جذباتی نہیں، سوچ بچار سے فیصلے کریں

جذباتی نہیں، سوچ بچار سے فیصلے کریں
جذباتی نہیں، سوچ بچار سے فیصلے کریں

  


لیڈر تب بنتا ہے ،جب سوسائٹی کے عام لوگ سمجھنے لگیں کہ ہمیں جس منزل کی تلاش ہے ، اس تک ہمیں یہ شخص میرکارواں بن کے پہنچا سکتا ہے۔ لیڈر میں اخلاص، جہد مسلسل، ایمانداری اور اپنے کاز کے ساتھ مکمل کمٹمنٹ ضروری ہوتی ہے۔ اب یہ لیڈر پر منحصر ہے کہ وہ منزل کے حصول کے لئے صحیح راستے کا انتخاب کرتا ہے یا پگڈنڈیوں پر اپنے قافلے کو چلا کر تھکا کے مارتا ہے۔ لیڈر سے اس سوسائٹی کا رومانس فطری بات ہے۔ سب اسے اپنا مخلص ساتھی، نجات دہندہ اور راہبر تصور کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ جس نسل کا لیڈر بنتا ہے، اس نسل سے اس کا رومانس چلتا رہتا ہے۔ اس نسل تک اس کی عقیدت، مقبولیت اور حمایت کو کم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔آپ اس کی لاکھ کردار کشی کریں، اس کی زندگی کے تاریک گوشوں کو اجاگر کریں، اس کی شخصیت میں کیڑے نکالیں، لوگ اس پر یقین کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہوتے۔ حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ انگریزوں، ہندوؤں، ملاؤں اور جاگیرداروں نے مل کر ان کی ذات پر کیسے کیسے گھٹیا الزامات لگائے، مگر قائدؒ کے اخلاص، جہد مسلسل، ایمانداری اور اپنے کاز سے مکمل کمٹمنٹ نے لوگوں کے دلوں میں اعتماد کا جو رشتہ پیدا کر دیا تھا، اسے کم کرنا ممکن نہ ہوا۔ آج بھی عظیم قائد کے دور کے لوگوں کے سامنے ان کا تذکرہ کیا جائے تو ان کی عقیدت قابل رسک ہوتی ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو دوسرے لیڈر تھے،جن کے ساتھ ایک نسل کا رومانس بڑھا۔ ان کی شخصیت کا سحر آج بھی اس نسل پر قائم ہے۔ بھٹو صاحب کی شخصیت کے کئی تاریک پہلو اجاگر کئے گئے اور ملک توڑنے کی سازش کا الزام بھی ان پر لگا، مگر ستر کی دہائی کی نسل نے ان الزامات کو کوئی اہمیت نہ دی۔ بھٹو صاحب آج بھی اس نسل کے دلوں میں زندہ ہیں۔ بھٹو صاحب کے بعد ایک خلا رہا۔ کوئی ایسا لیڈر سامنے نہیں آیا کہ جس سے ایک نسل کا رومانس قائم ہو۔ محترمہ بینظیر کی پہچان، ووٹ بینک اور عوامی عقیدت بھٹو کی بیٹی کی وجہ سے تھی۔وہ بھٹو صاحب کا نعرہ لگوا کر عوام کو متاثر کرتی رہیں۔ محترم نوازشریف اینٹی بھٹو ووٹ کیش کراتے رہے۔ ملک میں محترم نوازشریف کے ساتھ اینٹی بھٹو ووٹ کا رشتہ ہے، لیکن رومانس کا رشتہ نہیں۔ محترم نوازشریف جب جنرل پرویز مشرف کی آمریت کا شکار بنے تو عوامی سطح پر وہ رومانس نظر نہ آیا جو بھٹو صاحب کی گرفتاری پر نظرآیا، ملک میں کثیر تعداد میاں صاحب کو ایک زیرک لیڈر سمجھتی ہے، مگر ایسا نہیں کہ ایک نسل کا ان سے رومانس قائم ہو چکا ہو، جو ان کی ایک کال پر جان دینے کے لئے حاضر ہوں۔

