پیرس حملہ اور تہذیبوں کا تصادم

پیرس حملہ اور تہذیبوں کا تصادم
پیرس حملہ اور تہذیبوں کا تصادم

  


پیرس میں میگزین ’’چارلی ہیبڈو‘‘ کے دفترپر حملے کے بعد جہاں ایک طرف پھر آزادی اظہار رائے کی حدود کے حوالے سے بحث و مباحثے شروع ہو گئے ہیں تو وہیں دوسری طرف یورپ، خاص طور پر فرانس میں ایک بار پھر تہذیبوں کے تصادم کے حوالے سے بیانات میں شدت آ رہی ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں بسنے والی اقلیت چاہے جس قدر بھی امن اور چین کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہو، یہ حقیقت اپنی موجود ہے کہ اس اقلیتی قوم کے اندر موجود مٹھی بھر انتہا پسند ں کی جانب سے اٹھائے گئے شدت پسندانہ اقدامات سے ایک طرف اس ملک کی فاشسٹ قوم پرست اور نسل پرست جماعتیں مزید مضبوط ہو جاتی ہیں،بلکہ مذہبی یا نسلی اعتبار سے اقلیت میں ہونے والی اقوام کو بھی ہر لحاظ سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ فرانس میں ان حملوں کے بعد سیاسی اعتبار سے جس جماعت کو سب سے زیادہ فائدہ ہو رہا ہے، وہ دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت نیشنل فرنٹ ہے۔

حال میں کئے گئے سرویز نیشنل فرنٹ کی سربراہ میرین لی پین کو اس وقت فرانس کی سب سے مقبول رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ نیشنل فرنٹ جماعت کی سیاست کا بنیادی نکتہ ہی یہی ہے کہ امیگرنٹس فرانس کی معیشت ، سیاست ، سماج اور ثقافتی اقدار کے لئے خطرہ بن رہے ہیں۔ گزشتہ سال کے ایک سروے کے مطابق امیگرنٹس فرانس کی کل آبادی کا 31فیصد ہیں۔ ظاہر ہے ان امیگرنٹس میں مسلمانوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ اگرچہ سرکاری طور پر فرانس میں نسل یا مذہب کی بنیاد پر اعداد و شمار حا صل نہیں کئے جاتے، مگر ’’ پیور ریسرچ سنٹر‘‘ کے مطا بق فرانس میں مسلمان کل آبادی کا 7.5فیصد ہیں۔یہ تناسب یورپ کے دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ جیسے ہالینڈ میں مسلمان کل آبادی کا 6.0فیصد، جرمنی میں 5.8فیصد اور برطانیہ میں 4.4فیصد ہیں، اس لئے جب امیگرنٹس کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو اس میں مسلم آبادی کا اچھا خاصا تناسب موجود ہوتا ہے۔

پیرس میں ان حملوں کے فوراً بعد نیشنل فرنٹ کی رہنما میرین لی پین کا بیان سامنے آیا کہ ان کی جما عت کئی عشروں سے یہ کہہ رہی ہے کہ امیگرنٹس ،خاص طور پر فرانس میں بسنے والے مسلمانوں سے فرانس کے مفادات کو خطرات لا حق ہیں اور اب واضح طور پر اسلام پسندوں نے فرانس کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے، جبکہ لی کے مطابق فرانس میں مسلمانوں کی کئی علامتوں، جیسے مساجد،حلال کھانا فراہم کرنے والے ریسٹورنٹس، نیز سکولوں اور کالجوں میں سکارف کرنے والی مسلمان خواتین بھی فرانس کی ثقافت کے لئے خطرہ ہیں۔ فرانس کے سابق وزیراعظم ایلن جپ نے پیرس حملوں کے بعد ٹی وی میں اپنے خطاب میں کہا ہے کہ اب اگر مسلمانوں نے فرانس میں رہنا ہے، تو پھر فرانس کے ہر مسلمان کو اپنے طور پر یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ دہشت گرد نہیں ہے۔ نیشنل فرنٹ کی سربراہ لی پین اور سابق وزیراعظم کے ردعمل کے بعد اگر ہم صحا فتی اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ردعمل کو دیکھیں تو ان حملوں کے فوراً بعد فرانس میں جس ٹو یٹ کا سب سے زیا دہ رجحان رہا، وہ Kill All the Muslims تھی۔

دراصل فرانس میں تہذیبوں کے تصادم یا ثقافتی اقدار کی جنگ کے نا م پر کافی عرصے سے سوچ کو پروان چڑھا یا جا رہا ہے۔ جیسے حال ہی میں فرانس میں شائع اور بہت مقبول ہونے والی دو کتابیں اس با ت کی غمازی کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب فرانس کے بہت مشہور اور بہت زیا دہ پڑھے جا نے والے ادیب حاؤلے بیک مچل کا ناول Submission ہے۔اس ناول میں مچل فرانسیسیوں کو یہ خوف دلاتا ہے کہ اگر فرانس میں مسلمانوں کے خطرے کو نہ روکا گیا تو 2022ء میں کوئی مسلمان فرانس کا صدر منتخب ہو جائے گا، پھر وہ مسلمان صدر فرانس کو اسلامی فرانس بنانے کے لئے فرانس کے تعلیمی نظام کو اسلامی کر دے گا، جس سے فرانس میں جمہوریت، سیکولر ازم ، آزادی اظہار رائے اور ترقی پسندی کا خاتمہ ہو جا ئے گا۔ عورتوں کی حالت انتہائی مخدوش ہو جائے گی۔ مردوں کو ایک سے زیا دہ شادیاں کرنے کی آزادی مل جا ئے گئی۔اِسی طرح فرانسیسی صحا فی ایرک زیمور کی کتاب Le Suicide francais (French Suicide)جو 2014ء میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب ثابت ہوئی ۔ اس کتاب میں فرانس کی سیکولر اقدار کے لئے فرانس میں بسنے والے مسلمانوں کو فرانسیسی سیکولر ازم کے لئے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ان چند مثالوں کو پیش کرنے سے یہ دیکھنا مقصود ہے کہ کیا دہشت گردی یا بنیاد پرستی کو صرف تہذیبوں کے دائرے کے اندر قید کر کے دیکھنا درست ہے؟

