ون پاﺅنڈ انقلاب

ون پاﺅنڈ انقلاب
ون پاﺅنڈ انقلاب

  

یہ 2007ءکی یخ بستہ صبح تھی۔ہم دہلی ریلوے سٹیشن سے اتر کر اپنے ہوٹل پہنچے۔دوران سفر ہمیں یہ اطلاع مل چکی تھی کہ صدر پرویز مشرف نے ایمرجنسی کا نفاذ کردیا ہے،لیکن اس اقدام کے مضمرات پر غور کرنے کی فرصت ہمیں اس لئے نہ مل سکی کہ سفر اور نیند نے ہمیں دبوچے رکھا۔ہوٹل میں پورٹر نے ہماراسامان سنبھالا اور لفٹ کی جانب ہمارے ساتھ ساتھ چلا۔

”صاحب آپ پاکستان سے آئے ہیں ناں“؟.... اس نے ہمیں پوچھا، ہم نے اپنی مروت میں حسب توفیق شیرینی جمع کرتے ہوئے جواب دیا، جی ہاں....اس نے لفٹ کے دروازہ کے لئے بٹن دباتے ہوئے پوچھا، سنا ہے جی آپ کے دیش میں سینا آ گئی ہے؟ ہم نے اس کی دلچسپی اور سوال میں چھپی لذیذ چبھن پر اسے غور سے دیکھا۔اس کے چہرے پر ایک عیار مسکراہٹ رقصاں تھی۔” بڑا افسوس ہوتا ہے جی، آپ کے دیش میں بار بار سینا آ جاتی ہے۔شکر ہے اپنے دیش میں ایسا نہیں ہے“۔ہم نے قومی مدافعت کا بھاری فریضہ اپنے کندھوں پر محسوس کرتے ہوئے بتایا کہ سینا وینا نہیں آئی۔یہ تو ذراحکومت اور عدالت کے کچھ برتن آپس میں کھڑ کھڑائے ہیں،گھریلو مسئلہ ہے،چند دنوں میں حکومت، عدالت اور برتن اپنے اپنے مقام پر پہنچ جائیں گے۔وہ کندھے اچکاتے ہوئے بے اعتباری سے بولا:”ہاں جی ٹھیک ہی ہو جائے تو سب کے لئے اچھا ہے۔بس جی دونوں دیشوں میں شانتی ہونی چاہیے“۔ہمیں ملکی سلامتی کا سبق اور دعا دیتے ہوئے اس نے سامان لفٹ میں رکھا۔بہت جی چاہا کہ سامان اس کے ہاتھ سے چھین کر اسے الگ کردوں کہ ہم جانیں ہمارا کام، تو”ماما“ لگتا ہے، لیکن روایتی بزدلی اور مروت نے اجازت نہ دی۔

جناح ایونیو اسلام آباد پر40/30ہزار کے دھرنے میں ڈاکٹر طاہرالقادری گرج رہے تھے۔حکومت کرپٹ ہے۔ان کا وقت ختم ہوا،وزیراعظم اور وزراءاپنے کو سابق سمجھیں۔انہوں نے خطابت کی جولانی میں اسمبلیوں اور الیکشن کمیشن کی تحلیل کا مطالبہ بھی کردیا۔جواز میں اپنے دلائل کے ساتھ جناح ایونیو پر اپنے جانثاروں کا حوالہ پیش کیا۔قانون کے پرانے طالب علم اور استاد ہیں، لہٰذا ہر نقشِ حاضر مٹانے کی سند آئین کے تحفظ سے پیش کرتے رہے۔اس دوران سپریم کورٹ کی جانب سے رینٹل پاور کیس کے سلسلے میں نیب کو وزیراعظم سمیت دیگر ملزمان گرفتار کرنے کی خبر خدائی کمک بن کر پہنچی۔مبارک سلامت کا شور اٹھا۔شکرانے کے سجدے اور نوافل کی ہدایت جاری کی اور جاری شدہ تقریر کو روکا کہ آج کے لئے یہی کافی ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی حقانیت اپنی جگہ تسلیم، مگر اس فیصلے کی ٹائمنگ پر ہر ایک حیران تھا۔کچھ عش عش کراٹھے، باقی غش کھاتے کھاتے بچے۔حکومت اور پارلیمانی سیاست دانوں میں سراسیمگی دیدنی تھی۔خدشات اور اوہام کا ایک ہجوم تھا جو عوام اور میڈیا میں امڈ آیا۔کراچی اسٹاک ایکسچینج 525پوائنٹ گر گئی۔زندگی اسلام آباد کی حد تک پہلے ہی مفلوج تھی، اب اس کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیل گیا۔رات گئے تحریک انصاف کی آواز بھی انقلاب کی سروں میں سربند ہوگئی۔کئی ماہ سے گردش میں رہنے والی سازشی تھیوریوں کو زبان ملنا شروع ہوگئی۔ اس کالم کی اشاعت تک پردئہ اسلام آباد اور شاہراہِ انقلاب سے کیا ظہور ہوتا ہے؟ہمیں اندازہ نہیں، لیکن یہ اندازہ ضرور ہے کہ وطن عزیز ایک بار پھر خبروں، تجزیوں اور مذاق کی زد میں ہے، حتیٰ کہ مسافر پاکستان کی خدمت پر مامور ہوٹل پورٹر غیر ملک میں پوچھنے پر مجبور ہے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟

