”تھی گرمیءبازارِ محبت ترے دَم سے

”تھی گرمیءبازارِ محبت ترے دَم سے

  

موت سے کس کو رستگاری ہے۔ ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے، مگر اس چرخِ نیلی فام کے نیچے اور کائنات ارضی کے اوپر کچھ ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ماﺅں کی دعاﺅں کی طرح مخلص و یاور ہوتی ہیں۔ حریم قلب و نظر انہیں بھلانا بھی چاہیں تو بھلا نہیں سکتے۔ان نجیب النفس، مخلص و ہمدم قوم و وطن ہستیوں میں یقینا قاضی حسین احمدؒ صاحب سرفہرست نظر آتے ہیں۔آپ کی اچانک رحلت نے نہ صرف دردمندانِ پاکستان، بلکہ عالم اسلام کے رہنماﺅں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔قاضی محترم پاکستان اور عالم اسلام میں ایک ایسے مفیض سیاسی و دینی رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے ،جن کا وجود مسعود شکستہ پا مسلمانوں کے حوصلوں کو نیاولولہ اور عزائم کو تسخیر کے نئے افق عطا کرتا تھا۔ استعماری قوتوں کی مسلمانانِ عالم، بالخصوص پاکستان کے خلاف مکروہ عزائم اور سازشیں ہوں یا دین اسلام کے خلاف مغربی الحادوبے دینی کے منہ زور اُمڈتے ہوئے طوفان ، فرقہ واریت کو ہوا دینے والے تخریبی عناصر ہوں یا شدت پسندی کو فروغ دینے والے دشمنان ملک و ملت ان سب کے خلاف زندگی کی آخری سانس تک تسلسل سے جدوجہد کرنے والے انتھک، بے باک اور صاحبِ شہامت و بسالت انسان کا نام بلامبالغہ قاضی حسین احمد ہے۔ حتیٰ کہ 1988ءمیں گوربا چوف نے اپنے ایک بیان میں اس حقیقت کا اظہار کیا تھا کہ روس کے لڑکھڑاتے اور ڈوبتے ہوئے اشتراکی نظام کو اگر کوئی خطرہ باقی ہے تو اس وقت پاکستان میں اس کا سبب قاضی حسین احمد کی شخصیت ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ:

کود پڑتا تھا نزاعِ خیر و شر میں بے خطر

دوست ہوتے تھے ابھی اندیشہ ءانجام میں

قاضی حسین احمد کے وجود میں دستِ قدرت نے ایسی خوئے دلنوازی، ایسی بوئے مروت و محبت اور ایسا عدیم النظیر گداز رکھا ہوا تھا کہ مختلف مکاتب ہائے فکر کے لوگ اپنے شدید مذہبی تحفظات کے باوجود ان کے جذبہ ءاتحادویگانگت کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے تھے۔قاضی حسین احمد جب بھی محسوس کرتے کہ ملکی سلامتی اوراستحکام کسی انتشار کے الاﺅ کی نذر ہورہا ہے تو آپ کا جوش اخوت و محبت انگڑائیاں لینے لگتا ،دیکھتے ہی دیکھتے ، اہل تشیع، اہل سنت، اہل حدیث اور دیگر فرقوں کے رہنما مہینوں میں نہیں،لمحوں میں ایک پلیٹ فارم پر بیٹھے مسکراتے نظر آتے، یوں بڑے سے بڑا بحران عطرِ محبت کی شمیم انگیزیوں میں بدل جاتا۔بلامبالغہ یہ سب پیکر مہرو و فا قاضی حسین احمد کی شخصیت کا اعجاز ہوتا۔مختلف مکاتب فکر کے ارباب بست و کشاد کو ایک لڑی میں پرونے میں آپ کے رفیق خاص مولانا شاہ احمد نورانی کا کردار بھی قابل ستائش تھا۔ان دونوں عظیم محب وطن ہستیوں نے وحدت پاکستان کی مالا کے موتیوں کو بکھرنے نہیں دیا۔مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم کے داغِ مفارقت دے جانے کے بعد یہ بوجھ دو بار دل کابائی پاس کرانے والے اس مردِ آہن کے کندھوں پر آپڑا اور آپ نے آخری دم تک اس چراغ محبت کی لَوکو مدہم نہیں ہونے دیا۔اپنے قویٰ کے اضمحلال کے باوجود بھی اس مردِ درویش نے جس جانفشانی ایثار،وسعتِ قلبی، اعلیٰ ظرفی، حسنِ تدبر، فہم و ذکا اور لامثال بصیرت و بصارت سے اختلافِ فکر و نظر کے علمبرداروں کو زنجیر محبت سے اسیر کئے رکھا، اس سے کتابِ اخوت کے اوراق ابدالآباد تک جگمگاتے رہیں گے:

