خوشخبری کا انتظار ہے

خوشخبری کا انتظار ہے
خوشخبری کا انتظار ہے

  


بارش نے موسم کو خوشگوار بنا دیا ہے، کسی زمانے میں ’’پوہ‘‘ دیاں جھڑیاں، بہت مشہور ہوا کرتی تھیں، جونہی ہلکی ہلکی رم جھم شروع ہوتی ہمارے گھروں میں ’’حلوہ‘‘ بنانے کی تیاریاں شروع ہو جاتی تھیں۔ سوجی اور خالص گُڑ کا یہ حلوہ بہت مزے کا ہوتا تھا، اسے مزید مزیدار بنانے کے لئے اس میں ’’مونگ پھلی‘‘ کے دانے بھی ڈالے جاتے تھے۔ یہ ’’حلوہ‘‘ تقریباً ہر گھر میں بنایا جاتا تھا، مگر اس کے بنانے کا انداز مختلف تھا، بڑے بوڑھوں کے لئے نرم نرم اور نوجوانوں کے لئے کافی دیر تک چولہے پر پکایا جاتا، ہمارے کالا باغ کا حلوہ تو پورے میانوالی میں مشہور ہے، اب بھی وہاں کے لوگ ناشتے میں ’’حلوہ‘‘ ضرور کھاتے ہیں۔یہ حلوہ لاہور کی ’’حلوہ پوڑی‘‘ سے مختلف ہوتا ہے۔ اسے اس انداز میں بنایا جاتا ہے کہ ’’کڑاہی‘‘ میں ایک ایک دانہ چمکتا نظر آتا ہے۔ پھر ’’پوہ‘‘ دی جھڑیوں میں ہم لوگ ’’چھلا کوچ‘‘ بھی کھیلا کرتے تھے۔میانوالی کے علاقہ وتہ خیل‘‘ میں ایک بہت بڑا ’’چھلا میچ‘‘ ہوا کرتا تھا، اتفاق سے ایک دن مَیں بھی اپنے میزبانوں کے ساتھ ’’چھلا کوچ‘‘ کھیلنے چلا گیا میچ میں تقریباً200کے قریب کھلاڑی موجود تھے، دونوں طرف کے کھلاڑی دونوں جانب آمنے سامنے مُنہ کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔ ہاتھوں کو چادروں کے ساتھ چھپا لیا جاتا ہے اور پھر باری باری دونوں پارٹیاں’’چھلا‘‘ تلاش کرتی ہیں جو پارٹی ’’چھلا‘‘ ڈھونڈ لے، تو پھر اسے ’’چھلا‘‘ دوسری پارٹی کو دینا پڑتا ہے۔

جو پارٹی زیادہ مرتبہ چھلا تلاش کرتی ہے، زیادہ پوائنٹ کے ساتھ اسے فاتح قرار دے دیا جاتا ہے، چھلا کھیلنے کے ساتھ ساتھ ’’حلوہ‘‘ بھی تیار کیا جاتا رہتا ہے، ہارنے والی پارٹی پر حلوہ کے اخراجات ڈال دیئے جاتے ہیں۔ مجھے چھلا کوچ کے کھیل کے آداب کا علم نہیں تھا، کھیل شروع ہوا تو کسی نے چادروں کے نیچے سے ’’چھلا‘‘ میری مُٹھی میں دبا دیا۔ دوسری پارٹی نے ’’چھلا‘‘ تلاش کرتے ہوئے ایک صاحب کو مٹھی کھولنے کے لئے کہا تو مَیں نے باآواز بلند نعرہ لگایا، چھلا تو میرے پاس ہے، عین اُس وقت جب مَیں نے چھلا میرے پاس ہے کا اعلان کیا، تو میرے دوسرے ساتھی کی مٹھی میں سے بھی چھلا برآمد ہو گیا، بس پھر کیا تھا، ہماری پارٹی پر دھاندلی کا الزام لگ گیا اور ایک ’’جوڈیشل انکوائری کمیشن ‘‘ بنایا گیا اور انکوائری کے مکمل ہونے تک مجھے ’’قید‘‘ کر لیا گیا۔ صبح جوڈیشل انکوائری نے فیصلہ کیا کہ مہمان کو چھوڑ دیا جائے اور دھاندلی کرنے والوں پر ’’حلوہ‘‘ کا جرمانہ کر دیا گیا، پھر کب جانے مجھ ’’قیدی‘‘ کو رہائی نصیب ہوئی، مگر یہ سب باتیں اب خواب و خیال بن گئی ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ پیار و محبت کے رشتے،وہ خوشیوں کے میلے، وہ پوہ دیاں جھڑیاں، وہ چھلے کوچ میں رت جگے، نہ جانے کہاں کھو گئے ہیں، اوپر سے موسم بھی ہماری ہی طرح کے ہو گئے ہیں دسمبر سے12جنوری تک کم بخت دھند نے ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ دکھائی کچھ دیتا تھا اور سنائی کچھ۔

