لمبی جدائی

لمبی جدائی
لمبی جدائی

  


سماج کی تبدیلی لازم ٹھہرچکی ہے۔ انکاری فطرت کے باغی کہلائیں گے۔سزا کے طور پر گمنامی جن کی ریکھاؤں میں لکھ دی گئی۔ خلق خدا اس قدر عاجز آچکی کہ لاوا پھٹنے کو تیار ہے، جبکہ حاکم خوش فہمیوں کے ہم سفر۔ ابھی کل ہی اک کاسہ لیس اخبار نویس نے فخر سے فرمایا ’’پیپلز پارٹی کا کارکن نہ اخبار پڑھتا ہے اور نہ ہی ٹیلی وژن دیکھتا ہے۔ وہ صرف اپنے لیڈر کی سنتا ہے‘‘۔ گہری حیرت اکیسویں صدی اور کارکنوں کی ذہنی معذوری کا یہ عالم ہے۔ اک پیپلز پارٹی ہی نہیں کم و بیش ہر جماعت کے کارکن اسی غلامانہ سوچ اور اطاعت کے اسیر ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کا ڈرا سہما کارکن احساس کمتری کا شکار، مسلم لیگ(ق) کا ورکر خوشامد پرست، ایم کیو ایم میں جڑوں تک سرایت عدم تحفظ، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے پیروکار لب کشائی سے انکاری، جماعت اسلامی کے مقلد اختلاف رائے سے گریزاں ،جبکہ تحریک انصاف کا ورکر اندھی عقیدت کے کنویں میں گر چکا ہے۔ کنواں بھی ایسا جہاں ڈوبنے والا مدد کی صدا بلند کرنے کو بھی توہین خیال کرتا ہے۔ سیکنڈ کلاس لیڈر شپ ہی نہیں، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکن بھی بھیڑ بکریوں کی مانند ہیں۔

عظیم سماج کا خواب اور یہ سیاسی پارٹیاں؟۔ جنہیں اتنا بھی ادراک نہیں دنیا کس قدر تیزی سے مذہبی جنون اور وسائل پر قبضے کی جنگ میں پھنس رہی ہے۔ امریکن معیشت بدستور زوال پذیر، یونان کے بعد یورپین ممالک میں پھیلتا بیروزگاری کا ناسور، چین کی صورت دنیا کی معیشت کونگلتا جن اور متنازعہ سمندری جزیروں کی تہوں میں چھپی کھربوں ڈالرز کی معدنیات کے واسطے نئی صف بندیاں ۔ ہر طرف تبدیلیاں اور عالمگیر تبدیلیاں نمودار ہو چکی ہیں۔ اثرات سے نمٹنے کے لئے ممالک اور سیاسی جماعتوں کی تیاریاں بھی شروع ہیں۔ امریکن فوج اپنے سماج کے کارپوریٹ کلچر کو محفوظ بنانے میں مزید سرگرم عمل، نیٹو اتحاد افغان جنگ کی ناکامیوں پر غورو حوض کے لئے تیار، یورپین غیر ملکیوں کی بھرتی واسطے فوج کے بند دروازے کھولنے پر آمادہ۔ ۔۔جبکہ ہماری سیاسی جماعتیں ، دانشور فوج کا مورال پست کرنے پر کمر بستہ۔ ان ہولناک حالات میں ماضی پرستی بالکل فنکاروں کے اس ٹولے کی مانند، جو ہر غمی،خوشی کے موقع پر پرانی باتوں کو چھیڑ کر ایک دوسرے کو ذلیل کرنا فخر گردانتے ہیں۔

