ایمنسٹی انٹرنیشنل اور چیئرمین نیب نے کی ، بلکہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے سرکاری سطح پر ماہانہ 800ارب روپے کی لوٹ مار کی بات کی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل، چیئرمین نیب اور سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے اعدادوشمار سے قطع نظر عام مشاہدے کی بات کی جائے تو بھی ملک میں کرپشن کا ایک طوفان نظر آتا ہے ، جس کے راستے میں کسی رکاوٹ کی کوئی سبیل اور تدبیر نہیں کی جاتی، بلکہ حکومتی سطح پر کرپشن کو فروغ دینے کے اقدامات ہوتے نظر آ رہے ہیں،جن کا بڑا ثبوت کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے ایمنسٹی دینا،مجوزہ احتساب بل کے نفاذ کے قبل کی کرپشن کو نظر انداز کرنا اور پانچ کروڑ سے کم کی لوٹ مار کو کرپشن کے ضمن سے باہر قرار دینا ہے ۔آج ملک اور معاشرے میں جو بگاڑ، لوٹ مار اور بحران نظر آ رہے ہیں۔ان کی کہیں نہ کہیں جڑیں کرپشن کے ساتھ ہی جا ملتی ہیں۔صدر، سابق اور موجودہ وزائے اعظم ، وفاقی وصوبائی کابینہ کے ارکان کرپشن کے الزامات کی زد میں ہیں، ان میں سے کسی نے بھی الزام لگانے والوں کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر نہیں کیا۔اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ الزامات درست ہیں۔کسی کی طرف سے یہ کہہ دینا کہ بڑے سے بڑا مخالف بھی میری دیانت پر انگلی نہیں اٹھا سکتا،آپ کو دیانت داری کی سند نہیں بخش سکتا۔اگر صرف کرپشن پر قابو پالیا جائے تو نوے فیصد سے زیادہ قومی و عوامی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔اندازہ کیجئے ماہانہ 8سو ارب کی کرپشن پر قابو پا کر آپ کی ڈیڑھ دو سال میں تمام ملکی وغیر ملکی قرضوں سے جان چھوٹ سکتی ہے ،اگر بیرون ممالک میں پڑا پاکستانیوں کا جائز اور ناجائز سرمایہ پاکستان منتقل ہو جائے تو ترقی و خوشحالی کے نئے دور کاآغاز ہوسکتا ہے ۔ ٭

مزید : کالم