سمیوئل ہنٹنگٹن کا تہذ یبوں کے تصا دم کا نظر یہ کہ اب دنیا میں معا شی مفا دات سے بھی زیا دہ تہذیبی مفادات عالمی امور میں اہم کردار ادا کریں گے، جبکہ اسلام، مغربی تہذیب کے مد مقابل آئے گا ۔ ہنٹنگٹن کا یہ نظر یہ تو اسی وقت اپنی موت آپ مر گیا تھا کہ جب امریکہ اور برطانیہ نے کئی مسلمان ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر 2003ء میں عراق پر حملہ کیا تو اس حملے کے خلاف سب سے بڑے مظاہرے خود یورپی شہروں میں کئے گئے۔ گزشتہ کئی سال سے عراق و شام میں ہونے والی خانہ جنگی میں کیا مسلمانوں کو مسلمان ہی نہیں مار رہے؟ داعش، النصرہ اور القاعدہ جیسی تنظیمیں کیا مسلمانوں کے گلے نہیں کاٹ رہیں؟پاکستان میں گزشتہ دس سال کے عرصے میں50ہزار سے زائد مسلمانوں کو ہلاک کرنے والے کیا اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے؟کیا پشاور کے سکول میں 134 بچوں کو مارنے والے مسلمان نہیں تھے؟ مسلم ممالک میں مسلمانوں کے ہا تھوں مسلمانوں کی ہلا کتوں کے بعد اگر ہم خارجہ پالیسی میں تہذیبوں کے کردار کو دیکھیں تو ایک مسلمان مُلک (شام)کی مسلمان حکومت (بشار الاسد) کے خلاف جنگجوؤں کو ہتھیار اور امداد دینے والا ملک(سعودی عرب) کیا مسلمان نہیں؟

ایک مسلمان ملک (ایران) کے خلاف امریکہ کو حملے پر مجبور کرنے والے ممالک (سعودی عرب وخلیجی) کیا مسلمان نہیں ہیں؟ ایک کالم میں اتنی گنجائش نہیں، ورنہ تاریخ اور حالیہ عہد سے بہت سی ایسی مثالوں کو پیش کیا جا سکتا ہے کہ سیاسی، معاشی اور خارجہ امور کے تعین میں تہذیبوں کے تصادم کے نظریئے کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے۔ تہذیبوں کے تصادم کے نظریئے کو حالیہ عہد تو دور کی بات ہے، کسی بھی طور قرون وسطیٰ کا نظریہ بھی قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ قدیم ادوار اور قرون وسطیٰ میں بھی عسکری اور خارجہ پالیسیاں تہذیبوں کے تصادم سے زیادہ سیاسی و معاشی مفادات کے ہی تابع ہوتی تھیں۔پیرس حملے کو تہذیبوں کے تصادم کی ایک کڑی قرار دینے والے اس با ت کو کیوں نظر انداز کر رہے ہیں کہ جب شدت پسند مسلمان ’’چارلی ہیبڈو‘‘ کے دفاتر پر حملہ کر رہے تھے تو اس حملے کو روکنے کے لئے اپنی جان دینے والا پولیس اہلکار احمد میر ابیٹ ایک مسلمان ہی تھا۔

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ دہشت گردی کبھی کسی نظریئے، مذہب یا تہذیب سے جنم نہیں لیتی، بلکہ دہشت گردی کے دیگر بہت سے عوامل ہوتے ہیں اور جس دہشت گردی کو آج ’’اسلامی‘‘ یا ’’جہادی‘‘ دہشت گردی قرار دیا جا تا ہے،اس کا براہ راست تعلق امریکی سامراج کی ان پالیسیوں سے ہے جو اس نے سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ میں جہادیوں اور اسلامی شدت پسندوں کو بھرپور مالی اور عسکری امداد فراہم کر کے اختیار کی، جبکہ ماضی سے کوئی سبق نہ سیکھتے ہوئے امریکہ نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف ایک بار پھر اسلامی شدت پسندوں کی امداد کرنا شروع کر دی، جس کے نتیجے میں داعش سامنے آئی، جس کے با عث آج عراق اور شام سمیت کئی مسلمان ممالک کو دہشت گردی کا سامنا ہے۔مغربی ممالک اگر عرب ، افریقہ اور ایشیا میں شدت پسندو ں کو حمایت فراہم کر کے اپنے نتائج حاصل کرنا چاہیں گے تو یہ ممکن نہیں ہو گا کہ ان خطوں میں لگنے والی آگ کے شعلوں سے خود یورپ اور امریکہ محفوظ رہیں، ایسے میں دہشت گردی کو تہذیبوں کے تصادم میں دیکھنا قطعی طور پر درست نہیں۔ *

مزید : کالم


loading...