پاکستان آزاد ہوئے چھ دہائیاں بیت گئیں۔ پاکستان کے ساتھ درجنوں دیگر ممالک آزاد ہوئے۔اکثر ممالک کی آزادی میں خون ریزی کی وافر مقدار شامل تھی۔پاکستان کو بھی ابتداءمیں اعصاب شکن حالات اور مخاصمانہ ماحول کا سامنا کرنا پڑا،لیکن اگلے دس سال میں قیادت اور سیادت کی توجہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ سے بڑھ کر ذاتی مفادات میں گھر گئی۔بھارت نے دو سال میں آئین تشکیل دے کر جمہوریہ ہندوستان کا سفر شروع کردیا۔ہماری روایتی رومان پسندی نے سالوں قانون ساز اسمبلی کو دینی، قانونی اور تاریخی موشگافیوں میں الجھائے رکھا۔1954ءمیں مشرقی پاکستان میں ہونے والے انتخابات نے پاﺅں تلے سے زمین نکالی تو حکومتوں کے بننے بگڑنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔آئین بنا،نہ قوم کی تشکیل کی جانب پیش رفت ہوسکی۔1956ءمیں آئین بنا، مگر سکندر مرزا کے ہاتھوں پارہ پارہ ہوگیا۔ایوب خان کی آمد کے بعد نظام کے ساتھ تجربات کا نیا دور شروع ہوا۔آج 55سال سے زائد ہوگئے ،ہم نظام کے ساتھ گتھم گتھا ہیں۔انقلاب کی سب تعریفیں اور تاریخیں جناح ایونیو پر جاری دھرنے کے سامنے مسخرہ پن لگتی ہیں۔ انقلاب اگر یہ ہے اور اس طرح آتا ہے تو سیاست کے سکالرز کو ماضی کے انقلابات کے لئے کچھ اور نام دھرنا ہوگا۔مشکل کی صورت میں وہ ڈاکٹر طاہر القادری سے بھی رجوع کرسکتے ہیں کہ انقلاب، مجمع، حکومت اور دانش ان کی مٹھی میں ہیں۔

دہلی کے اس ہوٹل میں ہندوستانی پورٹر کے سامنے اپنے ملک میں ہونے والی ایک ”وکھری“ سیاسی معرکہ آرائی کی عزت افزائی ہمیں یاد ہے۔پاکستان میں ہونے والی بار بار حکومت کی تبدیلیوں پر ہمیں اور ہم ایسے بے شمار پاکستانیوں کو ایسے چبھتے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایسے سوالات کا منشا اکثر صورتوں میں یہ جاننا ہوتا ہے کہ بحیثیت قوم ہم کب ”بڑے“ ہوں گے؟جنرل پرویز مشرف نے جمہوری حکومت کو چلتا کیا تو پاکستان دنیا بھر میں مذاق بن کر رہ گیا۔نائن الیون کے بعد جنرل پرویز مشرف کو تو غیبی آسرا مل گیا، لیکن ملک بے آسرا ہوگیا۔مصلحت،منافقت اور خود غرضی نے ملک کا امیج مذاق بنا کر رکھ دیا۔دنیا بھر میں رونما ہونے والے دہشت گردی کے بیشتر واقعات میں ہماری شرکت لازم ہوکر رہ گئی۔اربوں ڈالر کی آمد سے پاکستان بحیثیت ریاست اور عوام تو مزید قلاش ہوگئے، لیکن حکام اور امرا امیر تر ہوگئے۔ ترقی کے ابلنے والے نغمے 2008ءکے بعد اس وقت خاموش ہوگئے ،جب معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے ایک بار پھر آئی ایم ایف کے درِ دولت پر”پلکوں سے دستک“ دینا پڑی۔

عجیب طرفہ تماشا ہے کہ انقلابی لشکر سے ایک ہفتہ قبل آئی ایم ایف کی ٹیم بھی اسلام آباد پہنچی۔مدعا یہ تھا کہ معیشت کس قدر جاں بلب ہے اور اس کی سانسیں درست کرنے کے لئے ”کیا کیا درکار “ ہے؟جمہوریت کا لنگڑا لولا سفر اپنے پہلے انتخابی پڑاﺅ پر پہنچنے والا تھا کہ انقلابی لشکر پہلے ہی پہنچ گیا ہے۔کشکول کی جھاڑپونچھ بھی ہوچکی ہے۔آنے والے چند دنوں میں سازشی تھیوریوں کے مطابق یا ہٹ کر جوبھی رونما ہوگا، وہ شاید بالغ قوموں کے لئے معمول نہ ہو۔جمہوری قوتوں کی مریل آوازیں، پست حوصلے اور اختلافات خدشات کو جنم دے رہے ہیں کہ ایک دائرے کا سفر ختم ہوا۔اس لاحاصل سفر کے بعد شاید ایک نیالاحاصل سفر درپیش ہے۔وہ بھی مانوس دائرے میں۔ڈاکٹر طاہر القادری کی خطابت اور ان کے تابعین نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ تبدیلی کے مروجہ اصول ہم پر لاگو نہیں ہوتے۔انقلاب کو جناح ایونیو میں پھیلتے اور وزیراعظم کی گرفتاری کے احکامات نے تبدیلی کی خواہش مند سونامی قوتوں کو بھی راغب کرلیا ہے۔”بے قابو حالات“ کا منظر سامنے دیکھ کر مقتدر قوتیں بھلا قابو میں کیسے رہ سکیں گی؟انتقال اقتدار جمہوری انداز میں ہوا تو یہ ایک معجزہ ہوگا۔دونوں صورتوں میں یہ سوال کسی بھی ہوٹل پورٹر کی طرف سے ہوسکتا ہے کہ پاکستان میں اقتدار اور انتقالِ اقتدار نارمل کیوں نہیں ہو سکتا،بلوغت کو مزید کتنی عمر درکار ہے؟ ٭

مزید :

کالم -