بھٹو صاحب کے بعد عمران خان ایک لیڈر بن کر ابھرے ہیں۔ کپتان سے ایک نسل کا رومانس شروع ہوا ہے۔ ڈھائی سال کے بچے سے لے کر بیس پچیس سال کے نوجوانوں کے لئے ہیروکا کردار بن کے ابھرا ہے۔ میرا ڈھائی سالہ بیٹا ہشام عمران خان کی تقریر اس خصوصی دلچسپی سے سنتا ہے، جیسے اسے کچھ سمجھ آ رہی ہو کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ مجھے وہ واقعہ اکثر یاد آ جاتا ہے، جب قائداعظمؒ انگریزی میں تقریر کررہے تھے تو ایک اِن پڑھ بوڑھا شخص بڑی توجہ سے ان کی بات سن رہا تھا تو کسی نے کہا ’’بابا جی آپ کیا سن رہے ہیں۔ آپ کو کیا علم قائداعظمؒ انگریزی میں کیا کہہ رہا ہے‘‘۔ اس ان پڑھ بزرگ نے کہا ’’بیٹا مجھے اتنا تو علم نہیں کیا کہہ رہا ہے، لیکن اتنا یقین ہے جو کہہ رہا ہے، سچ کہہ رہا ہے۔ کپتان اس وقت نوجوان نسل کا ہیرو ہے۔ٹین ایجرز اس کی ہر غیر منطقی و جذباتی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں، مگر سنجیدہ فکر لوگ اور پچاس سے اوپر کی بزرگ نسل کو کپتان کے طرز سیاست سے شدید تحفظات ہیں۔ وہ کپتان کو ہیرو تو مانتے ہیں،سیاسی رہنما ماننے کے لئے تیار نہیں، ان کے نزدیک کپتان میں سیاسی رہنما والا زیرک پن موجود نہیں۔

اس بات پر مَیں نے کافی غور کیا کہ کیا وجہ ہے ٹین ایجرز تو کپتان پر فریفتہ ہیں، مگر بزرگ طبقہ کی وہ چاہت حاصل نہیں کر پا رہا ، وہ اب بھی اس کی بجائے ماضی کے آزمائے ہوئے نااہل سیاستدانوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ میری تحقیق کے مطابق بچوں یا نوجوانوں میں کپتان کو ہیرو ماننے میں ان کی نفسیات کا بڑا عمل دخل ہے۔آپ نے کبھی بچوں کے ساتھ بیٹھ کر فلم یا ریسلنگ دیکھی ہو تو ساری فلم میں ان کی دلچسپی کے لئے صرف دو باتیں ہوتی ہیں ایک جب کوئی گانا لگتا ہے تو وہ جھومنے لگتے ہیں۔ دوسرا جب ہیرو بھڑکیں مارتا ہے اور مار کٹائی کرتا ہے تو انہیں بہت مزہ آ رہا ہوتا ہے، انہیں فلم اور ریسلنگ میں ایسا ہیرو اچھا لگتا ہے۔آپ کوئی شاہکار آرٹ فلم یا اشفاق احمد کا ڈرامہ دکھا دیں ، یہ فوراً بوریت کا شکار ہو جائیں گے۔ کپتان کے جلسوں میں بھی گانے اور بھڑکیں بڑی نمایاں ہوتی ہیں، وہ کبھی کسی ایس ایس پی کوللکار رہا ہوتا ہے تو کبھی کسی لیڈر کو لتاڑنے کی بات کرتا ہے۔ اوئے سڑکوں پر بدلہ لیں گے، بلے سے پٹائی کروں گا، جیسی بھڑکیں مارتا ہے اور گانے چلاتا ہے تو ٹین ایجرز کے لئے وہ ٹارزن ہیرو کے روپ میں نظر آتا ہے، ان کی فطری طور پر کپتان سے رومانیت بڑھتی چلی جاتی ہے۔

ہماری بزرگ نسل جو کہ اِدھر تم اُدھر ہم، جو ڈھاکہ گیا، اس کی ٹانگیں توڑ دیں گے گریبان سے پکڑ کر گھسیٹیں گے اور جاگ پنجابی جاگ جیسی بھڑکوں کا نتیجہ دیکھ چکی ہے۔ وہ فوراً محتاط ہو جاتی ہے اور اس طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتی نظر آتی ہے، انہیں کپتان کے طریقہ کار سے اختلاف ہے انہیں خوف ہے کہ اس رستے پر چل کر تبدیلی ممکن نہیں اور قوم منزل کے سفر کے لئے غلط راہوں پر بھٹک کر منزل سے کوسوں دور چلی جائے گی مزے کی بات یہ ہے کہ نوجوان نسل کا رومانس کپتان کے اسی اسٹائل سے ہے ،جس سے جہاندیدہ بزرگ نسل کا شدید اختلاف ہے۔ جنون حکمت کو للکار دیا ہے ۔ کپتان ٹین ایجرز کا ہیرو بن چکا ہے۔ وہ جب کرکٹر تھا تو پوری قوم کا ہیرو تھا سیاست میں آ کر وہ نوجوانوں کا ہیرو بن گیا جبکہ بزرگ نسل کے خیال میں سیاست اور کھیل الگ الگ میدان ہے سیاست میں ہیرو کی نہیں مدّبر سیاسی راہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کپتان کا ایک نسل سے رومانس قائم ہو چکا ے۔ کپتان کی ایک کال پر وہ ہر جگہ پہنچتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نئے ریکارڈز قائم کئے، مگر کپتان کو اب یہ سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ اس نے ٹین ایجرز کا ٹارزن ہیرو بن کر بھڑکیں مار کر ایڈونچر کرتے رہنا یا منزل کے حصول کے لئے تعمیری جدوجہد کا آغاز کر کے ایک راہنما میں خود کو تبدیل کرنا ہے۔ اس نسل کے روشن مستقبل یا تاریک راہوں میں مارے جانے کا فیصلہ کپتان نے کرنا ہے۔ پچھلے چند ماہ میں کپتان نے جو سیاسی فیصلے کئے ہیں وہ بری طرح نا کام رہے اور اس کے ہاں سیاسی بصیرت کا فقدان نظر آتا ہے۔ یہ سب فیصلے کپتان اس کی پارٹی اور اس کے تھنک ٹینک کے لئے لمحہ فکریہ ہے ناکامیوں کا بوجھ بھی ایک حد تک سہارا جا سکتا ہے۔