ہمارے ایک دوست ڈرائیو جو میانوالی سے لاہور کے لئے ایک نجی کمپنی کی بس چلاتے ہیں۔گزشتہ روز اچانک بیمار ہو گئے، پوچھنے پر بتایا کہ گزشتہ روز لاہور سے میانوالی جاتے ہوئے سرگودھا روڈ پر ’’چکیاں‘‘ کے قریب ایک ’’چڑیل‘‘ اُن کی بس کے سامنے آ گئی اور پھر کافی دور تک بس کے آگے آگے بھاگتی رہی، ہم نے اُسے دلاسہ دیتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کی کہ دُھند کی وجہ سے تمہیں وہم ہو گیا ہے، مگر وہ بضد تھا کہ اُس نے چڑیل کو ہی دیکھا ہے۔ ہم نے جب چڑیل کا حلیہ پوچھا تو اُس نے بتایا کہ وہ ’’سفید بادلوں‘‘ کی طرح تھی، ہم مسکرائے اور کہا کہ سفید بادلوں کی طرح کوئی پری یا حور تو ہو سکتی ہے، چڑیل تو ’’کالی سیاہ‘‘ ہوتی ہے۔ بہرحال کافی سمجھانے اور تسلی کے علاوہ، مسجد کے مولوی کے دم سے انہیں آرام آ گیا ہے اور اب وہ ایک بار پھر اپنے کام پر لگ گیا ہے۔گزشتہ رات مَیں نے اسے ازراہ مذاق کہا کہ اگر چڑیل کا رنگ سفید بادلوں جیسا ہو تو پھر اسے میرا سلام عرض کرنا اور اگر رنگ ’’کالا سیاہ‘‘ ہو تو پھر تم جانو اور چڑیل جانے۔

