پٹرول کا بحران اور وزیر صاحب کا علم!

پٹرول کا بحران اور وزیر صاحب کا علم!
پٹرول کا بحران اور وزیر صاحب کا علم!

  


اسے اہلیت کہیں، بے خبری سے تعبیر کریں یا پھر یہ تجاہل عارفانہ ہے کہ ہمارے وزیر پٹرولیم کو صحیح معنوں میں یہی علم نہیں کہ بازار میں پٹرول نہیں ہے تو اس کی وجہ کیا ہے۔ ان کے لئے یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں، اس سے پہلے وہ گیس کی قلت اور نایابی کا مژدہ سنا کر پردے کے پیچھے چلے گئے۔ شہری گیس کے ہاتھوں بازار سے کھانے پر مجبور ہو گئے وہ خواب غفلت سے بیدار نہ ہوئے اور ان کو دیکھنے کے لئے آنکھیں اور سننے کے لئے کان ترس گئے اور اب وہ پٹرول کے شدید ترین بحران میں سامنے آ ہی گئے ہیں تو انہوں نے سارا ملبہ صارفین پر ڈال دیا کہ مانگ بہت بڑھ گئی۔ لوگوں نے پٹرول زیادہ استعمال کیا اور یہ قلت پیدا ہو گئی۔

جناب شاہد خاقان عباسی جو سابقہ دور میں ٹی وی کے ٹاک شوز میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف بہت دور کی کوڑی لاتے تھے، اب کہتے ہیں کہ صورت حال جلد ٹھیک ہو جائے گی اور ان کی یہ جلدی دس دن ہیں، جب وہ یہ بتا رہے تھے تو اس وقت پنجاب اور اسلام آباد میں اسی سے پچاسی فیصد تک پٹرول پمپ بند تھے اور جب وہ اس دن کا پیغام دے چکے تو اس کے بعد مزید چار چھ فیصد پمپ بند ہو گئے اور اب اکا دکا پمپوں پر سینکڑوں کاروں اور موٹرسائیکل والوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور یہ بحران شدید تر ہو گیا۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار ملک سے باہر گئے ہوئے ہیں تو وزیراعظم عمرہ ادا کرکے مدینہ طیبہ میں روضہ رسولؐ پر حاضری دیئے ہوئے ہیں۔ عوام کو اس نئی مصیبت سے کون نجات دلائے گا؟

پٹرول کے شدید بحران کا جن صارفین کو سامنا ہے وہ اور ان کے اعزہ اس سے بخوبی واقف ہیں۔ ہم تو وزیرموصوف کی عالمانہ بات پر حیران ہیں کہ صارفین نے زیادہ پٹرول خرچ کرلیا اور بحران پیدا ہو گیا۔ ان کو یہ علم ہی نہیں کہ پٹرول کی سب سے بڑی تقسیم کار کمپنی پی ایس او ہے جو خود اتنے بڑے بحران سے دوچار ہے کہ وہ جنوری کے وسط تک کے لئے بھی ایل سی نہیں کھول سکی کہ اس کے پاس ایل سی کے عوض جمع کرانے کے لئے رقم ہی نہیں ہے۔ پی ایس او والوں نے حکومت سے 72ارب روپے مانگے تھے اور یہ رقم ان واجبات کے عوض مانگی گئی تھی جو خود حکومت کے بھی ذمہ ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پی ایس او کی نادہندہ ہیں اور اس کمپنی کے واجبات 200ارب روپے سے زیادہ کے ہیں۔ پی ایس او نے گزشتہ ماہ ہی خبردار کر دیا تھا کہ واجبات یا یکمشت رقم نہ ملی تو تیل کی درآمد ممکن نہیں ہو گی اور ایسا ہی ہوا کہ کسی نے اس طرف توجہ نہیں دی۔ پی ایس او مقررہ آرڈر نہ دے سکی اور تیل درآمد نہ ہوا۔ اب پہلے سے موجود پٹرول ختم ہوا تو بحران پیدا ہو گیا اور یہ اتنا شدید ہے کہ حکومت کے لئے سنبھالنا مشکل ہوگا کہ پٹرول فوری طور پر تو پیدا نہیں کیا جا سکتا ، یہی ممکن ہے کہ کمپنی کے پاس جتنا پٹرول بچ گیا ہے اس کی جلد ترسیل ممکن بنائی جائے لیکن اس میں آئل ٹینکر ایسوسی ایشن حائل ہو گئی ہے جسے پولیس سے شکائت ہے کہ ڈرائیور حضرات کو رشوت کے لئے تنگ کیا گیا اور ان کی کوئی نہیں سنی گئی۔ آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے سربراہ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر متعلقہ پولیس آفیسر کو معطل کرکے سزا نہ دی گئی تو آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن ہڑتال پرمجبور ہوگی۔ایسا ہوگیا تو رہی سہی کسر پوری ہو جائے گی اور لوگ گاڑیاں کھڑی کرکے پیدل یا پھر سائیکلوں پر سفر شروع کر دیں گے۔