کپتان خود اعتراف کرتا ہے کہ ہمیں دھرنا شروع کرنے سے پہلے بالکل اندازہ نہ تھا کہ یہ اتنا لمبا عرصہ چلے گا۔ ہمارا خیال تھا چند دن میں ہم کامیاب ہوں گے، یہ اعتراف ایک سیاسی جماعت کے لا ابالی پن اور منصوبہ بندی سے عاری تخیلاتی دنیا میں بسنے کے سوا اور کیا ہے۔ کپتان کو وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے سے پہلے اچھی طرح ہوم ورک کرنا چاہئے تھا ،اسے پارلیمنٹ میں شامل دوسری جماعتوں کی لیڈر شپ کی سوچ جاننا ضروری تھا آئینی ماہرین کی رائے طلب کرتا کہ ڈانگ سوٹے سے بلوا کر کے کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے اسے ملک کے تمام مکتبہ فکر کی رائے جاننا ضروری تھا کہ اس کے اس مطالبے کو پذیرائی ملے گی یا منہ کی کھانی پڑے گی۔ کپتان کو اس مطالبے سے پیچھے ہٹنا پڑا جو ایک اور غیر سنجیدہ سیاسی فیصلہ تھا پارلیمنٹ سے تحریک انصاف کے ممبران کا مستعفی ہونے کا کوئی جوازنہ تھا۔ کپتان کی پارٹی کو پہلی دفعہ ملک کے سب سے طاقتور فورم سے اپنی آواز اٹھانے اور مطالبات منوانے کا موقعہ ملا، جسے ضائع کرنے میں انہوں نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا۔ کپتان کے سب مطالبات منوانے کا اصل فورم پارلیمنٹ ہی تھا۔ استعفے دے کر الگ الگ سپیکر کے سامنے تصدیق نہ کرانے سے بھی پارٹی کے اندر اختلافات اور مشاورت کے بغیر تھوپے گئے فیصلوں کے اثرات بھی محسوس کئے گئے۔سول نافرمانی بھی ایک بے تکا اور ناقابل فہم اعلان تھا۔ بجلی کے بل پھاڑنے سے کیا حاصل ہوا کہ خود بھی جرمانے سمیت جمع کر ادیئے۔ غیر سنجیدہ فیصلوں ، ان فیصلوں کی کامیابی و ناکامی پر غوروفکر کرنے کی بجائے جذبات کے زیر اثر تخلیاتی دنیا میں جینا دیوانگی سے زیادہ اور کیا ہے۔ کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے مضمرات پر غور و فکر نہ کرنا اور ناکامیوں کی طویل فہرست رقم کرتے جانا انقلابی لیڈروں کی پہچان نہیں ہوتی۔ خرد جذبات کے تابع کر دی گئی ہے۔ پے در پے غلط و غیر سنجیدہ فیصلوں کے باوجود کپتان اس وقت جذباتی نوجوان نسل کا ہیرو بن چکا ہے۔یہ بھی کپتان کی خوش قسمتی ہے کہ اس کے حریف زیرو ہیں، اس لئے وہ اندھوں میں کانا راجہ ہے۔ کپتان کو ہیرو سے لیڈر بننا ہوگا۔ اسے جذباتی پن،غیر سنجیدہ، مشاورت کے بغیرفیصلوں اور مخالفین کو للکارنے کی بجائے نوجوانوں کے قافلے کو منزل کی طرف شارٹ کٹ سے نہیں اصل راستے پر گامزن کرنا ہو گا۔ عمران خان ابھی تک ٹین ایجرز کاٹارزن ، اسپائڈر مین اور ریمبو ہے، ان کا خیال ہے یہ آناً فاناً آئے گا اور سب کچھ تبدیل کر دے گا، اسے چاہئے کہ بھڑکوں سے نکل کر سنجیدگی سے فیصلے کرے اور ہر فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے مضمرات پر غوروفکر کیا کرے۔وہ ٹین ایجرز کے ٹارزن ہیرو سے ہر عمر کے لوگوں کا لیڈر بن سکتا ہے۔ قوم اسے لیڈر کے روپ میں دیکھنا چاہتی ہے۔ *

مزید : کالم


loading...