ذاتی طور پر میرا خیال یہی ہے کہ چڑیل وڑیل کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ سارا کیا دھرا دُھند کا ہے، جو مختلف روپ دھار کے لوگوں کو پریشان کر رہی ہے، لیکن اس دُھند کے چونکہ مختلف روپ ہیں، سو ہمارے اور آپ کے ہیرو عمران خان کو اس دُھند نے ایک ’’پری چہرہ‘‘ عطا کیا ہے۔عمران خان نے چونکہ دھند کے عروج میں نکاح کیا ہے، اس لئے ہماری پیاری بھابھی کے چاند چہرے کی روشنی کے باوجود ان کے نکاح کے وقت پر دھند پڑی ہوئی ہے۔ سینئر صحافی عارف نظامی بضد ہیں کہ دونوں کا نکاح 7 محرم کو ہو گیا تھا، مگر عمران خان کا اصرار ہے کہ انہوں نے نکاح اور شادی 8 جنوری کو کی ہے۔ عارف نظامی کے بارے میں کبھی نہیں سُنا کہ انہوں نے خبر کے نام پر کوئی’’ہوائی‘‘ چھوڑی ہو۔البتہ عمران خان نے سیاست کے میدان میں کئی ’’ہوائیاں‘‘ چھوڑی ہیں، جو بعدازاں ان کی سیاسی ’’رسوائیاں‘‘ بھی بنیں۔ بہرحال یہ تو دھند کے تذکرے کے ساتھ شادی کا تذکرہ بھی آ گیا، لیکن شادی کے حوالے سے وضاحت ضروری ہے، کیونکہ مُلک بھر کے علمِ نجوم اور علم اعداد کے ماہرین خاصے پریشان ہیں۔کوئی سات محرم کے دن سے اور کوئی آٹھ جنوری کی بنیاد پر شادی کے مستقبل کے بارے میں ’’پیش گوئیاں‘‘ کر رہا ہے، ریحام خان نے بنی گالہ کے حوالے سے حکومت کو ضرور ایک خوشخبری سنائی ہے، یعنی انہوں نے گھر کا انتظام سنبھالتے ہی، بجلی، گیس اور پانی کے بل جمع کرا دیئے ہیں، حالانکہ عمران خان نے ملک بھر میں سول نافرمانی کی تحریک چلاتے ہوئے گھر کے تمام بل جمع کرانا بند کر دیئے تھے، گو کہ مُلک بھر کے عوام نے بھی عمران خان کے سول نافرمانی کے اعلان کو مسترد کر دیا تھا، مگر اب عمران خان کی بیگم ریحام خان نے بھی سول نافرمانی کی تحریک کی مخالفت کرتے ہوئے بل جمع کرا دیئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان کی بیگم کو عمران خان کے سیاسی فیصلوں سے اتفاق نہیں ہے۔

اس حوالے سے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ بل جمع کرانے کے حوالے سے وہ ایک علیحدہ پریس کانفرنس کریں گے۔ میرے خیال میں پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ اس حوالے سے پریس کانفرنس کریں گے ہی نہیں اور کریں گے تو وہ یہی کہیں گے کہ بھائی اب مَیں ’’بلوں‘‘ کو جمع کرانے یا نہ کرانے کی بحث میں الجھ کر اپنے گھر میں ’’لڑائی‘‘ کرنے سے تو رہا۔ ویسے میرا خیال ہے کہ ریحام خان نے عمران خان سے پوچھا تو ضرور ہو گا کہ ’’خان صاحب‘‘ اب ’’بلوں‘‘ کے بارے میں کیا کرنا ہے، تو جواباً عمران خان نے کہا ہو گا، ’’اللہ کی بندی‘‘ اب جو کرنا ہے، تم نے کرنا ہے، مَیں نے جو کرنا تھا وہ کر لیا ہے۔میرے خیال میں اب عمران خان کا ذکر بند کر دینا چاہئے کہ کیونکہ قارئین کے ساتھ ساتھ میرے محترم استاد قدرت اللہ چودھری صاحب بھی عمران خان کی شادی کے طویل تذکرے کو پسند نہیں کرتے اور بات بھی درست ہے کہ کیونکہ شادی ایک انتہائی ذاتی معاملہ ہے اور اس پر بھی اتنی ہی بات ہونی چاہئے، جتنی مولانا فضل الرحمن نے کی ہے، ویسے 62سال کی عمر میں شادی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دیہی زندگی میں کئی ایسے لوگ موجود ہیں، جنہوں نے80سال کی عمر میں نہ صرف یہ کہ شادی کی ہے، بلکہ چند ماہ بعد ہی خاندان میں ایک خوبصورت فرد کا اضافہ بھی کیا ہے۔ سو اب یہی امید رکھنی چاہئے کہ اللہ عمران خان کے ذریعے اس قوم کو ایک خوبصورت سا ’’تحفہ‘‘ ضرور دے ۔ *

مزید : کالم


loading...