کیا انتہا پسندی صرف بندوق اٹھانے کا نام ہے؟

کیا انتہا پسندی صرف بندوق اٹھانے کا نام ہے؟
کیا انتہا پسندی صرف بندوق اٹھانے کا نام ہے؟

  


پیرس کے اخبار پر حملہ ہوا تو سب نے مذمت کی۔ اسے دہشت گردی قرار دیا اور جب فرانسیسی عوام نے اس واقعہ کے خلاف ملین مارچ کیا، تو اس میں بھی اسلامی ممالک کے بعض سربراہوں نے شرکت کر کے یکجہتی کا اظہار کیا۔ پاکستان کی طرف سے بھی واقعہ کی مذمت کی گئی اور عمومی طور پر پاکستانی ذرائع ابلاغ کی طرف سے بھی اخبار انتظامیہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ ساتھ ہی یہ باور بھی کرایا کہ آزادئ اظہار کے نام پر کسی مذہب یا اس کی مقدس ہستیوں کی توہین نہ کی جائے، کیونکہ آزادی کا مطلب یہ نہیں ہے۔چاہئے تو یہ تھا کہ ایبڈو اخبار کی انتظامیہ اس صورت حال کو غیر جانبداری کے ساتھ دیکھتی اور آئندہ احتیاط کرتی،مگر اس کی بجائے اخبار میں پھر گستاخانہ خاکے شائع کر دیئے گئے۔ اسے کم سے کم الفاظ میں ایک بھونڈی اور سطحی حرکت قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی اوباش لڑکے کو بُری حرکتوں سے منع کیا جائے، تو وہ چڑ کے مزید بری حرکتیں کرنے لگے۔ اخبار پر حملہ کرنے والے اُس وقت تک دہشت گرد تھے، جب تک یہ دوبارہ خاکے شائع نہیں ہوئے تھے، مگر اب انہیں مسلم دنیا میں ہیرو اور مجاہد کا درجہ دیا جا رہا ہے، کیونکہ اخبار انتظامیہ نے اپنے رویے سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ عادی’’مجرم‘‘ ہے اور سب کچھ جان بوجھ کر مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرنے کے لئے کر رہی ہے۔ اب اگر دوبارہ اُن کی اس انتہا پسندی کا جواب کوئی دیتا ہے، تو اسے دہشت گرد نہیں کہا جا سکے گا، کیونکہ اصل دہشت گردی یہ ہے کہ آپ کروڑوں مسلمانوں کی دِل آزاری کریں اور ڈھٹائی کے ساتھ اسے اپنا حق بھی قرار دیں۔

کل ہی پوپ فرانسس نے اپنے ایک بیان میں ایسی آزادئ رائے کو رد کیا ہے، جس سے کسی دوسرے مذہب کی توہین کا پہلو نکلتا ہو، یہاں تو ہمارے پیارے نبی ؐ کے حوالے سے گستاخانہ خاکے بنائے جاتے ہیں۔ فرانسیسی اور امریکی صدر نے اس بات کی بھرپور وکالت کی ہے کہ وہ آزادئ اظہار پر کوئی پابندی قبول نہیں کریں گے اور کسی دہشت گرد گروپ کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ مغرب کو اس حق سے محروم کرے۔ عجیب منطق ہے، آپ آزادئ اظہار کے نام پر ایک ایسی آزادی مانگ رہے ہیں، جو کھلم کھلا دہشت گردی جیسا انتہائی عمل ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان ممالک میں لاکھوں مسلمان بھی آباد ہیں۔ اگر آزادئ اظہار کا تعلق اُن کی دل آزاری سے ہے تو پھر وہ کیسے خود کو ان ممالک میں محفوظ اور مساوی حقوق کا حامل شہری سمجھ سکتے ہیں۔ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے لئے آخر یہ سب کچھ کیوں کیا جاتا ہے، اس کا واحد مقصد یہ ہے کہ دنیا کے آخری مذہب کے علمبردار اربوں انسانوں کو مشتعل کر کے اپنے مقاصد حاصل کئے جائیں۔ اہل مغرب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت دنیا میں جو انتہا پسندی نظر آتی ہے، وہ ردعمل کا نتیجہ ہے۔ اصل انتہا پسندی خود مغرب سے اٹھتی ہے، جس نے کہیں مسلمان ممالک پر قبضہ اور کہیں ان کے مذہبی جذبات کی توہین کر کے ایک ایسی فضا پیدا کی ہے، جو ردعمل میں ایسے واقعات کا سبب بن رہی ہے، جو پیرس میں پیش آیا، بجائے اصل جڑ کو ختم کرنے کے مغرب اپنی آزادئ اظہار پر اڑا ہوا ہے۔یہ دعویٰ کرتے ہوئے، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ دنیا کی کوئی آزادی بھی مادر پدر نہیں ہوتی،اس کی کچھ نہ کچھ حدود ہوتی ہیں اور اگر ان حدود کو توڑ دیا جائے تو دوسرے کی آزادی متاثر ہوتی ہے۔