”تمہارے“ بعد کہاں یہ وفا کے ہنگامے

کوئی کہاں سے” تمہارا“ جواب لائے گا

قاضی حسین احمد ایک جادوبیاں مقرر بھی تھے۔ مبداءفیاض نے انہیں زبردست طلاقتِ لسانی سے نواز رکھا تھا۔جماعت کا اجتماع عام ہو یا سوال و جواب کی نشست، جلسہ عام ہو یا ٹی وی انٹرویو کا معاملہ، آپ کی باتوں میں گلوں کی خوشبو پائی جاتی۔کسی بھی موضوع پر دلائل و براہین سے مخاطبین و سامعین کو متاثر کرلینے میں انہیں یدطولیٰ حاصل تھا۔صف اول کے قومی رہنماﺅں میں کسی کو بھی اقبالیات پر اتنا زبردست عبور نہیں تھا،جتنا اقبالؒ کے اس فکری ترجمان کو حاصل تھا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1986ءمیں گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن لاہور میں زیر تعلیم تھا۔لاہور کے جناح ہال میںیوم اقبال کے سلسلے میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔صدارت قاضی حسین احمد کی تھی اور مہمان خصوصی محمد حنیف رامے مرحوم تھے۔حنیف رامے کسی حد تک روس کے اشتراکی نظام سے متاثر تھے۔صاحب صدر سے پہلے حنیف رامے نے خطاب کیا اور اقبالؒ کے چند اشعار پڑھ کر اقبال کو کمیونزم کا ترجمان ثابت کرنے کی کوشش کی ۔

حنیف رامے مرحوم کی تقریر کے بعد قاضی حسین احمدنے اپنے خطاب میں اقبالؒ کے فارسی اور اردو کلام کی روشنی میں حنیف رامے کے دلائل کی دھجیاں فضائے بسیط میں بکھیر دیں۔آپ نے اتنی روانی اور سلاست سے اقبال کے اشعار سنائے کہ فدایانِ اسلام و پاکستان جھوم جھوم اٹھے۔آپ کو خصوصیت سے اقبالؒ کے فارسی کلام پر زبردست دستگاہ حاصل تھی۔جلسہ عام میں تو خےر آپ کو عوام الناس کے ذہنوں کو سامنے رکھنا پڑتا، مگر خالصتاً علمی و ادبی محفلوں میں قاضی حسین احمدکی اقبال شناسی درجہ کمال پر ہوتی۔اشعار کا سیل بیکراں سمندر کے جوار بھاٹے کی طرح رقص کرتا ہوا سامعین کو اپنی گرفت میں لے لیتا، بس یوں محسوس ہوتا:

جانا بھی اگر چاہا تری بزم سے اُٹھ کر

محسوس ہوا پاﺅں میں زنجیر پڑی ہے

دینی اجتماعات میں اپنی تقاریر میں قرآنی آیات کا برمحل استعمال آپ کی گفتگو کا طرئہ امتیاز ہوتا۔دلیل کے طور پر جہاں ایک قرآنی آیت کا حوالہ کافی ہوتا، وہاں سامعین کی تسکین طبع کے لئے کثیر تعداد میں آیات کے حوالہ جات پیش کرتے اور دینی امور کی توضیحات کے سلسلے میں کبھی کسی مصلحت کا شکار نہ ہوتے، جس چیزکواپنی دانست میں صحیح سمجھا،ببانگِ دہل اس کو بیان کیا۔آقائے گیتی پناہ حضور سید المرسلین کی ذاتِ اقدس سے آپ کو والہانہ عشق تھا۔ایک بار روزنامہ”جنگ“ میں آپ کا ایک انٹرویو شائع ہوا۔وہ انٹرویو زیادہ تر آپ کی ذاتی زندگی کے حالات و واقعات پر مشتمل تھا۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ، اس انٹرویو میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ آپ کو کبھی عالم رویا میں حضور سید المرسلین کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہوا ہے یا نہیں؟ اس سوال کے جواب میں آپ کی آنکھیں فرطِ محبت سے اشکبار ہوگئیں۔قاضی صاحب نے بھیگی پلکوں اور کپکپاتے ہونٹوں سے جواب دیا۔ایک سچے مسلمان کی حیثیت سے تو میرے دل میں ہر وقت حضور کی زیارت کی تمنا بے قرار رہتی ہے، مگر میرا ایمان یہ ہے کہ میری گنہگار آنکھیں آقائے نامدار کے جمال جہاں آراءکی تاب نہیں لا سکتیں۔