مانیں یا نہ مانیں حقیقت یہی ہے پاکستان کے افق پر چھائی قیادتیں ذہنی معذور ہو چکی ہیں۔پاکستانی سماج ترقی کے زینوں پر چڑھنے کو بے قرار ،جبکہ قیادتیں اپنے ہاتھ سے پانی کا گلاس تک پینے سے انکاری۔ ان قیادتوں کی جبلت، سوچوں کے رجحانات اور قوت فیصلہ اس قابل نہیں رہی ملک کو بھنور سے نکال سکے۔ غیر معمولی حالات بڑے اقدامات کے متقاضی ہوتے ہیں۔ اقدامات کے دھارے لیڈر شپ کی سوچوں سے پھوٹتے ہیں اور یہاں لیڈرشپ فرعونوں جیسی انائیں پالے بیٹھی ہے ۔ریاست کسی طور کمزور نہیں لیکن ادارے کمزور ہوچکے ہیں۔ اداروں کی کمزوری کے ذمہ دار حکمران ہیں۔ پولیس کا جبر اور سرکاری اداروں کی چیرہ دستیاں خوں آشام درندے کی مانند بدستور برقرار کیوں؟۔ عوامی راج کے نعروں کے باوجود تعمیرات میں اربوں روپوں کے گھپلے کیوں؟۔ آزاد پارلیمنٹ کے پرچم تلے واپڈا، سوئی گیس چوروں کے رفیق کار کیوں؟۔ مرکز کے حکمران انقلابی سماجی پالیسیوں کو اپنانے سے بدستور انکاری ہیں ۔پیپلز پارٹی کی طرح مسلم لیگ (ن) بھی آخری اننگز میں داخل ہو چکی ہے۔ذرائع ابلاغ چیخ چیخ کر بہتر طرز حکمرانی کی دہائی دے رہے ہیں۔ عوام مسلسل اور پیہم احتجاج سے اپنا موڈ ریکارڈ کروا رہے ہیں۔ لیکن چاروں صوبوں میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو ان اشاروں کو بھانپ سکے۔

اب ایک نیا ناٹک شروع ہو چکا ہے۔ کوئی مہنگائی کے ہاتھوں ذبح ہوتا احتجاج کرے تو اسے ضرب عضب کا کہہ کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔ کوئی سانحہ ماڈل ٹاؤن کی بات کرے تو ضرب عضب کو بطور ڈھال نکال لیا جاتا ہے۔اب لوٹ مار کرنے والوں نے ضرب عضب کے پیچھے پناہ ڈھونڈ لی ہے۔ ضرب عضب کا تعلق فوج سے ہے۔ قربانیاں فوج دے رہی ہے اور ان قربانیوں کا کریڈٹ ایسا حکمران طبقہ لے رہا ہے جس نے پاکستان بھر کے گلی محلوں میں معاشی دہشت گردی کی بنیاد رکھی ہے۔سوال بڑا سادہ ہے، حکمران طبقہ پاکستانیوں کو کب تک جانور سمجھتا رہے گا؟ اگر انسان سمجھتے تو پولیس کلچر کو اکیسویں صدی سے ہم آہنگ کرتے۔ اگر انسان سمجھتے تو سول سروس کا اسی فیصد سٹرکچر کنٹریکٹ پر لے جاتے۔ ادارہ جاتی نااہلی کی صورت ظلم کی جس قلم کو بویا گیا آج وہ تناور درخت بن چکا ہے۔ لیکن حکمران طبقہ یاد رکھے بھوکے ننگے اور تہی دامن لوگ اس درخت کے گرد اکٹھا ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ کوئی تنے پر حملہ آور ہونے کی سوچ رہا ہے اور کوئی جڑ سے اکھاڑنے کا عزم لئے بیٹھا ہے۔ پچھتر فیصد معاملات تو پہلے ہی ہاتھ سے نکل گئے۔ سمندر کنارے بسنے والوں کو ذرا دائمی شکنجے میں آ لینے دیں پھر باقی کا پچیس فیصد بھی ادھر چلا جائے گا جہاں جانا چاہئے۔ وہاں بہت ہی بڑے فیصلے ہوچکے۔ ان فیصلوں میں سوچ بچار زیادہ اور جذباتیت کم ہے۔ صفائی پہاڑوں پر ہی نہیں ،بنگلوں، کوٹھیوں اور گلی محلوں میں بھی ہوگی۔ اتنا صبر کوئی نہیں کرتا۔ جس نے ڈلیور کرنا ہوتا ہے یا کرنے کے قابل ہوتا ہے وہ ابتدائی ہفتوں میں ہی دکھا دیتا ہے۔ بس وقت کی چال پر نظر رکھیں بہت کچھ خودبخود آشکار ہونا شروع ہو جائے گا۔ کاش کوئی رضا ربانی کے آنسوؤں کی گہرائی کو سمجھتا۔ کاش کوئی اعتزاز احسن کی گلوگیر آواز پر غور کرتا۔ یہ آنسو، یہ گلوگیر آواز سنا رہی ہے اک لمبی جدائی کی نوید۔جب جنگ کے شعلے بھڑکنے کے باوجود قائدین سیاست چمکائیں گے تو جدائی مقدر ہوگی۔ *

مزید : کالم


loading...