دنیا میں بہت عرصے سے یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ کچھ طاقتیں تہذیبوں کا تصادم کرنا چاہتی ہیں، خاص طور پر اسلام کے خلاف اہلِ مغرب کی شرارت آمیز حرکتیں اس تصادم کی راہ ہموار کر رہی ہیں، جب امریکہ میں نائن الیون کا واقعہ ہوا تو امریکی صدر جارج بش نے بغیر سوچے سمجھے کہہ دیا کہ اب تہذیبوں کے درمیان جنگ شروع ہو چکی ہے۔ بعد ازاں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اپنے یہ الفاظ واپس لے لئے۔تاہم صرف الفاظ ہی واپس لئے۔ باقی ان کا سارا ایکشن مسلمانوں کے خلاف ہی رہا۔ نائن الیون کی آڑ میں مسلمان ممالک پر قبضے کئے گئے اور ان کی تہذیبی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ جب ردعمل میں ان ممالک کے عوام نے مزاحمت کی تو اسے دہشت گردی قرار دیا گیا۔اس حد تک تو دنیا نے اہل مغرب کی تھیوری کو تسلیم کر لیا کہ نائن الیون جیسے واقعات نہیں ہونے چاہئیں اور جنہوں نے یہ کیا ہے وہ دہشت گرد ہیں، لیکن اس کے بعد کیا ہوا،س سلسلے کو فلموں اور کارٹونوں تک بڑھا دیا گیا، پاکستان میں یو ٹیوب پر بندش اسی لئے ابھی تک چلی آ رہی ہے کہ باوجود بہت بڑے ردعمل کے گستاخانہ فلم کو وہاں سے ہٹایا نہیں گیا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی دنیا کے ان متعصب لوگوں کو دوسروں کے مذہبی جذبات کی کوئی پروا نہیں، نہ ہی وہ ان کے اس حق کو تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں اپنے عقیدے پر کاربند رہنے کا حق حاصل ہے اور کسی دوسرے کو اس کا مضحکہ اڑانے کی قطعاً آزادی نہیں، اہلِ مغرب نے انتہا پسندی کے جو معیارات قائم کر رکھے ہیں وہ انتہائی غیر منصفانہ ہیں وہ صرف بندوق اٹھانے کو انتہا پسندی قرار دیتے ہیں اور اُن کے نزدیک کسی انسان کا قتل ہی انتہا پسندی ہے۔ وہ اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ کسی کے عقیدے کی توہین بھی انتہا پسندی ہے اور درحقیقت یہی انتہا پسندی اس قتل و غارت گری تک بھی لے جاتی ہے، جس کی وہ مذمت کرتے نہیں تھکتے۔ پیرس کے اخبار پر حملہ کیوں ہوا، اس بارے میں تحقیق ہونی چاہئے تھی، لیکن اس کی بجائے40ممالک کے سربراہان نے جو اظہار یکجہتی کیا اس کا مطلب یہ نکلا کہ دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کرو اور یہ پیغام دو کہ ہم یہ کام کرتے رہیں گے۔ اگر ایک بُری روایت برقرار رہے گی تو اس کا ردعمل بھی ہو گا، کیا دنیا کو اسی طرح تقسیم کیا جاتا رہے گا اور قلم کی دہشت گردی کو بندوق کی دہشت گردی کے مقابلے میں جائز قرار دے کر اظہا رائے کی آزادی کے ڈھنڈورے پیٹے جائیں گے؟