علامہ اقبالؒ کے وہ اشعارجن سے عشقِ مصطفےٰ چھلک چھلک اٹھتا ہے ، انہیں تمام کے تمام ازبر تھے، جنہیں وہ نگینوں کی طرح جڑنے میں مہارت نامہ رکھتے تھے۔فارسی زبان و ادب پر انہیں گہرا عبور حاصل تھا۔فارسی اشعار پڑھتے وقت لسان شیراز و اصفہان کی یاد تازہ کردیتے۔ایک بارانہوں نے مسئلہ کشمیر کی قانونی حیثیت کو اجاگر کرنے کے لئے ایک وفد کے ساتھ یورپی اور اسلامی ممالک کا طوفانی دورہ کیا، اس دوران آپ نے وفد کے سربراہ کی حیثیت سے سربراہانِ مملکت سے عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں میں رواں انداز میں گفتگو کی.... قاضی حسین احمد کو زندگی میں صرف ایک بار اس وقت قدرے کبیدہ خاطر ہونا پڑا،جب انہوں نے جماعتی ضوابط سے ہٹ کر اسلامک فرنٹ کے نام سے عوامی انداز اپناتے ہوئے الیکشن میں حصہ لیا۔جماعت کے روایتی نظم و ضبط کے پابند کارکن اس صورت حال سے کچھ پریشان ہوئے ،خود قاضی صاحب کو احتسابی مجالس میں تنقید کابھی سامنا کرنا پڑا، مگر قاضی صاحب نے کمال بردباری سے تنقید برداشت کی اور اپنا موقف بھی پیش کیا۔اگرچہ اسلامک فرنٹ الیکشن میں ناکام ہوگیا، مگر میرا ایمان وایقان ہے کہ اس انقلابی تبدیلی کی خواہش میں آپ کے خلوص میں تشکیک کا کوئی سا پہلو نہیں نکالا جا سکتا۔

قاضی حسین احمد دل کی گہرائیوں سے چاہتے تھے کہ عوامی رنگ اپنا کر ہی کوئی مذہبی جماعت برسراقتدار آ جائے اور فرسودہ نظام کی اصلاح کی کوئی صورت نکل آئے۔اسی مقصد کے لئے تگ دو کرتے کرتے اقبال کی فکر کا وہ درویش خدامست ہوائے تندوتیز میں اپنا چراغ جلاتے جلاتے فصیل حیات پھلانگ کر اپنے خالق کے حضورجا پہنچا۔وہ پیکر عجزوانکسار اپنی قوم کے لئے سنبھلنے کی دعاﺅں کے ساتھ ساتھ اپنے حکیمانہ نظریات کااثاثہ اہل نظر میں بانٹتا بانٹتا اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ایک حق شناس اٹھ گیا،محفل ہی سونی ہوگئی، اب اس کے بعد غیرفانی اسالیب سے متصف اور تعمیری نظریات کے حامل دانشور کہاں نظر آئیں گے؟اب شعور کو بالیدگی اور ذہنوں کو توانائی کی دولت کہاں سے ملے گی؟قوائے علم و آگہی مضحمل اور حکمت و دانش گریبان چاک کئے بیٹھی ہے۔دعا ہے خدائے بزرگ و برتر آپ کی لحد کو بقعہ نور بنا دے اور مغفرت کی دولت سے بہرہ یاب کرے(آمین)

لے چلے پیش حضور مالک روزِ جزا

رحمتِ حق بڑھ کے تجھ کو خندہ پیشانی کے ساتھ

حشر تک تیری لحد اس نور سے روشن رہے

ہیں درخشاں ماہ و انجم جس کی تابانی کے ساتھ

مزید :

کالم -