پی سی بی سنٹرل کنٹریکٹ میں پرفامنس کی بجائے بڑے ناموں کو ترجیح دی گئی

پی سی بی سنٹرل کنٹریکٹ میں پرفامنس کی بجائے بڑے ناموں کو ترجیح دی گئی

لاہور ( سپورٹس رپورٹر ) پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کو دئیے جانے والے سنٹرل کنٹریکٹ میں پرفارمنس کی بجائے بڑے ناموں کو ترجیح دئیے جانے کا انداز ہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ کنٹریکٹ کی ڈی کیٹگری میں شامل آٹھ کھلاڑی ورلڈ کپ سکواڈ کا حصہ ہیں جبکہ اے کیٹگری کے پانچ بی کے دو او رسی کیٹگری میں شامل کوئی کھلاڑی میگا ایونٹ کیلئے ٹیم میں جگہ نہیں بناسکا۔ سنٹرل کنٹریکٹ کیلئے فہرست کی تیاری میں پی سی بی حکام کی جانب سے ذاتی پسند نا پسند سفارش ، اقرباء پروری اور میرٹ کو نظر اندازکئے جانے کی شکایات معمول بن چکی ہیں اور ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہ اور وسیع تجربہ کے حامل پی سی بی کے ڈائریکٹرز اور جنرل منیجر کنٹریکٹ جاری کرنے کیلئے تاحال شفاف نظام وضع کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ چند ماہ قبل پی سی بی حکام نے لیجنڈری بیٹسمین یونس خان کو بھی سنٹرل کنٹریکٹ کی اے کیٹگری سے ڈراپ کر دیا جس کا انہوں نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف ریکارڈ ساز پرفارمنس سے منہ توڑ جواب دیا۔ میگا ایونٹ کیلئے ڈی کیٹگری سے سکواڈ میں جگہ حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں صہیب مقصود، سرفراز احمد، احسان عا دل، محمد عرفان، وہاب ریاض، حارث سہیل، یاسر شاہ اور سہیل خان شامل ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ورلڈ کپ جیتنے کیلئے بھی کپتان مصباح الحق سمیت بورڈ حکام کا انحصار ڈی کیٹگری کے کھلاڑیوں پر ہی ہے ۔یاسر شاہ اور سہیل خان کو حال ہی میں سنٹرل کنٹریکٹ کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ا س سے قبل یہ کھلاڑی نہ تو سلیکشن کمیٹی کی نظروں میں آئے اور نہ ہی پی سی بی حکام نے انہیں کنٹریکٹ دینا مناسب سمجھا۔پی سی بی ہر ماہ کھلاڑیوں کو سنٹرل کنٹریکٹ کی مد میں لاکھوں روپے کی ادائیگی کرتا ہے تاہم ہر بار چند مخصوص کھلاڑی ہی اے او ربی کیٹگری میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں جس سے نوجوان کھلاڑی سخت مایوسی کا شکار ہیں۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی


loading...