گستاخانہ خاکوں کے خلاف دنیا بھر کے مسلمانوں میں پھر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔پاکستان میں بھی عوام سراپا احتجاج ہیں، کیونکہ ان کے ایمان کا معاملہ ہے، کوئی مسلمان بھی اپنے پیارے نبیؐ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ ناموس رسالت ؐ پر کٹ مرنے کی آرزو ر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ہماری لیڈر شپ کہاں ہے، اُمت مسلمہ کی اس حوالے سے کوئی اجتماعی آواز کیوں سامنے نہیں آتی۔ مسلمان ممالک کے جن سربراہان نے پیرس کے مظاہرے میں شرکت کی، انہیں یہ بھی کہنا چاہئے کہ مسلمانوں کے جذبات کا بھی احترام کیا جائے۔ ایسی کوئی حرکت نہ کی جائے ، جس سے مسلمانوں میں اشتعال پھیلے اور وہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوں، لیکن افسوس وہاں ایسی کوئی بات نہ کی گئی۔اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے بھی اس حوالے سے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔جب سے مغرب نے انتہا پسندی کو اسلحے سے جوڑا ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی ممالک کی قیادت صرف صفائیاں ہی دیتی ہے کہ ہمارے ہاں دہشت گرد نہیں یا ہم دہشت گردوں کی امداد نہیں کر رہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ فرانسیسی اخبار میں گستاخانہ خاکوں کی حمایت کر کے مغربی ممالک کی حکومتوں نے بھی انتہا پسندی کو سپورٹ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک اخبار جس کا کام خبر دینا ہے، وہ ایسے گستاخانہ خاکے کیوں شائع کرتا ہے، جس سے دوسروں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے اس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ایک خاص مذہب کے لوگوں کو اشتعال دِلا کے سستی شہرت حاصل کی جائے۔ یہ رویہ سرا سر انتہا پسندانہ ہے، جس کی مذمت کی جانی چاہئے، مگر افسوس کہ اہل مغرب اسے آزادئ اظہار کا نام لے لے کر ہر صورت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ہٹ دھرمی ایسے واقعات کو جنم دیتی ہے، جیسا کہ پیرس میں پیش آیا۔

اخبار کی طرف سے بڑی تعداد میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور اخبار کو کئی گنا زیادہ تعداد میں چھاپنے کا عمل اسی متعصبانہ ذہنیت کو ظاہر کرنا ہے، جو اہلِ مغرب کے اصل فکری رویے میں موجود ہے، جس کے تحت وہ اسلام کی تضحیک کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔او آئی سی کو اپنا ہنگامی اجلاس بُلا کے اس رویے کے خلاف قرارداد منظور کرنی چاہئے۔ بہتر تو یہ ہو کہ اسلامی ممالک کے سربراہ اس موقع پر اس طرح کا ایک مظاہرہ گستاخانہ خاکوں کے خلاف بھی کریں جیسا پیرس میں اخبار پر حملے کے خلاف کیا گیا تاکہ دنیا کو یہ واضح پیغام ملے کہ دنیا کا امن صرف اُسی صورت برقرار رہ سکتا ہے، جب تمام تہذیبیں اور مذاہب ایک دوسرے کا احترام کریں، لیکن شاید ایسا مظاہرہ نہ ہو سکے، کیونکہ اسلامی ممالک عالمی طاقتوں کے اڈے بن کر رہ گئے ہیں اور ان کے حکمرا ن اپنے عوام سے زیادہ مغربی دنیا کی آواز پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، جو ایک بڑا المیہ ہے۔ *

مزید : کالم


loading...