بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت ہے تو خاموشی کیوں؟

بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت ہے تو خاموشی کیوں؟

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان میں دہشت گردی کرنے والوں کو پاکستان کے ہمسایہ ملک کا تعاون حاصل ہے۔ لندن میں ایک تقریب کے دوران حالات پر بریفنگ کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن پر مسلسل چھیڑ چھاڑ پاکستان کی مسلح افواج کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متاثر کرتی ہے۔ میجر جنرل عاصم باجوہ اِن دنوں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ساتھ برطانیہ کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے برطانوی وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام کے علاوہ عسکری شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی مسلح افواج کے کارناموں اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور ان کی متشددانہ کارروائیوں سے آگاہ کیا۔ جنرل راحیل شریف نے بنیادی طور پر برطانیہ سے ان تنظیموں اور شخصیات کے حوالے سے بات کی جن پر پاکستان میں پابندی ہے اور وہ لوگ جن کا ذکر کیا گیا وہ پاکستان سے فرار ہو کر برطانیہ میں بیٹھے ہیں۔ ان کی طرف سے حزب التحریر اور بلوچ رہنماؤں کا ذکر کیا گیا۔

جہاں تک بھارتی مداخلت کا تعلق ہے تو یہ چرچا تو جنرل(ر) پرویز مشرف اور پھر پیپلزپارٹی کے دور میں بھی ہوتا رہا، بلکہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے تو ایک بار نام بھی لے لیا تھا اور شرم الشیخ(مصر) میں بھارتی وزیراعظم سے اس معاملے پر بات بھی کی تھی۔ پیپلزپارٹی کے دور میں امریکی انتظامیہ کو بھی مداخلت کے ثبوت مہیا کئے گئے تھے اور اب بھی ایسا کیا گیا ہو گا، کیونکہ اب تو بھارت کے بڑے بڑے اہم عہدیداروں نے ریٹائرمنٹ کے بعد تسلیم کیا کہ بھارت پاکستان میں مداخلت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، جب سے بی جے پی برسر اقتدار آئی اور نریندر مودی وزیراعظم بنے ہیں پاکستان کے خلاف معاندانہ کارروائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے، کنٹرول لائن پر جو مِنی جنگ شروع کی گئی ہے، وہ نہ صرف بھارت کے اندر پاکستان دشمن جذبات کو ابھارنے کے لئے ہے، بلکہ یہ بھی سو فیصد درست ہے کہ اس کا مقصد فوج کی توجہ تقسیم کرنا ہے کہ اب دہشت گردوں کے خلاف کارروائی فیصلہ کن نتیجے کی طرف جاری ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ نے جہاں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے وہاں اب انہوں نے افغانستان کے بعد برطانیہ جا کر پاکستان کی کارروائیوں کی وضاحت کی ہے، جہاں تک بھارتی مداخلت کا تعلق ہے تو پاکستان کے پاس اس کے کئی ثبوت ہیں۔ سوات آپریشن کے دوران مارے جانے والے بعض دہشت گرد غیر مسلم اور غیر پختون بھی تھے، ان کا تعلق بھارت ہی سے بنتا ہے۔اس حوالے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پاکستان کے پاس اتنے مستند ثبوت ہیں تو پھر ڈپلومیسی کا کیا تعلق کہ بھارت کا نام ہی نہ لیا جائے، حالانکہ بھارت تو پاکستان کے خلاف جھوٹے الزام لگانے سے نہیں چوکتا۔ یہ درست کہ ماضی میں امریکیوں کو یہ بتایا گیا اور اب بھی جب جان کیری اسلام آباد آئے تو ان کو بھی بھارتی حرکتوں سے آگاہ کیا گیا، لیکن معذرت خواہانہ رویہ بھی تو اختیار کیا گیا، حالانکہ ثبوت ہیں تو دنیا میں کھلی نہیں تو سفارتی مہم ضرور شروع کی جانا چاہئے۔ جنرل راحیل شریف آرمی چیف ہیں وہ تو اپنے حقیقی فرائض سے دو قدم آگے بڑھ کر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سرگرم ہیں۔ اصل فرض تو حکومت کا ہے کہ وہ عالمی سطح پر یہ باور کرائے کہ بھارت مداخلت کر رہا ہے اور سفارتی سطح پر کوشش کی جائے۔

مزید : اداریہ


loading...