ہمیں یاد آیا کہ سابق صدر جنرل ضیاء الحق نے تحریک پیدا کی کہ سائیکل کا استعمال بڑھایا جائے اور راولپنڈی اور اسلام آباد میں انہوں نے خود سائیکل چلائی تھی یہ الگ بات ہے کہ ضیاء الحق مرحوم کی اس حکمت عملی کے لئے اخراجات لاکھوں میں ہوئے تھے۔ اب تو حکومت نے جواز ہی پیدا کر دیا ہے اور پٹرول نہیں دیا جب فیول نہیں ملے گا تو گاڑیاں کھڑی ہوں گی اور سائیکل کی پبلسٹی ہو جائے گی۔

وزیر محترم نے جو یہ فرمایا کہ لوگوں کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ایسا ہوا تو ان کی اس بات کو ایک حد تک درست قرار دے لیں تو پھر بھی ذمہ دار حکومت ہے کہ مستقبل کی منصوبہ بندی بھی اسی کی ذمہ داری ہے جب محترم شاہد خاقان عباسی فرما رہے تھے کہ اس سال گیس کی قلت ہوگی اور سی این جی سٹیشن کم از کم 15فروری تک بند رہیں گے تو اس وقت ان کو یہ اندازہ کیوں نہ ہوا کہ جب سی این جی نہیں دی جائے گی تو کاریں پٹرول پر چلانا مجبوری ہوگی اور یوں پٹرول معمول سے کچھ زیادہ خرچ ہوگا تو اس وقت انہوں نے یہ حساب کیوں نہ لگایا کہ کتنی ٹرانسپورٹ کتنی سی این جی استعمال کر رہی ہے اور سی این جی نہیں ملے گی تو معمول سے کتنا زیادہ پٹرول استعمال ہوگا انہی اعداد و شمار کے مطابق پٹرول کی درآمد بڑھا لی جاتی۔ ویسے ہمیں اب بھی یہی یقین ہے کہ محترم وزیر پٹرولیم یا تو بالکل بے خبر ہیں یا پھر وہ جان بوجھ کر لاعلمی کا مظاہرہ کررہے ہیں، اس سلسلے میں وزیراعطم کو ان کا محاسبہ کرنا ہوگا۔

ان کی یہی بات ٹھیک لگتی ہے کہ صورت حال بہتر ہونے میں وقت لگے گا۔ یہاں انہوں نے کوئی تجویز نہیں دی اور معاملہ عوام پر چھوڑ دیا ان کی مثال وہی ہوگی ’’پیر جی! مرید زیادہ ہو گئے ہیں‘‘ ہو گئے ہیں تو پھر کیا ہوا۔ بھوکے مریں گے تو خود ہی بھاگ جائیں گے اور یہاں بھی یہی ہوگا۔ گاڑی کی ٹینکی خالی ہوگی، پٹرول پمپوں سے پٹرول نہیں ملے گا تو گاڑیاں ازخود کھڑی کر دی جائیں گی، محترم وزیر پٹرولیم نے حل نہیں دیا تو ہم عرض کر دیں، پی ایس او کے علاوہ جو کمپنیاں اجازت سے خود پٹرولیم مصنوعات درآمد کر رہی ہیں، ان سے کہا جائے کہ پٹرول سپلائی کیا جائے اور مقامی طور پر جو تیل نکلتا ہے اس کی پیداوار بڑھائی جائے اور پٹرولیم جہازوں کی آمد پر جلد سپلائی کا اہتمام کیا جائے کہ بحران جلد ختم ہو۔ *

مزید : کالم


loading...