دھان کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے مشینی کاشت متعارف ہوگی،صوبائی سیکرٹری زراعت

دھان کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے مشینی کاشت متعارف ہوگی،صوبائی ...

 لاہور ( کامرس رپورٹر)صوبائی سیکرٹری زراعت راشد محمود لنگڑیال نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب دھان کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کے لیے مشینی کاشت متعارف کرائے گی۔رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کالاشاہ کاکوکے زرعی سائنسدان دھان کی برآمدات میں اضافہ کے لیے زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل نئی اور ہائی برڈاقسام متعارف کروانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں۔انہوں نے بتایا کہ صوبے کی 21ملین ایکڑاراضی کا زمینی اور10لاکھ زرعی ٹیوب ویلوں کے پانی کا تجزیہ کروا نے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جس سے مختلف فصلوں میں کھادوں کے متوازن ومتناسب استعمال سے فی ایکڑ پیداواری لاگت میں کمی کے ساتھ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں دھان کی زرعی تحقیقی سرگرمیوں بارے منعقدہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ میٹنگ میں ڈاکٹر عابد محمود ڈائریکٹر جنرل ایگری کلچر ریسرچ پنجاب ،پروفیسرڈاکٹر اقرار احمدخاں وائس چانسلر انہوں نے شرکاء کو بتایاکہ حکومت دھان ودیگر فصلوں کی مختلف اقسام کی پیداواری صلاحیت اور فی ایکڑاوسط پیداوار میں وسیع خلیج کو کم کرنے کیلئے نہ صرف چھوٹے کاشتکاروں تک زرعی مشینری کی دستیابی ممکن بنائے گی بلکہ کھادوں پر سبسڈی کابراہ راست فائدہ بھی کسانوں تک پہنچانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ڈاکٹر عابد محمود نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان دنیا میں دھا ن پیداکرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے۔زرعی تحقیقاتی ادارہ دھان کالا شاہ کاکوکے زرعی سائنسدانوں نے چاول کی 24سے زائد نئی اقسام متعارف کرائی ہیں جو انتہائی تعریف کی حامل ہیں اور عام کاشتکار کے لیے بہت فائد ہ مند ثابت ہوئی ہیں۔پروفیسرڈاکٹر اقرار احمد خاں نے بتایا کہ دھان کی فصل کی پیداوار میں اضافہ کے لیے فی ایکڑ80ہزار پودے ہونا ضروری ہیں جبکہ کاشتکاروں کی طرف سے 50سے 60ہزار پودے فی ایکڑ لگائے جارہے ہیں۔پودوں کی مطلوبہ تعداد کے حصول کے لیے ٹرانسپلانٹر کے ذریعے پنیری کی منتقلی اور براہ راست کاشت کو متعارف کروانے کے لیے کاشتکاروں کی تربیت انتہائی ضروری ہے۔ڈاکٹرمحمد اختر ڈائریکٹر زرعی تحقیقاتی ادارہ دھان کالاشاہ کاکونے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال پنجاب میں 45لاکھ ایکڑ پردھان کی کاشت سے 3.54ملین ٹن پیداوار حاصل ہوئی ۔دھان کے بعد ازبرداشت نقصانات کو کم کرنے کے لیے رائس کمبائن ہارویسٹر کے استعمال کو بڑھانے کے لیے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ ادارہ میں کئے گئے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ دھان کی براہ راست پٹڑیوں پر کاشت سے پانی کی 30سے35فیصد اورپیداواری اخراجات میں 55سے60فیصد بچت کی جاسکتی ہے۔

مزید : کامرس


loading...