توہین آمیزخاکوں کی دوبارہ اشاعت قا بل مذمت ہے

توہین آمیزخاکوں کی دوبارہ اشاعت قا بل مذمت ہے

قومی اسمبلی نے جمعرات کو فرانسیسی رسالے چارلی ایبڈو کے تازہ شمارے میں ایک بار پھر توہین آمیز خاکے کی اشاعت کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ ایوان نے اقوام متحدہ، یورپی یونین اور او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت روکنے کے لئے بھرپور اور موثر اقدامات کئے جائیں۔ مذمتی قرارداد خواجہ سعد رفیق نے پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ایوان آزاد�ئ اظہار رائے پر یقین رکھتا ہے تاہم عوام کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی مذمت کرتا ہے۔گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے دنیا بھر میں بسنے والے ایک ارب 70 کروڑ سے زائد مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، ایسے واقعات دہشت گردی اور تشدد کو فروغ دیتے ہیں ، اس عمل سے دہشت گرد فائدہ اٹھا سکتے ہیں، لہٰذا کسی بھی مذہب کی توہین نہیں ہونی چاہئے۔ بعدازاں اراکین نے احتجاجی مارچ بھی کیا۔ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف مذہبی جماعتوں نے بھی جمعتہ المبارک سے ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کر دی،ملک بھر میں شہرشہر ریلیوں ، جلسے جلوسوں اور اجتماعات کا اہتمام کیا گیا۔ صرف پاکستان ہی نہیں، دنیا بھر میں ان خاکوں کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔

مسیحیوں کے بڑے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے بھی ان خاکوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ آزاد�ئ اظہار ہر انسان کا بنیادی حق ہے، مگر اس کی کچھ حدود بھی ہیں، اس حق کے نام پر کوئی کسی کے عقیدے کی توہین نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی ان کی ماں کو گالی دے تو اس کو جواباً مُکے کی توقع بھی رکھنی چاہئے، یہ بالکل عام رد عمل ہو گا۔ اگر آپ کسی دوسرے کی محبوب چیزوں کی توہین کریں تو یہ قدرتی عمل ہے کہ وہ رد عمل دے۔ان کا کہنا تھا کہ مذہب کسی کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا، مگر مذہب کے معاملے میں عزت و احترام کو روا رکھا جانا چاہئے۔

چارلی ایبڈو ایک فرانسیسی رسالہ ہے، جس کی اشاعت گزشتہ44 سال سے جاری ہے۔یہ رسالہ کئی سال سے اسلام اور دوسرے مذاہب کے خلاف توہین آمیز خاکے شائع کرنے کی وجہ سے بدنام ہے۔ چند روز قبل پیرس میں اس رسالے کے دفتر پر تین شدت پسندوں نے حملہ کر کے 12افراد کی جان لے لی تھی، ہلاک ہونے والے افراد میں اس رسالے کا ایڈیٹر اور کارٹونسٹ بھی شامل تھے۔ حملے کی ذمہ داری القاعدہ کے یمن ونگ نے قبول کر لی تھی۔اس کا کہنا تھا کہ اس طرح اسلام اور حضرت محمدﷺ کے گستاخانہ خاکے چھاپنے کا بدلہ لیا گیا ہے۔ اس حملے کا سبب جو بھی تھا پوری مسلم اُمہ نے اس کی پُر زور مذمت کی اور اسے اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا۔ بعض مسلمان مماملک کے سربراہان نے اتوار کو ہونے والے ملین مارچ میں شامل ہو کر اس حملے کے خلاف فرانس کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کیا ۔پوری دنیا کو پیغام دیا کہ اسلام امن و آشتی کا سبق دیتا ہے اور اسلامی تعلیمات میں اس قسم کے حملوں کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

لیکن چارلی ایبڈو نے اخلاقی قدروں اور مسلمانوں کے احساسات بالائے طاق رکھتے ہوئے بدھ کو جاری ہونے والے اپنے تازہ شمارے کے سر ورق پر ایک بار پھر توہین آمیز خاکہ چھاپ دیا۔ اس ایڈیشن کو ’سروائیور‘ کا نام دیا گیا ہے،رسالے کے عملے کا موقف تھا کہ اس خاکے کو چھاپنے کا مقصد یہ ہے کہ انہوں نے اس حملے میں ملوث دہشت گردوں کو معاف کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو بھی اس کو مزاح کے طور پر ہی لینا چاہئے۔ عام طور پر اس ہفتہ وار رسالے کی60ہزار کاپیاں چھاپی جاتی تھیں، لیکن اب اس شمارے کو کئی گنا زیادہ چھاپا گیا ہے۔ دفتر سیل ہونے کے باعث چارلی ایبڈو کے عملے نے ایک اور جریدے ’لبریشن‘ کے دفتر میں بیٹھ کراس ایڈیشن کو شائع کیا۔ اس شمارے میں صرف چارلی ایبڈو کے عملے کی تحریریں اور خاکے ہی شامل کئے گئے ہیں۔ آٹھ صفحات پر مشتمل اس ایڈیشن کو چھ زبانو ں میں جاری کیا گیا ہے۔

پوری دنیا میں ان خاکوں کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے، مسلمانوں ہی نہیں اخلاقی اقدار پر یقین رکھنے والوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔جامعتہ الازہر کی جانب سے بھی اس کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا اور ترک وزیراعظم نے بھی اسے ناقابل برداشت قرار دیا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق انہوں نے کہا توہین آمیز خاکوں کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔لیکن فرانسیسی صدر فرانسوا اولاندا اپنی پرانی ڈگر پر قائم ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ مذہبی جنونیت سے خود مسلمان سب سے زیادہ متاثر ہوئے،ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ فرانس میں دیگر شہریوں کی طرح مسلمانوں کو بھی یکساں حقوق حاصل ہیں، تمام مذاہب کی عبادت گاہوں پر یکساں قانون نافذ ہوتا ہے۔ خاکوں کی اشاعت کے بارے میں ان کا خلط مبحث یہ ہے کہ لوگوں کو قتل کر سکتے ہیں، لیکن ان کے تصورات کو نہیں مار سکتے۔

یاد رہے کہ یہ وہی فرانس ہے، جہاں 2010ء میں مسلم خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی لگا دی گئی تھی، اس وقت نجانے آزاد�ئ اظہار اورآزادی رائے جیسا فلسفہ کہاں سویا ہوا تھا؟کیا آزاد�ئ اظہار کا مطلب دوسروں کے مذاہب اور تعلیمات کا مذاق اڑانا ہے؟ ہم ایک سمٹی ہوئی دنیا میں رہتے ہیں، مہذب معاشروں کے باسی ہیں،ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام سب پر لازم ہے۔ بے گناہ افراد پر حملہ اسلامی تعلیمات کے منافی تھا، لیکن رسالے کی جانب سے دوبارہ توہین آمیز خاکے چھاپنے سے تو صرف اور صرف فساد برپا ہو گا، نفرتیں اور بڑھیں گی۔کسی بھی مذہب کی سر عام تضحیک کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔جان بوجھ کر اپنے غلط رویے پر قائم رہنا آزاد�ئ رائے نہیں ،بلکہ ضد اور ہٹ دھرمی ہے ۔ہر ایسا عمل قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہے، جس کے ردعمل میں کوئی بھی فتنہ جنم لے۔

مزید : اداریہ


loading...